قصہ حاتم طائی جدید۔قسط 4

میں نے پورے تحمل سے جرگہ کی بات سنی اور کہا۔اے صاحبانِ بے عقل و دانش ! افسوس کہ ڈالڈا کھا کھا کر تمہاری عقلوں پر پردے پڑگئے ہیں —- کیا مولوی کا کام صرف نماز روزے کی تلقین ہے ؟ سماجی بگاڑ پر نکیر کا اسے کوئی حق نہیں ؟
اس پر ایک عقلِ کُل پھڑک کر بولا ۔۔پچھلا مولوی تو بڑی سیانی باتیں کرتا تھا۔۔۔۔آپ کو نجانے کیا ہو گیا ہے؟
میں نے کہا۔۔پچھلا مولوی واقعی سیانا تھا- اُس نے تمہیں طوطے مینا کے قصّے سنائے — تم سے حلوے اور بادام کھائے — پھر ایک رات مسجد کا چندہ ، گھڑیال اور دریاں سمیٹ کر چلتا بنا —- تم وہ دوغلے لوگ ہو کہ جھوٹوں کو تو سر پہ بٹھاتے ہو ، اور مولوی سچ پہ اتر آئے تو اُس کا پاجامہ پھاڑنے لگتے ہو
اس پر وہ زوجہ پرست بول۔۔۔ افسوس اس مُلا پر جو خود تو ایک زوجہ پر قناعت کرے ، اور مقتدیوں کو چار چار کے مشورے دیتا پھرے- اگر آپ واقعی سچّے ہیں اور خیال ہماری بہتری کا ہے تو پہلے خود بسم اللہ کیجئے — ہم آپ کے پیچھے ہیں۔

یہ سُن کر ایک لمحے کو تو مجھے جھٹکا لگا- پھر معاشی اعداد و شمار کا سہارا لیتے ہوئے کہا۔۔
اے مُرغ پرستو ! جس تنخواہ پر تم لوگوں نے مجھے مولوی رکھا ہے اس میں تو مرغی کا دانہ پورا نہیں ہوتا مبادہ کہ خرچہ زوجہء ثانی کا برداشت کیا جاوے
لیکن وہ احمق بھی میرے ہی تربیت یافتہ تھے میری ہی گھڑی ہوئی دلیلیں مجھ پر چسپاں کرنے لگے ، کہنے لگے رزق دینے والی ذاتِ بابرکت اللہ تعالی کی ہے ، حوصلہ رکھیے ، اور نیک کام کی بنیاد رکھ ہی دیجئے ، ہم پیچھے امام کے اللہ اکبر کہیں گے-

خیر وہ مجلس تو جلی کٹّی سنا کر رخصت ہوئی ، میں چارپائی پہ ٹینشن لینے لگا- جی چاہا کہ راتوں رات تین نکاح کر کے محلّے والوں کے دانت کھٹّے کر دوں ، لیکن اس خیالِ انور کے پیچھے کئی اوہام سر اٹھاتے تھے- اوّل تو سخت گیر زوجہ کے سامنے ایسا مفسد ارادہ ظاہر کرنا”آ گائے مجھے مار والی بات تھی ، دوم دو کمروں والے کواٹر میں چار بیویاں رکھنا رزم گاہِ حق و باطل سجانے کے مترادف تھا-ساری رات اسی شش و پنج میں گزری- ایک طرف چار جمعوں کے سخت تاکیدی بیانات اور دوسری طرف بے شمار مسائلِ حیات ۔ اگر خطبات سے منہ موڑتا تو الزام منافقت کا آتا اور عقدِ ثانی کرتا تو ایک نیا سیاپا پڑ جاتا-

غرض کہ سپیدہء سحر نمودار ہوا اور سرگودھا کے ککڑوں نے بانگیں دینا شروع کر دیں- میں سجدے میں گرا تو وہیں سو گیا- زوجہء نیک فطرت نے یہ احوال دیکھا تو بھاگی چلی آئی اور بڑے چاؤ سے بولی ۔۔
وے مر جانڑیاں کی ہو گیا ای —- سوں گیاں کہ مر گیا ایں ؟
میں نے سجدے میں پڑے پڑے کہا ۔۔ اے نیک بخت ، جاہلوں سے پردہ کیے پڑا ہوں ، تیرہ بخت دوسری شادی کا مشورہ دیتے ہیں۔
اس پر وہ نیک سیرت بولی۔۔۔ کیہ آکھیا ای ؟؟ اک واری فیر بول ؟
میں نے کہا ۔۔اے بنتِ حوا ! بندہ خطاء کا پتلا ہے اور بیوی اس کی سزا۔۔ اوپر سے تقدیر اس بندہء پرخطاء سے ایک اور زوجہ کی متقاضی ہے۔
ہماری بات سن کر وہ پھڑک کے بولی ۔۔ بڑا دسویں میں ہے اور چھوٹا میری گود میں — مولوی بن خادم اعلی نہ بن ۔
میں نے کہا ۔۔ مولوی کی بات زبان سے نکل چکی ، اب خادمِ اعلی بھی اسے واپس نہیں لا سکتا- اگر صبر کرے گی تو اجرِ دارین پائے گی- ورنہ گیلی لکڑی کی طرح سلگتی ہی رہے گی ، شادی تو اب ہو ہی ہو !
لنک،قسط3:
https://mukaalma.com/article/ZAFARGEE/3951

ظفرجی
جب تحریر پڑھ کر آپ کی ایک آنکھ روئے اور دوسری ھنسے تو سمجھ لیں یہ ظفرجی کی تحریر ہے-

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *