مزاحمت۔۔۔عمران بخاری

مزاحمت زندگی کی علامت ہے۔ انسان ہمیشہ اُس چیز کے چھن جانے پر مزاحمت کرتا ہے جو اسے بہت عزیز ہو۔ انسان کی فطرت میں جہاں بہت سی عزیز تر جاں چیزوں کی محبت پائی جاتی ہے وہاں سب سے بنیادی اور قوی تر محبت اپنے آزاد ارادے یا آزاد مرضی کی محبت ہے ۔ اسے ہم اصطلاحی معنوں میں جذبۂ حریت سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہ جذبہ انسان کی فطرت میں اتنا گہرا اور مضبوط ہے کہ اللٰہ نے بھی انسان سے اپنی بندگی کا تقاضا اسی جذبے کے ساتھ مشروط کر کے ہی کیا ہے۔ یعنی محض اطاعت اللٰہ کو بھی منظور نہیں جب تک کہ انسان کی محبت اور آزاد ارادہ اس اطاعت کے ساتھ شامل نہ ہو جائے۔ اس جذبۂ حریت کی جڑیں انسان کے تحت الشعور میں پائی جاتی ہیں اور جب یہ جذبہ انسان کے تحت الشعور سے شعور کی سطح پر آتا ہے تو مزاحمت کو جنم دیتا ہے۔

یہ مزاحمت تب شروع ہوتی ہے جب انسان انفرادی یا اجتماعی سطح پر خود کو کسی جبرکے تابع محسوس کرتا ہے۔ انفرادی سطح پر یہ جبر نفسیاتی بھی ہو سکتا ہے اور حیاتیاتی بھی۔ نفسیاتی جبر انسان تب محسوس کرتا ہے جب اسے اپنی عقل اور دانش کے ترفع اور نمو میں رکاوٹ محسوس ہو۔ جب انسان خود کو عقل اور دانش کے لحاظ سے کمتر لوگوں کے تابع محسوس کرے۔ جب اسے اپنی عقل اور دانش کے خلاف کسی کمتر سطح پر رہ کر کام کرنا پڑے۔ اس نوعیت کی بغاوت کی مثال سقراط ہے۔ فکر اور دانش کے جس مقام کو وہ پا چکا تھا اُس سے کم تر لوگوں کی اطاعت قبول کرنے سے اس نے انکار کر دیا۔ اسی طرح حیاتیاتی جبر انسان تب محسوس کرتا ہے جب اس کے جسمانی وجود کے نمو اور تسکین کے لیے ضروری اسباب اسے میسر نہ کیے جا رہے ہوں۔ ان دونوں صورتوں میں انسان بغاوت کا راستہ اختیار کرنے پر خود کو مجبور پاتا ہے۔ بغاوت مزاحمت ہی کی ایک شکل ہے۔ یہ بغاوت انسان کو منفی طریقۂ  کار کی طرف بھی دھکیل سکتی ہے اور مثبت طرزِ عمل پر بھی گامزن کر سکتی ہے۔ اس بغاوت کا نتیجہ تخریب تب نکلتا ہے جب اس کے پیچھے کارفرما قوت جذبات یا ہیجان (Emotions) کی ہو۔ انسان کے پیشِ نظر چونکہ اپنی ہیجانی کیفیت (جو کہ اپنے دورانیے میں عارضی ہوتی ہے) سے چھٹکارا پانا ہوتا ہے تو انسان کسی ایسے شارٹ کٹ کو ترجیح دیتا ہے جس سے اس کی ہیجانی کیفیت فوراً ختم ہو سکے۔ لوگوں کی اکثریت میں اس ہیجان کی وجہ حیاتیاتی ضروریات (Biological Needs) سے محرومی ہوا کرتا ہے۔ اس کے برعکس اگر بغاوت کے پیچھے کارفرما قوت عقل و شعور ہو تو انسان کسی بھی قسم کے شارٹ کٹ یا تخریبی راستے سے اجتناب کرتا ہے۔ جن لوگوں کی مزاحمت جذبات کی بجائے شعور کے تابع ہو ایسے لوگ اپنے کسی بھی عمل کے منفی یا مثبت نتائج سے بخوبی آگاہ ہوتے ہیں۔

اجتماعی سطح پر مزاحمت تب جنم لیتی ہے جب انسانوں کی عظیم اکثریت خود کو معاشرتی، معاشی یا سیاسی دائروں میں اپنے آزاد ارادے اور بنیادی ضروریاتِ زندگی سے محروم محسوس کرنے لگے۔ ان میں سب سے بنیادی ضرورت معاشی اور معاشرتی عدل ہے۔ حضرت علی رضی اللٰہ عنہ کے بقول کوئی بھی معاشرہ کفر پر تو قائم رہ سکتا ہے لیکن ظلم پر قائم نہیں رہ سکتا۔ جب حال یہ ہو کہ کسی ایک طبقے کے لیے تو قانونی اور سماجی مراعات اور ہوں اور دوسرے طبقے کے لیے اور، اسی طرح معاشرے کی عظیم اکثریت معاشی استحصال کی چکی میں پِس کر ڈھور ڈنگر کی سی زندگی گزارنے پر مجبور ہو تو اجتماعی بغاوت ناگزیر ہوا کرتی ہے۔ جب معاشرے کی عظیم اکثریت خطِ غربت سے نیچے کی زندگی گزار رہی ہو تو اصلاح کا مذہبی طریقۂ کار بھی غیر مؤثر ہو جاتا ہے۔ یعنی ایسی صورتِ حال میں لوگوں کو اللٰہ سے جوڑنے کی کوشش کرنا جنت الحمقاء میں رہنے کے مترادف ہے۔ اس حقیقت کا اظہار ایک حدیث میں یوں ملتا ہے کہ “فقر کفر تک پہنچا دیتا ہے”۔ اسی طرح سیاسی سطح پر جب لوگ یہ محسوس کرنے لگیں کہ اپنے حکمرانوں یا خدمت گاروں کو چننے کا اختیار ان سے چھین لیا گیا ہے یا انہیں یہ شعوری احساس ہو جائے کہ ان کے آزاد ارادے پر کوئی بھی قوت اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہی ہے تو مزاحمت ناگزیر ہے۔ اس کی تازہ مثال ہمیں گذشتہ برس ترکی میں دیکھنے کو ملی جب عوام نے اپنے حق حکمرانی پر ڈاکہ ڈالنے کی کوشش کرنے والے ایک فوجی گروہ کے خلاف مزاحمت کر کے دنیا کو حیران کر دیا۔ اسی طرح ہمیں ایران میں بھی عوامی شعور مذہبی طبقے کے جبر اور استبدادکے خلاف مزاحمت کے راستے پر گامزن نظر آتا ہے۔

اجتماعی سطح پر ہو یا انفرادی، مزاحمت کی جدوجہد ہمیشہ ناکامی سے دوچار ہوئی ہے جب اس میں جذباتیت ہوش اور دانشمندی پر غالب ہوئی۔ فلسطین کی تحریکِ آزادی کو سب سے زیادہ نقصان اُس جذباتی پن نے پہنچایا جس نے پہلے یاسر عرفات اور بعد میں حماس کو ہتھیار اٹھانے پر اکسایا۔ یہی حال کشمیر کی تحریکِ آزادی کا ہوا۔ عرب بہار بھی اسی لیے عارضی ثابت ہوئی کہ اُس کے پیچھے کارفرما جذبہ ہیجانی تھا۔ ہیجان ختم، بہار ختم۔ اور تاریخ گواہ ہے کہ مزاحمت وہی کامیاب ہوئی ہے جس میں ہوش اور دانش جذبات پر حاوی رہے۔ مزاحمت کی کامیابی کے لیے جہاں شعور کا جذبات پر فوقیت رکھنا لازم ہے وہاں دوسرا اہم پہلو اجلت پسندی یا جلد بازی سے اجتناب ہے۔ دراصل جذباتیت ہی اجلت پسندی کو جنم دیتی ہے۔ مزاحمت کا مقابلہ ہمیشہ مزاحمت سے ہی ہوتا آیا ہے۔ محروم اپنے حق کے چھن جانے پر مزاحمت کرتا ہے اور غاصب اپنی طاقت اور قبضہ کے چھن جانے کی کوشش کے خلاف مزاحمت کرتا ہے۔ جیتا ہمیشہ وہی ہے جس نے ہوش یا شعور کو خود پر غالب رکھا اور استقامت کا دامن تھامے رکھا۔ مزاحمت کا بیج اپنا پھل دنوں میں نہیں بلکہ سالوں یا صدیوں میں لاتا ہے۔

عمران بخاری
لیکچرار، قومی ادارہءِ نفسیات، قائدِ اعظم یونیورسٹی اسلام آباد

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *