تحریکِ آزادی میں علماء حق کا کردار۔۔۔ شاکرؔ فاروقی

عربی کا ایک مقولہ ہے الأشیاء تعرف باضدادھا، یعنی چیزیں اپنی ضد سے پہچانی جاتی ہیں۔ گویا کھرے کی پہچان کے لیے کھوٹے سے واقفیت ضروری ہے ورنہ کھرے کھوٹے میں تفریق مشکل ہو جاتی ہے۔ یہ اصول زندگی کے کئی شعبوں میں کارفرما ہے۔ ذیل میں مختلف اقوام سے تعلق رکھنے والے دو افراد کی، مملکت ہندوستان کے بارے میں نصائح نقل کی جاتی ہیں۔ پہلی نصیحت پہلے مغل بادشاہ ظہیر الدین بابر کی ہے۔ جو اپنے بیٹے ہمایوں کو کرتے ہیں۔
”اے پسر! سلطنت ہندوستان مختلف مذاہب سے پُر ہے۔ الحمدللہ اس کی بادشاہت تمہیں عطا ہوئی۔ تمہیں لازم ہے کہ تمام تعصباتِ مذہبی کو دل سے دھو ڈالو اور عدل و انصاف میں ہر مذہب و ملت کے طریق کا لحاظ رکھو۔ جس کے بغیر تم ہندوستان کے لوگوں پر قبضہ نہیں کر سکتے، جس طرح انسان کے جسم میں مل جل کر چار عناصر کام کر رہے ہیں، اسی طرح مختلف مذاہب رعایا کو ملا جلا کر رکھو اور ان میں اتحادِ عمل پیدا کرو۔ تاکہ جسم مختلف امراض سے سلامت رہے۔”
دوسری نصیحت ایک انگریز مفکر جان میکلم کی ہے، جو ہندوستان پر قابض اپنے ہم وطنوں کو کرتا ہے، لکھتا ہے” اس قدر وسیع سلطنت میں ہماری غیر معمولی قسم کی حکومت کی حفاظت اس امر پر منحصر ہے کہ ہماری عمل داری میں جو بڑی جماعتیں ہیں، ان کی عام تقسیم ہو اور پھر ہر ایک جماعت کے ٹکڑے مختلف ذاتوں، قوموں اور فرقوں میں ہوں۔ جب تک یہ لوگ اس طریقے سے جدا رہیں گے، اس وقت تک غالباً کوئی بغاوت ابھر کر ہماری قوم کے استحکام کو متزلزل نہ کرے گی۔”
یہ دو نصیحتیں نہیں بلکہ   دو مختلف قوموں کی سوچ کی عکاس ہیں،جنہوں نے اپنے اپنے اصولوں کے تحت ہندوستان پر حکومت کی۔ پہلی سوچ اتحاد و اتفاق کی داعی ہے جبکہ دوسری سوچ افتراق و انتشار پھیلانے کا سبب ہے۔ پہلی سوچ کا نتیجہ یہ نکلا کہ خطہ برصغیر سونے کی چڑیا کہلایا۔ جب کہ دوسری سوچ کا خمیازہ برصغیر کے باسی آج بھی بھگت رہے ہیں۔تقسیم در تقسیم در تقسیم نے ایک ہی وطن کے رہنے والوں کے درمیان اتنی دوریاں پیدا کر دی ہیں کہ اب انہیں پاٹنے کے لیے عمرِ نوح کی ضرورت ہے۔ من جملہ اُن میں سے ایک مسلمان قوم کو مختلف فرقوں میں بانٹنا بھی ہے اور یہ بٹوارہ اس وقت تک ناقابل عمل ہے، جب تک کہ ان کا رابطہ اپنے قائدین یعنی علماء کرام سے استوار ہے۔
علما  حق  سے متنفر کرنے کے لیے مسلمانانِ برصغیر کو ان کے خلاف بھڑکایا گیا۔ ان کے بارے میں شکوک و شبہات کی چادریں تانی گئیں اور دن کی اجلی روشنی میں ان کا کردار داغ دار کرنے کے منصوبے بنائے گئے۔ عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ انگریز سے آزادی حاصل کرنے میں علماء کرام کا کوئی کردار ہی نہیں ہے بلکہ یہ لوگ ہمیشہ فسادی رہے ہیں۔ نتیجتاً علماء کرام کو گھر میں رہنے والے اس بوڑھے کی طرح سمجھا جانے لگا ہے جو وقت بے وقت نصیحتوں کے ٹوکرے اٹھائے نوجوان اولاد پر انڈیلتا رہتا ہے۔
تاریخ و حقائق کی ورق گردانی کی جائے تو پتا چلتا ہے، یہ علماء ہی ہیں جن کی بے لوث، بے مثال اور بے انتہا قربانیوں کے سبب آج ہم سکون کا سانس لے رہے ہیں۔  آزادی کے چھتنار درخت کی پرسکون چھاؤں تلے مزے سے محوِ استراحت ہیں۔ علماء کی ایک لمبی فہرست ہے جو اپنے گھر بار تج کر حریت کے سلگتے شعلوں میں کود گئے، جانیں قربان کر دیں، بچے یتیم کروائے اور اپنی بیویوں کے ماتھوں پر بیوگی کے تمغے سجا دیے۔ دہلی کے چاندنی چوک سے پشاور کے قصہ خوانی بازار تک ہر شاہراہ ان کی شجاعت، بسالت اور دلیری کی داستانیں سنا رہی ہے۔ یہی لوگ ہیں جو سج دھج کر مقتل کی جانب چلے اور اپنے ہم وطنوں کی آزادی کے لیے اپنی جانیں جانِ آفریں کے سپرد کر دیں۔
شاہ عبدالعزیزؒکے فتویٰ ، شاہ اسماعیلؒ، سید احمدؒ کی شہادت، مولانا جعفر تھانیسریؒ، شیخ الہند محمود حسن دیوبندیؒ، سید حسین احمد مدنیؒ، مولانا عُزَیر گُلؒ کی اسارت، عبیداللہ سندھیؒ کی سفارت، مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ کی بصیرت، سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ، حفظ الرحمن سیوہارویؒ، احمد سعید دہلویؒ کی خطابت، ابوالکلام آزادؒ، مولانا ظفر علی خانؒ، مولانا محمد علی جوہرؒ کی صحافت اور مفتی محمد شفیعؒ، مولانا شبیر احمد عثمانیؒ، مولانا ظفر احمد عثمانیؒ کی سیاست نے بعینہ وہی کام کیا جو علامہ محمد اقبالؒ اور قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت نے کیا تھا۔  مسلمان قوم میں جذبہ حریت پیدا کرنے اور پھر اس جذبہ کو بیدار رکھنے میں اہلِ محراب و منبر کا بڑا ہاتھ ہے۔
تحریکِ قیام پاکستان  کامیابی سے ہمکنار ہونے میں بہت وقت لگ جاتا اگر مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ اپنے مریدوں کو اس میں حصہ لینے کا حکم نہ فرماتے۔ ان کے حکم کے مطابق ان کے خلفاء مثلاً مفتی محمد شفیعؒ صاحب نے دارالعلوم دیوبند کی مسند تدریس سے استعفیٰ دے دیا، مولانا شبیر علی تھانویؒ باقاعدہ طور پر قائداعظم کی مذہبی راہ نمائی کے لیے مختص ہو گئے۔ مولانا خیر محمد جالندھریؒ، مولانا شمس الحق افغانیؒ، مولانا احتشام الحق تھانویؒ، مولانا بدر عالم میرٹھیؒ، مولانا محمد ادریس کاندھلویؒ، مولانا احمد علی لاہوریؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، مولانا محمد یوسف بنوریؒ اور مولانا عبدالحقؒ اکوڑہ خٹک نے 1945 میں جمعیت علمائے اسلام کے نام سے علماء کرام کی الگ جماعت بنائی اور اپنا وزن مسلم لیگ کے پلڑے میں ڈال دیا۔ جس کے نتیجے میں شمال مغربی سرحدی صوبہ (کے پی کے) کے کئی علاقے جنہیں کانگریس کا گڑھ سمجھا جاتا تھا، پاکستان میں شامل ہوئے۔ جن کے بارے میں فرض کیا جاتا جاتا تھا کہ یہ کبھی پاکستان سے ملحق نہیں ہو سکتے۔
ٍ ان علماء کرام کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے قائد اعظم محمد علی جناح نے مغربی و مشرقی پاکستان میں جھنڈا لہرانے کے لیے انہی کا انتخاب کیا۔ مشرقی پاکستان میں مولانا ظفر احمد عثمانیؒ اور مغربی پاکستان میں مولانا شبیر احمد عثمانیؒ نے پاکستان کی پرچم کشائی کی۔ ایک مرتبہ کسی نے قائد اعظم سے پوچھا ”قیام پاکستان کی تحریک میں آپ کے ساتھ علماء کرام نہیں ہیں۔” قائد اعظم نے فرمایا ”ہمارے ساتھ ایک ایسے جید عالم دین ہیں (مولانا محمد اشرف علی تھانویؒ) کہ ان کا علم ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے تو سارے ہندوستان کے علماء پر بھاری پڑ جائے.” جب پاکستان کے لیے آئین بنانے کی بات چلی تو سید سلیمان ندوی رحمہ اللہ بغیر کسی معاوضہ کے لالچ کے، ہندوستان چھوڑ کر پاکستان آ پہنچے۔ یہاں تین سال قیام فرمایا اور گورنمنٹ سے کسی قسم کی سہولت لیے بغیر دن رات قانون سازی میں مگن رہے۔ یہ انہی علماء کرام کی ان تھک محنتیں تھیں کہ آئین پاکستان کی تمہید ”قراردادِ مقاصد” تیار ہوئی، جو آج بھی آئین کا حصہ ہے۔  قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی نماز جنازہ پڑھانے کے لیے مولانا شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ کا انتخاب کیا اور وصیت کی کہ میرا جنازہ یہی پڑھائیں گے۔
آزادی کی تحریک میں علماء کرام کا ایک دوسرا گروہ بھی تھا جس نے مسلمانان برصغیر کو انگریز کی غلامی سے نکالنے کے لیے ان تھک محنت کی، جیلیں کاٹیں، سزائیں جھیلیں اور بے دریغ قربانیاں دیں۔ لیکن یہ لوگ تقسیم ہند کے مخالف تھے۔ ان کے نزدیک سارا ہندوستان مسلمانوں کا تھا۔ اس بات کو ان کی اجتہادی غلطی کہا جا سکتا ہے۔ کیونکہ مکار ہندو انگریز کے جانے کے بعد مسلمانانِ ہند کو اپنا غلام بنا لیتا اور ان سے آزادی حاصل کرنے کے لیے مسلمانوں کو نئے سرے سے جہاد کرنا پڑتا۔ اس خیال کے حامی علماء نے جب پاکستان کو قائم ہوتے دیکھ لیا تو اس کی حفاظت و حمایت کے فتوے بھی جاری کیے۔ مثلاً مولانا حسین احمد مدنی نے فرمایا: ”مسجد بنانے سے پہلے جگہ کے بارے میں اختلاف ہو سکتا ہے لیکن جب مسجد بن جائے تو اس کی حفاظت کی ذمہ داری سب مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے۔
پاکستان بھی مسجد کی مانند ہے،اگر کوئی اس کے خلاف اٹھے تو اس کی حفاظت کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔”
مولانا ابوالکلام آزاد نے لکھا:” پاکستان وجود میں آ چکا ہے، تو اب اسے باقی رہنا چاہیے۔ اس کا بگڑنا سارے عالَمِ اسلام کے لیے شکست کی مانند ہوگا۔ (نوائے وقت 23 مارچ 1973ئ)
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ لاکھوں قربانیوں کے بدلے میں عطا ہونے والے اس وطن عزیز کو قیامت تک قائم رکھے اور اس کے عروج پر کبھی زوال نہ ہو۔اس کی صبحیں چہکتی اور شامیں مہکتی رہیں…پاکستان پائندہ باد۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *