میرا فخر پاکستان۔۔۔۔محمود چوہدری

سال 2008ء میں پاکستان میں بدترین زلزلہ آیا۔اٹلی میں ہمارے شہر کے مئیر نے ہمیں کونسل کی اسمبلی میٹنگ میں شرکت کی دعوت دی ۔ اجلاس میں تمام منتخب نمائندے موجود تھے ۔ مئیر نے اظہاریکجہتی کا پیغام پڑھا اور زلزلہ زدگان کی مدد کے لئے مختلف پراجیکٹس میں حصہ لینے کی قرار داد پیش کی جسے متفقہ رائے سے منظور کر لیا گیا۔اسمبلی اجلاس میں ہمیں بلانے کا مقصد اس شہر میں موجود پاکستانیوں کو یہ بتاناتھا کہ اطالوی شہری دکھ کی اس گھڑی میں ہمارے ساتھ ہیں ۔ اجلاس کے آخر میں غیر رسمی گفتگو شروع ہوئی توایک نوجوان اطالوی کونسلر کا کہنا تھا کہ میں اپنے شہر کے پاکستانی نوجوانوں کو دیکھتا ہوں تو مرعوب ہوئے بغیر نہیں رہ پاتا ۔ جتنی عمر میں یہ لوگ پانچ ہزار کلومیٹر دور روزگار کی تلاش میں آگئے ہیں اتنی عمر کا ہمارا اطالوی نوجوا ن تو ابھی بھی دوپہر کو اپنی ماں کو فون کر کے کہتا ہے کہ آج مجھے کھانے میں فلاں ڈش چاہیے ۔ میں حیران ہوتا ہوں کہ وہ ہماری ہی عمر کے نوجوان ہیں لیکن ان میں منشیات اور جرائم میں ملوث ہونے کا تناسب نہ ہونے کے برابر ہے ۔ ہمارے شہر کی خواتین اور بچے ان سے محفوظ ہیں ۔میں اپنے ہم عمر پاکستانیوں کو خود سے کہیں زیادہ ذمہ دار اور میچور شہری سمجھتا ہوں ۔میرا ذاتی تجزیہ ہے کہ اتنی ساری خوبیاں اٹلی میں رہنے والی کسی بھی کمونٹی میں موجود نہیں ہیں ۔میں چاہوں گا کہ آج موقع ہے آپ سے پوچھ لیا جائے کہ آپ ہمیں پاکستانی کلچر یا ثقافت کے بارے مزید کچھ بتائیں

ایک نوجوان اطالوی سیاستدان کے منہ سے پاکستانیوں کی اتنی تعریف سن کا میرا سر فخر سے بلند ہوگیا ،میرا مائیک آن کیا گیا تو میں نے کہنا شروع کیا کہ پاکستانیوں میں بحیثیت قوم کچھ ایسی نمایاں خصوصیات ہیں جو انہیں دوسروں سے ممتاز کرتی ہیں مثلا ًپاکستانی ایک میزبان قوم ہے ۔ ہماری یہ خوبی انفرادی سطح پر بھی نظر آتی ہے اور اجتماعی سطح پر بحیثیت قوم بھی نظر آتی ہے ۔ اجتماعی یوں کہ پاکستان کی پیدائش کے فورا ً بعد ستر لاکھ مسلمان اس نئے ملک میں آئے اور ان کو صرف چند مہینوں کے اندرجذب کرلیا گیا ۔کوئی کہہ سکتاہے کہ سب کا مشن ایک تھا تو اس میں کسی پر کون سا احسان کیا گیا ؟تو میں آپ کو آج کی رپورٹ بتاتا ہوں کہ اب بھی پاکستان میں اڑھائی ملین افغانی ہمارے مہمان ہیں اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان امیگریشن دینے اور پناہ گزینوں کی مدد کرنے کے لحاظ سے دنیا کے  پہلے تیر ہ ملکوں میں آتا ہے ۔انفرادی سطح پربھی ہماری ثقافت میں مہمان کو زحمت نہیں رحمت سمجھا جاتا ہے ۔

پاکستانیوں میں دوسروں پر خرچ کرنے کی ایک حیران کن صلاحیت موجود ہے۔ اس بات کا اندازہ مجھے اٹلی آکر ہوا ہے مثلاً اٹلی میں اگر آپ کا کوئی کولیگ ایک دن آپ کو کافی پلا دے تو وہ یاد رکھے گا کہ اگلے دن آپ سے کافی پینی ہے ۔جبکہ پاکستانی ایسے نہیں ہیں ۔ہمارے ملک میں جملہ مشہور ہے کہ ہم یا تو کھاتے ہوئے مرتے ہیں یا کھلاتے ہوئے مرتے ہیں ۔ ہمارے دانشوروں کا کہنا ہے کہ ہمارے ملک میں کوئی انقلاب نہیں آسکتا کیوں‌؟ کیونکہ روٹی اس ملک کا کبھی مسئلہ نہیں رہا۔ ہمارے تومذہبی بزرگوں کی قبر وں پر اتنا رزق تقسیم کیا جاتا ہے کہ شہر میں کوئی بھوکا نہیں سوتا ۔ہمارے فٹ پاتھوں پربوٹ پالش کرنے والے بچے بھی خیرات کرنا ثواب سمجھتے ہیں ۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستانی خیرات کرنے کے معاملے میں دنیا بھر کے ممالک میں پانچویں نمبر پر آتے ہیں۔۔

اٹلی میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاراکثر مجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا وجہ ہے کہ اٹلی میں رہنے والے پاکستانی چوری چکاری یا پرس چھیننے جیسی مائیکروکریمنلٹی میں ملوث نہیں پائے جاتے ۔ حالانکہ نئے آنے والے امیگرنٹس اپنی مجبوری کے باعث ایسے جرائم میں باآسانی ملوث ہوجاتے ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ پاکستانیوں میں مدد کرنے کا بے مثال جذبہ موجود ہے۔ ہمارا ہم وطن کوئی دور پار کا تعلق نکال کر بھی پاکستان سے ہمارے گھر آجائے تو ہم اپنے دروازے اس کے لئے بند نہیں کر سکتے ۔ ہم جرمانہ لے لیں گے لیکن جب تک اسے کام نہ مل جائے اس گھر سے نہیں نکالیں گے مدد کا جذبہ پاکستانی کلچر کی ایک باقاعدہ شناخت ہے مثلا ً آپ پاکستان جائیں اور کسی سے سڑک کنارے کھڑے ہوکر کوئی ایڈریس پوچھیں تو پچاس لوگ آپ کو ایڈریس بتانے آجائیں گے بلکہ ہو سکتا ہے ان میں سے کوئی موٹر سائیکل سوار آپ کو کہے کہ آئیے میں آپ کو متعلقہ جگہ چھوڑ آتا ہوں ۔ ہمارے شہر وں میں کوئی حادثہ ہوجائے تو ہسپتالوں میں خون دینے والوں کی لائین لگ جاتی ہے ۔ابھی زلزلہ آیا ہے تو مدد کے لئے جانے والے ٹرکوں کی لائین لگ گئی ہے ۔ 

پاکستانی ثقافت کی ایک نمایاں خوبی یہ ہے کہ یہ قوم کسی بھی قسم کے حالات میں مایوسی کا شکار نہیں ہوتی ۔ پاکستان کی ستر سالہ تاریخ میں اس قوم نے کبھی سکھ کا سانس نہیں لیا جغرافیائی لحاظ سے یہ ملک دنیا کی جنگوں کاتھیٹر بنتا رہا ہے ۔ بڑے بڑے سپرپاورزاسے فرنٹ لائین اسٹیٹ کا لالی پاپ دیکر جنگوں کے بعد پاکستان کو ایسے چھوڑ کر آجاتی رہیں جیسے کوئی قصائی ڈاکٹر کسی مریض کوآپریشن کے بعد ٹانکے لگائے بغیر اسی حالت میں چھوڑ کر بھاگ جائے ۔ لیکن اس ملک کی افواج اور قو م نے ملکر نہ صرف اسے سنبھالابلکہ ہر دفعہ سر فراز ٹھہرے ۔عالمی دہشت گردی کی جنگ کا خمیازہ ہم نے بھگتا ۔ اپنے ہم وطنوں کی ستر ہزار لاشیں ہم نے اٹھائی ہیں لیکن اس قوم کا حوصلہ اتنا بلند ہے کہ دہشت گردوں کا پہلا تختہ مشق بنتے ہوئے بھی اس کے شہری ہنسنا اور قہقہے لگانا نہیں بھولتے ۔ ہر سال عالمی شماریاتی اداروں کی شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق پاکستانی اپنے ہمسایہ ممالک کے مقابلے میں زیادہ خوش و خرم رہنے والی قوم ہے ۔ یہ قوم کبھی مایوس نہیں ہوتی ۔ یہ قوم کبھی حوصلہ نہیں ہارتی 

پاکستانی قوم کی ایک اور اہم خوبی اس قوم کا جمہوریت پسند ہونا ہے آپ کو شاید یہ جان کر حیرانی ہوگی کہ پاکستان کا خطہ بغیر کوئی جنگ کئے ، بغیر کوئی تلوار چلائے صرف ووٹ کی طاقت سے حاصل کیا گیا تھا ۔ اس کے سیاسی حالات ہمیشہ دگرگوں رہے مختلف طالع آزماڈکٹیٹر اقتدار پر شب خون مارتے رہے لیکن آپ کو دنیا میں ایسی مثال شاید ہی ملے کہ کسی قوم نے گیارہ سال سے زیادہ کبھی آمریت کوٹکنے نہ دیاہو ۔جمہوریت پسندی کے ساتھ ساتھ اس قوم کا سیاسی شعوربہت بلند ہے مثلاًمشہور ہے کہ یورپی نوجوان کے پاس گفتگو کے لئے صرف تین موضوع ہیں” فٹ با ل، سیکس اورہلا گلہ ‘ ‘ یورپی سنیئر سٹیزن کے پاس بھی گفتگو کے لئے تین موضوع ہیں ”پنشن ، لاٹری اورفٹ بال“ جبکہ پاکستانی نوجوان گفتگو میں مذہب، سیاست اور حالات حاضرہ پرفکر مند نظر آئے گا اس کے لئے ہلا گلہ ثانوی حیثیت رکھتا ہے حتی ٰ کہ پاکستانی ان پڑھ بزرگوں کی گفتگو میں بھی آپ کو تمثیلات ، تشبیہات اور سینہ بہ سینہ منتقل ہونے والے علم کا خزانہ ملے گا ۔

آپ پاکستانیوں کو مذہبی انتہا پسندی کا طعنہ دیتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستانی امن پسند قوم ہیں ہمارے ملک میں پانچ ہزار سال پرانے موہن جو ڈورو کے کھنڈرات کی کھدائی میں بھی انسان کو قتل کرنے والا کوئی آلہ نہیں نکلا ، ہماری قو م انتہا پسندی سے نفرت کرتی ہے ۔ ملک میں ستانوے فیصد لوگ مسلمان ہیں اور مذہبی رجحان رکھتے ہیں لیکن اس قوم نے ستر سالوں میں کسی ایسی سیاسی پارٹی کو اقتدارنہیں سونپا جو صرف مذہب کا نام لیکر سیاست میں آئی ہو اور جس پر انہیں یہ شک ہو کہ یہ ملک کو تھیو کریسی کی جانب لے جائے گی ۔ یہ مذہب کے نام پر جان دینے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں لیکن اس کے باجودملک میں کوئی بھی ایسی مذہبی جماعت مقبول عام کا درجہ حاصل نہیں کر سکی جو مسلح ہو۔۔۔۔۔ 

آپ پوچھ سکتے ہیں کہ اتنی زیادہ خصوصیات کی حامل قوم ابھی تک ترقی پذیر کیوں ہے ؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس قوم کو ابھی تک اپنی صلاحیتوں کا صحیح ادارک نہیں ہواہے ۔ اس قوم کا مفکر محمد اقبال وہ پہلا شخص تھا جس نے اس قوم کو ”خود“ کو پہچاننے کی اہمیت سکھائی تھی اور اس کی بات مان کر اس قو م نے دنیا کی پانچ ہزار سالہ تاریخ بدل کرمحض سیاسی جدوجہد سے ایک ریاست حاصل کر لی تھی ۔اس قوم کے قائد اعظم کی نظر میں ریاست حاصل کرنے کا مقصد یہی تھا کہ ہمیں محسوس ہوا کہ متحدہ انڈیا میں اقلیتوں کے حقوق مجروح ہوں گے ۔ ہم ایک ایسا ملک بنانا چاہتے تھے جہاں سب کو برابری کے حقو ق ملیں ۔جس دن یہ قوم اقبال اور جناح کے پیغام کو سمجھ کر اپنی صلاحیتوں کا ادراک کر تے ہوئے انہیں برﺅے کار لے آئی تواس ملک کوترقی کی منزلیں نصیب ہوں گی ۔ یہ قوم دنیا بھر کو ایک پر امن اور مثبت ثقافت کا عملی نمونہ دے گی۔

محمود چوہدری
محمود چوہدری
فری لانس صحافی ، کالم نگار ، ایک کتاب فوارہ کےنام سے مارکیٹ میں آچکی ہے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *