اعصاب کیوں اور کس کے چٹختے ہیں ؟

جن توپوں کا رخ پنامہ رپورٹ سے قبل نواز شریف کی جانب تھا وہ یکایک اب ہم پر حملہ آور ہیں اور لطف کی بات یہ کہ اعصاب چٹخنے کا طعنہ بھی ہمیں ہی دے رہے ہیں، ہمیں اعصاب چٹخنے کا طعنہ تب دیجئے گا جب ہم عمران، وٹس ایپ ججز اور جرنیلوں کو چھوڑ کر آپ جیسے پیادوں سے الجھنے کی غلطی کر بیٹھیں.

چلیے آپ کو تفصیل سے سمجھاتے ہیں کہ اعصاب چٹختے کیوں ہیں؟ 2014ء میں عمران اور شیخل کا مارچ لاہور سے روانہ ہونے لگا تو آپ نے کہا یہ مارچ اسلام آباد پہنچنے سے قبل حکومت کو روند ڈالے گا، ہم نے کہا کچھ بھی نہیں کر سکے گا، تب دعوی ہمارا درست ثابت ہوا آپ کا نہیں. جب عمران اور شیخل اپنے اپنے دھرنوں میں بیٹھ کر انگلیاں مانگ رہے تھے تو آپ نے کہا کہ کسی بھی وقت انگلی اٹھنے والی ہے، ہم نے کہا کہ اولا ً اٹھے گی نہیں اور اگر اٹھی بھی تو مڈل فنگر اٹھے گی، تب بھی دعوی ٰ ہمارا ہی درست ثابت ہوا آپ کا نہیں. پھر عمران اور شیخل کے اعصاب چٹخنے لگے اور وہ ریڈ زون میں جا گھسے، آپ نے وہ منظر دیکھ کر اسے”انقلاب”قرار دیا، ہم نے اس کی تردید کی، تب بھی ہماری ہی بات درست ثابت ہوئی آپ کی نہیں. وہ پارلیمنٹ اور پی ٹی وی پر حملہ آور ہوئے تو آپ نے کہا بس آج نواز شریف گیا کہ گیا، ہم نے کہا وہ نہیں جائے گا، تب بھی ہمارا ہی کہا درست ثابت ہوا آپ کا نہیں.

دھاندلی کی تحقیق کے لئے کمیشن بنا تو آپ نے امیدیں باندھ لیں، ہم نے کہا ذلت کے سوا کچھ ہاتھ نہیں آئے گا، قدرت نے ہمارا کہا ہی آپ کا مقدر بنا دیا، آپ کا کہا ہمارا مقدر نہ بن سکا. عمران نے استعفے دیے تو آپ نے اسے ترپ کا پتہ قرار دیا، ہم نے کہا یہ تھوک ہے جسے وہ خود چاٹیں گے، اور ساری دنیا نے وہ تھوک چٹتے دیکھا، یہ بھی ہماری جیت تھی آپ کی نہیں. لطف کی بات یہ کہ 27 اگست 2014ء کو پاکستان کے تیسرے بڑے اخبار کے ایک اہم رکن نے انباکس میں آ کر بتایا۔۔۔”ہمیں نواز حکومت کی ایک سالہ کار کردگی پر پیج تیار کرنے کا حکم آ گیا ہے، چیف ایڈیٹر نے کہا ہے کہ آج رات حکومت برطرف کردی جائے گی”
ہم نے کہا۔۔
سوال ہی نہیں پیدا ہوتا، ایسا کچھ بھی نہیں ہو رہا، کل صبح بھی یہی حکومت موجود ہوگی۔۔
نرم سا طنز فرماتے ہوئے کہا گیا۔۔
ہمارے چیف ایڈیٹر کا 50 سال سے زیادہ صحافتی تجربہ ہے۔۔

اگلی صبح نواز شریف ہی کی حکومت تھی، پیج دھرے کا دھرا رہ گیا. آگے چل کر لاک ڈان کا مرحلہ آیا تو اس موقع پر بھی سب وہ درست ثابت ہوا جو ہم نے کہا اور آپ کی قسمت میں دھول کے سوا کچھ نہ آیا. آپ کو اندازہ ہی نہیں کہ اس بار سازشی ٹولے کی سب سے بڑی کمزوری یہ ہے کہ وہ نواز شریف کو اپنی چھڑی یا ہتھوڑے کے ذریعے نہیں بلکہ ڈرا کر مستعفی کرنا چاہتا ہے تاکہ مظلوم نہ بن سکے اور اعصاب کی اس گیم میں نواز شریف ان کا باپ ثابت ہوتا آ رہا ہے، اعصاب کی اس جنگ میں نواز نے استعفے دیا تو سمجھو ہار گیا، چھڑی یا ہتھوڑے نے رخصت کیا تو یہ اس کی وہ فتح ہوگی جس کے شادیانے 2018ء کے الیکشن میں گونجیں گے.

نواز شریف اور سازشیوں میں سے کس کے اعصاب چٹختے ہیں یہ تو ابھی طے ہونا باقی ہے لیکن ہم سے تو اعصاب کی یہ جنگ آپ ہار چکے کیونکہ آپ کا ہر دعویٰ اور ہر امید خاک میں ملتی آ رہی ہے. کبھی آپ ہماری وال پر تشریف لانا اپنی توہین سمجھتے تھے، اب روز ناشتے کے بعد ہم ہی آپ کے فرمان امروز کا موضوع ہوتے ہیں اور ہم ہیں کہ سوچتے ہیں ہارے ہوئے لوگوں سے کیا لڑنا ؟ آپ کو آئینہ دکھانا ضروری تھا سو دکھا دیا، اب آپ لگیں رہیں، ہمارا ہدف آپ نہیں بلکہ جج اور جرنیلوں کا گٹھ جوڑ ہی رہے گا، ہم مہروں اور مہروں میں بھی پھر پیادوں سے نہیں الجھتے، پیادے بھی وہ جو 4 سال میں فتح کا ایک بھی پرچم نہ لہرا سکے !

رعایت اللہ فاروقی
رعایت اللہ فاروقی
محترم رعایت اللہ فاروقی معروف تجزیہ نگار اور کالم نگار ہیں۔ آپ سوشل میڈیا کے ٹاپ ٹین بلاگرز میں سے ہیں۔ تحریر کے زریعے نوجوان نسل کی اصلاح کا جذبہ آپکی تحاریر کو مزید دلچسپ بنا دیتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *