م . ح . م . د. کی باتیں۔۔رفعت علوی/قسط1

 اترے گا کہاں تک کوئی آیات کی تہہ میں

قرآن تیری خاطر ابھی مصروف ثنا ہے

اب اور بیاں کیا ہو کسی سے تیری مدحت

یہ کم تو نہیں ہے کہ تو محبوب خدا ہے!

ماضی کا جوان رعنا، دبلا پتلا گورا چٹا شعلہ بیاں مقرر شہریار قدوسی اب فربہی مائل ایک ادھیڑ عمر کے صاحب علم اور مشہور عالم دین کی صورت میں ہمارے  سامنے تھا، سفید ہوتی ہوئی مختصر خشخشی سی داڑھی، سیاہ تیز مگر جھکی جھکی غلافی آنکھیں، لوگوں سے نظر ملا کر بات نہیں کررہا تھا، چہرے پر عالموں جیسی رونق، وظیفوں اور آیات کریمہ کا ورد کرتا دعائیں دیتا ماضی کے اس شوخ و شنگ اسمارٹ شہریار سے بالکل الگ تھا جو ہمارا بےتکلف دوست تھا، وہ شہریار جو ہمارے ساتھ رمضانوں میں ختم قرآن کی میٹھائیاں جمع کرنے کےلئے ایک مسجد سے دوسری مسجد کا چکر لگایا کرتا، کبھی پیدل کھارادر سے آرام باغ کی مسجد کے چکر لگتےاور کبھی ایک ہی رکشے میں ٹھنس کر ہم سب بھائی دوست بندر روڈ کی راہ لیتے اور وہاں کی مساجد سے ختم قرآن کی نیاز حاصل کرکے فاتح وکامران لوٹتے.

مگر  ذرا ٹھہریں ! بات  ذرا آگے نکل گئی، ناسٹلجیا کا سحر ہی ایسا ہے  کہ یاد آگے نکل جاتی ہے  اور اس کے پیچھے بھاگتے بھاگتے قلم کی سانس پھول جاتی ہے، میں آپ کو  ذرا تفصیل سے بتاتا  ہوں  ہوا ،یوں کہ سلمان جاوید صاحب نے فرمائش کی کہ مشاعرے اور ادبی نشستیں بہت ہو چکیں ، اس بار ربیع الاول کے مہینے کی مناسبت سے کوئی تقریب برپا کی جائے، سلمان صاحب ہمارے پرانے مربی، سرپرست اور دوست تھے اور ان دنوں امارات میں پی آئی اے کے اسٹیشن منیجر تھے، بہت ہی سوشل اور باذوق نہ صرف ہر محفل میں موجود ہوتے بلکہ اپنے گھر پر بھی محفلیں سجانے کے شوقین.

ان کی فرمائش آئی تو میں سوچ میں پڑ گیا کہ کیا کیا جائے، یہ لالچ بھی تھا کہ اگر پاکستان سے کسی نعت خواں اور عالم دین کو بلایا جائے تو ان کے ائیر ٹکٹ کا انتظام تو سلمان صاحب کے ہی ذمہ ہوگا، ہیں  صرف مہمانوں کے رہنے اور معاوضے کا انتظام کرنا  ہوگا ،بہت سوچا، کبھی صدیق اسماعیل صاحب کا نام ذہن میں آئے کبھی قاری ظفر قاسمی صاحب کا، ہم بارہ  ربیع الاول کو  یہ پروگرام کرنا چاہتے تھے مگر معلوم ہوا کہ یہ “سیزن” ہوتا ہے  ان سیلیبرٹیز کا، مہینوں پہلے سے ہی ان کی بکنگ ہوتی ہے، پورے مہینے بھر سارے بڑے نام ٹی وی اور بڑے بڑے مذہبی اجتماعات کے لئے بک ہوتے ہیں اور اس کے عوض خطیر معاوضہ پاتے ہیں ،لہذا کوئی اسکالر بھی ایسے پیک سیزن پر ملک چھوڑنے پر تیار نہ ہوا.

اتفاق ایسا ہوا کہ ایک پارٹی میں آفتاب شفیق اور ان کی بیگم فریدہ قدوسی سے ملاقات ہوئی، فریدہ قدوسی اور فریدہ کے بھائی شہریار قدوسی کراچی کے اچھے وقتوں کے شعلہ بیاں مقرر تھے اور ہمارے بڑے بھائیوں کے ساتھ ڈیبیٹ بولتے تھے بعد میں شہر یار قدوسی مباحثوں کی دنیا سے نکل کر ریڈیو پاکستان کراچی کے مذہبی پروگرام سے منسلک ہوگئے اور پھر عملی زندگی میں باقاعدہ مذہبی اسکالر کی حیثیت سے ابھرے، اخباروں، ٹیلی ویژن اور ریڈیو پاکستان سے نکل کر ان کی شہرت پورے پاکستان میں پھیل گئی ۔آفتاب اور فریدہ سے مشورہ کرکے میں نے شہریار کو فون کیا، کہنے لگے یار سیزن ہے  سب ہی بزی ہیں، مناسب ٹیم نہیں بن سکے گی ، میں تو خیر علویز کی محبت میں آ جاؤں گا،

میرے بہت اصرار اور اپنی بہن کے زور دینے پر انھوں نے ایک ٹیم کے نام فائنل کیے، حافظ مسقیم، قاری فیض جلیل نقشبندی اور مشہور نعت خواں سعید ہاشمی اور آج جبکہ لوگوں کے دل جذب اور احترام سے دھڑک رہے تھے، ہمارے گھر کا وسیع ہال خواتین اور حضرات سے بھرا پڑا تھا، تل رکھنے کو جگہ نہ تھی ۔لوگ باہر لان پر پڑی کرسیوں پر  بیٹھے حافظ مستقیم کی قرات کے سحر میں ڈوبے ہوئے تھے ،کیا اسٹیمنا تھا حافظ صاحب کا، چالیس منٹ تک مسلسل قرات، جہاں وہ کچھ دیر کے لئےرکتے وہاں سے نقشبندی صاحب سورۂ اٹھا کر تلاوت شروع کر دیتے اور اس طرح قرات کا یہ تسلسل ختم نہ ہوتا اور جب انھوں نے سورۂ الرحمان کی آخری آیت اپنی سحر انگیز آواز کے زیر و بم میں ختم کی تو پورا گھر جزاک اللہ اور سبحان اللہ کی آوازوں سے گو نج اٹھا.

شہریار قدوسی کو مولانا یا کسی اور اعزازی ناموں سے پکارنا مجھے کچھ عجیب سا لگ رہا ہے مگر حقیقت یہ تھی کہ اس کی فصاحت و بلاغت اور زور بیاں ایسا تھا “وہ کہیں اور سنا کرے کوئی،” کیا الفاظ اور جملے کشید کرتے تھے، کہنے لگے میں آپ سب سامعین کو دعوت فکر دیتا ہوں، رفعت صاحب کو بھی جو اکاؤنٹنٹ ہیں اور جاوید علوی صاحب کو بھی جو کمپیوٹر کے ماہر ہیں اور آپ سب کو بھی اس مشاھدے پر دعوت فکر ہے “محمد” کے نام نامی میں چار حرف ہیں مگر یہ چار حروف پوری کائنات پر چھائے ہوئے ہیں اللہ میں چار حرف ہیں تو محمد میں چار حرف، قرآن میں چار لفظ ہیں  تو مومن میں چار لفظ، مخیر ہے  چار لفظی تو صادق میں چار ہیں، اعلی میں چار ہیں تو بالا میں چار ہیں  شریعت بھی چار ہیں  اور طریقت بھی چار ہیں، ملائک بھی چار ہیں اور خلفائے راشدین بھی چار ہیں، اذان میں چار حرف ہیں تو مسجد میں چار ہیں، قیام   میں بھی چار ہیں قعدہ میں بھی چار ہیں ، چار حرف رکوع میں بھی ہیں اور سجدہ میں چار ہیں

واقعہ کربلا پر آجائیں تو مولا میں چار حرف ہیں  تو حیدر میں چار ہیں اور چار ہیں  اصغر میں تو اکبر میں بھی چار ہیں، زہرہ میں چار قاسم میں بھی چار زینب و حسین میں بھی چار ہیں اور دجلہ میں چار حرف ہیں تو فرات میں بھی چار ہیں۔ اب طریقت پر آ جائیں تو معین داتا میں چار حرف ہیں تو فرید کاکی میں چار ہیں، شہاب، قادر، نظام خسرو میں چار ہیں تو نصیر، وارث، سعدی بیدم بھی چار ہیں اور مرید میں بھی چار حرف ہیں  تو مرشد میں بھی چار ہیں . اس مرحلے پر انھوں نے اپنا سلسلہ کلام روکا اور مشہور نعت خواں سعید ھاشمی کو دعوت سخن دی، نعت خواں سعید ھاشمی کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے ،

جاری ہے

 

رفعت علوی
رفعت علوی
لکھاری،افسانہ نگار

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *