جولیس فیوچک,عالمی اشتراکی تحریک کا جواں سال شہید

جواں سال صحافی جولیس فیوچک کو پلاٹنزک جیل برلن میں 23ستمبر 1943 میں تختہ دار کی زینت بنادیا گیا۔ ہنستے مسکراتے موت کو خوشی خوشی گلے لگانے والا شخص آسمان اور جلاد نے پہلی بار دیکھا، جو دار پہ بھی سوار ہوا تو مسکرا رہا تھا، چہرے پہ غم اور خوف کا شائبہ تک نہیں تھا۔ نازی پولیس سے یہ ہنستا مسکراتا چہرا دیکھا نہیں گیا، پولیس افسر نے اس قیدی پہ تشدد شروع کردیا, مگر پتہ نہیں کیوں یہ ہنستا ہوا چہرا مسکراتے ہوئے ہی اس جہاں سے گزر گیا؛ اور یہ تشدد، جبر، اس سے یہ خوبصورت مسکان نہیں چھین سکے۔

08فروری 1903 کو پراگ (آسٹریا-ہنگری) میں ایک سٹیل فیکٹری میں کام کرنے والے مزدور کے گھر ایک لڑکا پیدا ہوا، بیٹے کا نام اس کے چچا کے نام پہ رکھا گیا، چچا موسیقی کی دھنیں بنانے والا تھا. نام تھا جولیس فیوچک.

ابھی نوعمری میں ہی تھا کہ سوچ لیا کہ ایک نامور صحافی بننا ہے۔ 1918 میں چیکوسلواکیہ سوشل ڈیموکریٹک ورکرز پارٹی کے ممبر ہوگئے، مگر ترمیم پسندی اور سوشل ڈیموکریسی کی یوٹوپیائی نظریاتی اساس سے بیزار ہوکر، اس (سوشل ڈیموکریٹک ورکرز پارٹی) میں ایک بائیں بازو کا دھڑا تشکیل پاگیا جو آگے چل کر چیکوسلواکیہ کمیونسٹ پارٹی کی شکل میں میدانِ عمل میں آیا۔ فیوچک نے پارٹی کے اخبار “سرخ قانون” کے لیے کام کرنا شروع کردیا اور ثقافتی سرگرمیوں کی زمے داری فیوچک پہ ڈال دی گئی۔ فیوچک کے جاندار اور معروض سے متعلق انقلابی مضامین نے اسے پارٹی سے بڑھ کر عام عوامی اخبار بنادیا۔

1930 میں فیوچک سوویت یونین گئے جہاں انھوں نے ایک کتاب سوویت یونین سے متعلق لکھی۔ یہ ایک کتابچہ تھا جو تاریخ کے دھندلکوں میں کہیں گم ہوگیا۔ اسی دران کمیونسٹ پارٹی میں کچھ ترمیم پسندوں نے جوزف سٹالن کے زیر نگرانی ملکی ترقی جو کافی تیز رفتار تھی اس پہ قدغن لگانا اور بے بنیاد تنقید شروع کردیا۔ یہی آغاز تھا ترمیم پسندی کا۔ اس موقع پہ فیوچک پارٹی میں سٹالن کی حمایت میں سب سے بلند آواز تھا۔ اس نے ہر محاز پہ کامریڈ سٹالن کا دفاع کیا اور پارٹی میں اینٹی سٹالن لوگوں کو نظریاتی شکست دی۔ وہ کامریڈ سٹالن کی زرعی زمینیوں کی اجتماعیت کی پالیسی کے ناقدین تھے۔ 1930 میں کامریڈ جولیس فیوچک پھر سوویت یونین گئے جہاں انھوں نے ایک کتاب لکھی “ایک ملک، جہاں آنے والا کل، گزشتہ کل ہے”۔ یہ ایک خوبصورت تحریر تھی جو کافی مشہور ہوئی۔ 1935 میں کامریڈ فیوچک کو چیکوسلواکیہ گورنمنٹ نے گرفتار کرلیا اور آٹھ ماہ کے لیے پس زنداں ڈال دیا۔ اسی دوران انکو پارٹی کی سنٹرل کمیٹی کا ممبر بھی بنادیا گیا اور صحافتی اور کلچرل کام کی مکمل ذمے داری انکو دے دی گئی.

1938 میں نازی ہٹلر کے ایماء پہ چیکو سلواکین سرکار نے کمیونسٹ پارٹی پہ پابندی لگا دی گئی اور تمام ارکان زیرِ زمین چلے گئے۔ ریاستی پولیس بے رحمی سے کمیونسٹوں کا قتلِ عام کرتی رہی۔ فیوچک کو پارٹی کی ہائی کمان نے فرار ہونے کا حکم دیا تو وہ پراگ سے بھاگ کر اپنے آبائی گاوں آگئے مگر جن لوگوں کی رگوں میں خون کی بجائے انقلاب کی امنگ دوڑتی ہو، وہ کیسے مظلوموں اور مجبوروں پہ ہوتا ظلم دیکھ سکتے ہیں۔ پس واپس پراگ آگئے اور دوبارہ نئے سرے سے پارٹی اخبار “سرخ قانون” کو بحال کرنے کی تگ و دو شروع کردی۔ اس وقت تک چیکوسلواکیہ پہ ہٹلر قابض ہوچکا تھا، جرمن نازی خفیہ ایجنیسی “گسٹاپو” بھوکے کتوں کی طرح فیوچک کی تلاش میں تھی۔ آخر ایک دن فیوچک کو پست درجہ مزدوروں کی بستی سے گرفتار کرلیا گیا اور اس ہائی پروفائل ہدف کو فوراً جرمنی لے جایا گیا، جہاں اس پہ بے تحآشا ظلم کیا گیا۔ ساری ساری رات کھڑا رکھا جاتا، تین تین دن بھوکا رکھا جاتا، بدترین جسمانی تشدد کیا جاتا اور نازک اعضا کو کچلا جاتا۔ پھر میٹھے طریقے سے رام کرنے کی کوشش کی جاتی کہ وہ کمیونزم کو ترک کردے اور پارٹی کی لیڈرشپ کی تفصیلات مہیا کردے، مگر یہ بہادر اور دلیر اشتراکی مستقل مزاجی سے ڈٹا رہا۔ موت کی دھمکیاں دی گئیں مگر فیوچک کے پایہ استقلال کو لرزا نہ سکیں۔ آخری مایوس ہوکر نازی فوجی عدالت نے اس بانکے سجیلے صحافی کو سزا موت صادر کردی اور 23 ستمبر 1943 کو یہ عظیم کمیونسٹ “نازی دیوتا” کی بھنیٹ چڑھا دیا گیا۔ ان کی تحریریں، جو وہ سگریٹ کی ڈبیوں پہ لکھ کر باہر بھیجا کرتے تھے، انکی شہادت کے بعد شائع ہوئیں؛ نام تھا “اقتباساتِ پسِ زنداں”۔ فیوچک نے اپنی شہادت سے پہلے ہی دنیا کے انقلابیوں اور درد دل رکھنے والے لوگوں کو بتا دیا کہ “جن لوگوں نے اپنی جان تمہارے کل کے لیے قربان کی ہے انکو ایسے یاد رکھو جیسے وہ تمہارے ہی جسم کا حصہ ہیں”۔ اقتباساتِ پسِ زنداں بہت مشہور ہوئی اور چیکوسلواکیہ کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی کتاب بن گئی۔

انکا اشتراکی انقلاب کے برپا ہونے کا خواب انکی زندگی میں پورا نہ ہوسکا مگر 1948 میں چیکوسلواکیہ میں عوامی اشتراکی انقلاب برپا ہوا اور فیوچک کا خواب پورا ہوگیا۔ یہ انقلاب غلط ہاتھوں میں جاکر ترمیم پسندی کی نظر ہوگیا مگر میرا مقصد ان عظیم شہدا کو خراج تحسین پیش کرنا ہے جنہوں نے انسانیت کے بہتر اور خوشحال مستبقل کے لیے قربانیاں دیں؛ ورنہ ٹیٹو, ڈینگ, گوربا چوف جیسے “بگڑے بچے” کبھی میرا موضوع سخن نہیں رہے….

ہمایوں احتشام
ہمایوں احتشام
مارکسزم کی آفاقیت پہ یقین رکھنے والا، مارکسزم لینن ازم کا طالب علم، اور گلی محلوں کی درسگاہوں سے حصولِ علم کا متلاشی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *