لڑکیاں۔۔۔اے وسیم خٹک

پہلا سین

گھر کاماحول۔ ماں گھر میں جھاڑو پونچھا کررہی ہوتی ہے کہ اسی دوران اسکی بیٹی کالج سے آتی ہے
ماں: عائشہ بیٹا تم سکول سے آگئی
عائشہ: جی امی جان
ماں: عائشہ یہ تمھارا چہرہ کیوں اُتر ا ہوا ہے ؟ آج تو تمھارا رزلٹ تھا ناں؟
کیوں فیل ہوگئی کیا؟
عائشہ: نہیں امی جان۔ میں نے پہلی پوزیشن لی ہے
ماں: تو یہ تو خوشی کا مقام ہے۔ پھر اتنی خفا کیوں ہو؟
عائشہ:امی جان۔ میں اس لئے خفا ہوں کیوں کہ میں آگے نہیں پڑھ سکتی۔ میرا بھائی مجھے آگے نہیں پڑھنے دے گا
ماں: عائشہ یہ بات تو صحیح ہے، تمھارے کالج جانے پر کتنی پریشانی تھی گھر میں۔ اب نیا بکھیڑا مت کھڑا کر دینا
عائشہ: امی جان میں نے پڑھنا ہے۔ بابا جانی سے بات کرلو نا پلیز۔۔۔
ماں: بیٹا کیوں ٹینشن بڑھا رہی ہو۔ کوئی بھی نہیں مانے گا۔ اب اتنی پڑھائی بہت ہوگئی، اب تمھاری شادی ہوگی بس۔
اسی دوران اُس کے والد گھر میں داخل ہوتے ہیں۔ اور کہتے ہیں
باپ: کیا باتیں ہورہی ہیں ماں بیٹی کے مابین
ماں: تمھاری لاڈلی نے پہلی پوزیشن لی ہے۔
باپ: یہ توخوشی کی بات ہے۔ پھر عائشہ بیٹا تمھارا منہ کیوں لٹکا ہوا ہے
عائشہ پریشان کھڑی ہوتی ہے اسکی ماں جواب دیتی ہے
ماں: تمھاری لاڈلی اب یونیورسٹی جانا چاہتی ہے۔ کہتی ہے میں مزید پڑھنا چاہتی ہو ں
باپ: عائشہ بیٹا یہ میں کیا سن رہاہوں؟ اب تمھاری پڑھائی ختم۔ میں تو تمھارے رزلٹ کے انتظار میں تھا کہ کب نتیجہ آئے اور میں ملک صاحب سے تمھاری شادی کی بات کرلوں،
عائشہ: غصے سے۔ میں پڑھوں گی پڑھوں گی اور پڑھوں گی۔ اور پیر پٹختے ہوئے چلی جاتی ہے
ماں: دیکھ اپنی لاڈلی کے نخرے اور سر پرچڑھاؤ اسے۔ اور تعلیم دو اسے۔ پہلے بھی کہا تھا کہ کالج میں داخلہ مت دلاؤ ہاتھ پیلے کردو مگر تم نہیں مانے
باپ: عجیب سے تاثرات لاتے ہوئے۔ تم بس خاموش رہو۔ میں آج ہی ملک صاحب سے بات کرتا ہوں کہ اپنی امانت لے جاؤ، اور گھر سے نکل جاتا ہے

دوسراسین
بھائی گھر میں بیٹھا ہوا آواز لگاتا ہے
کھانے  کا کب سے انتظار کر رہاہوں، کوئی کھانا لائے گا بھی کہ نہیں، کہ میں جاؤں، غصے سے۔۔
ماں: آرہی ہوں بیٹا تھوڑا سا صبر کر لو
بیٹا: کتنا صبر۔
ماں: آتے ہوئے یہ لو۔ کھانا۔
سیاح الدین: یہ عائشہ کہاں ہے۔
ماں: یہیں کہی ہوگی
اس دوران عائشہ آتی ہے
ماں آواز دیتی ہے:
ماں: عائشہ کہاں جارہی ہو
عائشہ: امی جان۔ فرینڈ کے گھر جارہی ہوں
ماں: اب تو تمھاری تعلیم مکمل ہوگئی ہے۔ اب یہ فرینڈ کے گھر چکر لگانا چھوڑ دو
سیاح الدین: عائشہ آج کے بعد تم گھر سے باہر نہیں نکلوگی۔اسمجھی تُم
عائشہ: کیوں نہیں جاؤں گی
سیاح الدین:یہ میرا حکم ہے
ماں: بیٹا یہ تو مزید پڑھنے کے لئے پرتول رہی ہے
سیاح الدین: کیا
ماں: ہاں بیٹا
سیاح الدین: عائشہ تم نہیں پڑھوگی۔
عائشہ میں پڑھوں گی تم مجھے نہیں روک سکتے
سیاح الدین: میں دیکھتا ہوں، کون تمھیں اجازت دیتا ہے
عائشہ: بھائی تم میری پڑھائی سے جیلس ہو اس لئے تم یہ کہہ رہے ہو
سیاح الدین عائشہ پر ہاتھ اٹھاتا ہے
اس دوران اس کے والد صاحب آتے ہیں۔
عائشہ: دیکھو بابا جانی بھائی نے مجھے مارا
باپ: بے غیرت جوان بہن پر کوئی ہاتھ اُٹھاتا ہے۔
سیاح الدین: بابا یہ آگے پڑھنے کی ضد کررہی ہے
باپ: تو اس میں کیا حرج ہے۔
سیاح الدین: بابا آپ کو پتہ نہیں۔ نزدیکی گاؤں میں خان صاب کی بیٹی پڑھنے گئی تھی اور شہر کے لڑکے کے ساتھ بھاگ گئی۔ اس سے ان کی کتنی بے عزتی ہوئی۔
عائشہ: مجھے اپنی حدوں کا پتہ ہے۔ میں خاندان کی عزت پر کوئی آنچ نہیں آنے دوں گی۔ مجھے اپنی عزت سے زیادہ خاندان کی عزت عزیز ہے
باپ: سیاح الدین تم کل ہی اس کا یونیورسٹی میں داخلہ کراؤ کیونکہ اس کے پاس ابھی مزید دو سال ہیں۔ ملک صاحب نے دوسال کی مہلت مانگ لی ہے.

سیاح الدین: غصہ سے کرسی کو ٹھوکر مارتے ہوئے جاتا ہے اور کہتا ہے،۔ میں نہیں جاؤں گا
باپ: تم نہیں جاؤگے تو میں خود میری بیٹی کے ساتھ جاؤں گا
عائشہ: تھینک یو باباجانی۔

تیسر اسین:

یونیورسٹی کا ماحول

لڑکے اورلڑکیاں یونیورسٹی کے لان میں بیٹھے ہوتے ہیں۔
عائشہ یونیورسٹی سے باہرنکلتی ہے۔ تو ایک لڑکا اس کا پیچھا کرتا ہے
عائشہ کو چھیڑتے ہوئے سیٹی بجاتا ہے
عائشہ: تُم کو ن
بلال: میں تمھارا کلاس فیلو
عائشہ: میں تمھیں نہیں جانتی
بلال: کوئی بات نہیں۔ تُم مجھے جان جاؤگی، ساری یونیورسٹی کی لڑکیاں مجھے جانتی ہیں
عائشہ: : مجھے کوئی شوق نہیں تمھیں جاننے کا۔ میرا پیچھا کرنا چھوڑدو
بلال : تُم مجھ سے فرینڈ شپ کرلو۔
عائشہ: میں ایسی ویسی لڑکی نہیں ہوں۔ تمھیں پتہ نہیں کتنی مشکل سے میں نے یونیورسٹی میں داخلہ لیا ہے،
بلال: ہنستے ہوئے۔ ہر لڑکی شروع میں ایسے کہتی ہے۔ پھر سیٹ ہوجاتی ہے
عائشہ: پلیز مجھے تنگ نہ کرو۔ ورنہ
بلال: ورنہ کیا
عائشہ: غصے سے تیز تیز قدم ُ اٹھاتے ہوئے وہاں سے جاتی ہے
اور بلال تیز تیز ہنستا ہے

چوتھا سین:

سیاح الدین اپنی ماں کے ساتھ بیٹھا ہوتا ہے اور دونوں باتیں کرتے ہیں
ماں: پتہ نہیں آج عائشہ نے کیوں یونیورسٹی سے آنے میں دیر کردی
سیاح الدین: موبائیل میں منہمک ہوتا ہے کہ یکدم چونک اٹھتا ہے اور کہتا ہے
سیاح الدین: دیکھ اپنی لاڈلی کے کرتوت
ماں: موبائیل میں تصویر دیکھ کر کہتی ہے
ماں: اس نے تو ہماری ناک کاٹ دی۔ اسی دن سے میں ڈررہی تھی۔
سیاح الدین: آج آنے دو عائشہ کو۔ آج اس کی زندگی کا آخری دن ہے، غصے سے مٹھی بھینچتے ہوئے
اس دوران عائشہ گھر میں داخل ہوتی ہے
سیاح الدین: کیوں دیر کردی
عائشہ: بھائی گاڑی لیٹ تھی
سیاح الدین: غصے سے عائشہ کی جانب دیکھتے ہوئے
ماں: عائشہ کو موبائیل دکھاتے ہوئے ۔ یہ کیا ہے عائشہ،۔ تم نے ہماری عزت خاک میں ملادی۔
عائشہ: امی جان ایسی کوئی بات نہیں
سیاح الدین: تو کیا بات ہے۔ تم اب زندہ نہیں بچو گی۔ اور پستول نکال کر عائشہ پر فائرنگ کر دیتا ہے
اس دوران اس کا والد بھی آجاتا ہے۔ اور سیاح الدین وہاں سے بھاگ جاتا ہے۔
دونوں خاوند اور بیوی لاش پر پریشان کھڑے ہوتے ہیں

آخری سین

یونیورسٹی کا ماحول

لڑکے اورلڑکیاں یونیورسٹی کے لان میں بیٹھے ہوتے ہیں۔
اقصی یونیورسٹی سے باہرنکلتی ہے۔ تو ایک لڑکا اس کا پیچھا کرتا ہے
اقصی کو چھیڑتے ہوئے سیٹی بجاتا ہے
اقصی : تُم کو ن
بلال: میں تمھارا کلاس فیلو
اقصی: میں تمھیں نہیں جانتی
بلال: کوئی بات نہیں۔ تُم مجھے جان جاؤگی، ساری یونیورسٹی کی لڑکیاں مجھے جانتی ہیں
اقصی: : مجھے کوئی شوق نہیں تمھیں جاننے کا۔ میرا پیچھا کرنا چھوڑدو
بلال : تُم مجھ سے فرینڈ شپ کرلو۔
اقصی: میں ایسی ویسی لڑکی نہیں ہوں۔ تمھیں پتہ نہیں کتنی مشکل سے میں نے یونیورسٹی میں داخلہ لیا ہے،
بلال: ہنستے ہوئے۔ ہر لڑکی شروع میں ایسے کہتی ہے۔ پھر سیٹ ہوجاتی ہے
اقصی: پلیز مجھے تنگ نہ کرو۔ ورنہ
بلال: ورنہ کیا
اْقصی: غصے سے تیز تیز قدم ُ اٹھاتے ہوئے وہاں سے جاتی ہے
اور بلال زور سے ہنستا ہے۔۔

اے ۔وسیم خٹک
اے ۔وسیم خٹک
پشاور کا صحافی، میڈیا ٹیچر

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *