دیواروں کا مسیحا۔۔۔۔جاوید حیات

رنگوں کا رشتہ اتنا پاکیزہ ہے کہ ان سے کسی کی دشمنی نہیں رہتی؛ ہم پر بھی کبھی کبھی رنگوں کے عشق کا بخار یوں چڑھ جاتا ہے کہ ہم انگلیوں کو رنگوں کی ڈبیہ کی بجائے دل کے برتن میں ڈبو دیتے ہیں. جس شخص کو ہم سالوں بعد کھوج لائے ہیں اس تک پہنچنے کے لیے شروعات ایک چھوٹی سی نظم سے کرتے ہیں، جس کا عنوان ہے؛ “بینا جیسی پورٹریٹ”

میں نے اپنی ڈرائنگ بک میں
جو پینٹنگ بنائی ہے
اس رنگ کا ایک پنسل بھی
میرے کلر بکس میں شامل نہیں
کوئی تصویر بھلا کیا جانے
کس مصور نے تراشا مجھ کو
تصویر اگرچہ زباں نہیں رکھتی
تصویر بات کرتی ہے!

جس نے تصویروں کو باتیں کرتے دیکھا ہے، وہ جانتے ہیں تصویریں ہم سے اچھا بولتی ہیں.

جس شخص کے متعلق میں بولنے والا ہوں، وہ زیادہ تر تصویروں کی طرح خاموش رہتا ہے مگر اس کے کینوس پر رنگ مسکراتے رہتے ہیں. کبھی پرندوں کی طرح چہکتے ہیں تو کبھی گلابوں کی طرح مہکنے لگتے ہیں.

یہ لڑکا برسوں سے اس شہر کے اداس اور بے چراغ مکانوں کی دیواروں پر روشنی کے رنگ بکھیرتا رہتا ہے. اس نے کبھی کسی دیوار کے سامنے اپنا دکھ نہیں بانٹا بلکہ دیواروں کے زخموں پر مرہم رکھتا چلا گیا.

استاد محسن شفیع گوادر کی شکستہ دیواروں کا ایک مسیحا ہے؛ اس نے اپنے ہنر سے جزیروں کے خزانے تو نہیں لوٹے لیکن دلوں میں گھر کر گیا ہے.

وہ کراچی میں لیاری کے علاقے کلری میں پیدا ہوا. وہ اپنے والد مرحوم استاد شفیع کے ساتھ بارہ تیرہ سال کی عمر میں گوادر میں آ کر بس گیا تھا. شروع میں اس کے والد استاد شفیع گوادر جدید اسکول میں بطور ڈرائنگ ٹیچر تعینات ہوئے. پھر کچھ سال بعد اس نے سرکاری ملازمت چھوڑ دی. اس نے تقدیر کی لکیروں سے زیادہ اپنے ہاتھوں پر بھروسہ کیا.

استاد محسن شفیع نے ابتدائی تعلیم وشدل محلہ اسکول سے حاصل کی. پھر گورنمنٹ ماڈل ہائی اسکول میں جماعت نہم تک پڑھا. پینٹنگ اس نے بچپن سے اپنے والد کے ہاں سیکھی. وہ ہر میڈیم میں کام کرتا ہے، پر اسے آئل ٹیوب کلر پر کام کرنا بے حد پسند ہے. اس کے روحانی استاد عمران زیب ہیں جو “اخبارِ جہاں” میں کہانیوں کے صفحے پر تصویریں بناتے ہیں. اس نے گوادر میں کئی شاگرد پیدا کیے. جن میں منور، جاوید اور بالاچ نمایاں ہیں. وہ آج بھی بچوں کو ڈرائنگ سکھاتے ہیں.

محسن شفیع ایک پینٹر کے علاوہ ایک تھیٹر آرٹسٹ بھی ہے جو اپنے کرداروں کے گیٹ اپ اور میک اپ کے معاملے میں بڑی مہارت رکھتا ہے.

اس سال اس نے کتاب میلے میں شاہی بازار کی تاریخی جگہوں کو دیوار پر اس طرح پینٹ کیا جیسے وہ کیمرے سے لی گئی تصویریں ہوں.
اس کی نظر میں گوادر وال آرٹ مقابلہ ایک صحت مند اور توانا کوشش ہے جس کے اچھے نتائج سامنے آئیں گے.

بلوچ پینٹ ہاؤس باقی لوگوں کے لیے رنگ کی ایک دکان ہے لیکن میرے لیے وہ ایک آستانہ ہے، میں وہاں آج بھی اگربتیاں جلانے چلا آتا ہوں.

یہ دکان پچھلے پچیس سال سے گوادر کی دیواروں اور دروازوں پر رنگ و روغن کی بہار بکھیرتی آ رہی ہے. استاد کا اپنا گھر بھی ہو بہو اسی دکان کی طرح دِکھتا ہے، جیسے وہ اسی دکان کا ہی ایک حصہ ہو.

جب بھی اس گلی سے گزرتا ہوں تو اماں کے ہاتھ کے بنے دال چاول اور بینگن کی سبزی کی بھینی خوشبو بہت مس کرتا ہوں.

محسن شفیع آج بھی اپنے ڈیرے پر ایک آرٹسٹ سے زیادہ کسی درویش کی طرح دِکھتا ہے. اس کے فن کا غرور یہی ہے کہ برش اس کے رنگوں کو عاجزی سے چنتا ہے.

بیس اکیس سال گزرنے کے بعد گوادر کی ہر چیز بدل گئی ہے لیکن دیواروں پر مرہم رکھنے والا مسیحا محسن شفیع نہیں بدلا.

حال حوال
حال حوال
یہ تحریر بشکریہ حال حوال شائع کی جا رہی ہے۔ "مکالمہ" اور "حال حوال" ایک دوسرے پر شائع ہونے والی اچھی تحاریر اپنے قارئین کیلیے مشترکہ شائع کریں گے تاکہ بلوچستان کے دوستوں کے مسائل، خیالات اور فکر سے باقی قوموں کو بھی آگاہی ہو۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *