کیا سینیٹ کو ختم کر دینا چاہیے ؟۔۔۔اسلم ملک

اس بار بھی پنجاب سے ن لیگ کے امید واروں میں ایسے امیدوار شامل ہیں جو برطانیہ اور امریکہ  میں رہتے ہیں۔  یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ   اسلام آباد کے وفاقی علاقے سے ن لیگ کے دونوں امیدوار بھی اس علاقے سے تعلق نہیں رکھتے۔
یہ سب سینیٹ کی منشأ و مقصد کے خلاف ہے۔پارلیمنٹ کا ایوانِ زیریں قومی اسمبلی لوگوں کی نمائندگی کیلئے ہے اور ایوانِ بالا سینیٹ صوبوں کی۔جب یہ مقصد ہی فوت ہوگیا تو اب سینیٹ کے وجود کا کیا جواز رہ گیا ہے؟

ایک اور قباحت بھی ہے۔ چونکہ بلوچستان اور فاٹا سے سینیٹر منتخب ہونے کیلئے کم ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لئے وہاں سے ووٹوں کی خریدوفروخت کی خبریں بھی اکثر آتی رہتی ہیں۔ لوگ انتخابی مہم کے بکھیڑوں سے بچنے کیلئے یک مشت خرچہ کرکے سیٹ لے لیتے ہیں۔ ویسے جب پارلیمنٹ میں قانون سازی فاٹا کیلئے ہوتی ہی نہیں تو فاٹا کی قومی اسمبلی اور سینیٹ میں نمائندگی کا مقصد بھی سمجھ نہیں آتا۔سینیٹ کو آئین کی منشا کے مطابق صوبوں کی نمائندگی والا ادارہ بنانا ہے تو پارٹی سربراہوں کی طرف سے نامزدگی کی بجائے سینیٹرز کا انتخاب براہ راست ہونا چاہیے۔

صورتِ حال یہ ہے کہ پارٹی سربراہ بادشاہوں کی طرح ممبریاں جاگیروں کی طرح بانٹتے ہیں،اسمبلیوں کی مخصوص نشستوں میں اور بھی برا حال ہے۔خواتین کی نشستیں بالعموم سیاستدانوں یا کام آنے والے بیورو کریٹس کی بیٹیوں ، بیویوں یا دوسری منظور نظر خواتین کو ملتی ہیں یا پھر کسی خدمت کے عوض مثلاََ بیٹی کی ڈریس ڈیزائنر، والدہ کی نرس یا فزیو تھیراپسٹ کو اسمبلی کی ممبر بنا دیا جاتا ہے۔ بعض خاندانوں پر نوازش کا یہ عالم ہے کہ ایک ایک گھر سے چار چار ارکانِ پارلیمنٹ بھی ہیں۔

یہ سلسلہ بھی چل رہا ہے کہ جو اپنے صوبے سے منتخب ہونے کے قابل نہ ہوں ، ان کا ووٹ دوسرے میں درج کراکے نامزد کردیا جائے۔ آغاز میں  شاید مسلم لیگ نے سندھ کے محمد خاں جونیجو کی بیٹی فضہ جونیجو کو پنجاب سے قومی اسمبلی کی مخصوص نشست سے منتخب کرایا تھا ۔دوسرے صوبے کا ووٹر بنا کر منتخب کرانے کے سدباب کیلئے کم از کم گزشتہ عام انتخابات میں مطلوبہ صوبے کا ووٹر ہونا لازمی قرار دینا چاہیے۔خوتین سمیت تمام مخصوص نشستیں سیاسی پارٹیوں کو  دینے کی بجائے ان کیلئے براہ راست الیکشن ہونا چاہیے۔۔۔ یعنی خواتین کی نمائندہ خواتین ہی چنیں۔ مذہبی اقلیتوں کے نمائندے  ان مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے ووٹر چنیں۔ فی الوقت یہ لوگ اپنی کمیونٹی کے نہیں کسی پارٹی کے نمائندے ہوتے ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *