• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • خواب: سودن میں مدینے کی ریاست، تعبیر: آئی ایم ایف کی غلامی کا طوق۔۔۔۔۔ ناصر منصور

خواب: سودن میں مدینے کی ریاست، تعبیر: آئی ایم ایف کی غلامی کا طوق۔۔۔۔۔ ناصر منصور

آزادی کی سات دہائیاں گزرنے کے باجود ہمارا معاشرہ بدقسمتی سے اس قدر بھی مہذب نہیں ہو سکا ہے کہ ریاستی امور کو چلانے کے لیے آئین اور قانون میں طے شدہ طریقہ کار سے انتخاب کروا سکے ماضی کی روش کے عین مطابق اس بار بھی ایسا ہی ہوا کہ دن کی روشنی میں ڈالے ووٹوں کو رات کی تاریکی میں چرا لیا گیا۔ انتخابات سے پہلے جو تماشا لگایا گیا ابھی اس پر آہ وزاری ختم ہی نہیں ہوئی تھی کہ انتخابی نتائج نے ملک بھر میں ماتم کی سی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ہر گاہ کہرام مچا ہوا ہے کہ ایک بار پھر عوام کے رائے دہی کے حق کو چھین لیا گیا ہے ۔تمام تر سازشوں ،حیلے بہانوں اور بے ضابطگیوں کے باوجود پسندیدہ گروہوں کو دل لبھانے والی کامیابی دلانے میں ناکام رہے ہیں جس کا منصوبہ بعض حلقوں نے تیار کیا تھا ۔شکست سے دوچار کئے جانے والے تو چلا ہی رہے ہیں لیکن فتح مند بھی جشن منانے میں شرمندگی محسوس کر رہے ہیں کیوں کہ انھیں اپنی مصنوعی فتح کی حقیقت کا بخوبی علم ہے ۔ایک فکسڈ میچ کھیلا گیا ہے جس میں ہونے والی بے قاعدگیاں چھپائے نہیں چھپ رہیں ۔ہر آنے والا دن ایک نئے انتخابی جرم کو آشکار کر رہا ہے،انتخابات کے بعد صرف ایک ہی غیر جمہوری روش دیکھیے  کہ کس طرح ایک نااہل شخص منصوبہ بند طریقے سے آزاد اراکین کو گھیر کر جہاز میں لادتا ہے اور خان صاحب کے سامنے ڈھیر کر دیتا ہے ۔ وہ گلے میں اقتدار میں حصہ داری کا طوق ڈال کر غلام بنا لیتے ہیں اور کوئی قانون بھی حرکت میں نہیں آتا ۔

پنجاب میں ناپسندیدہ جماعت کی عددی اکثریت کو مصنوعی طریقے سے ختم کیا جا رہا ہے ۔ ایم کیو ایم کی شرمناک حد تک سیاسی لاچارگی تو دیکھیے  ، ایک روز وہ انتخابی دھاندلیوں کے خلاف عوامی احتجاج کرتی ہے اور برملا کہتی ہے کہ سندھ کے شہری علاقوں کا مینڈیٹ چرا کر پی ٹی آئی کے حوالے کیا گیا ہے لیکن دوسرے روز ہی بچے کچے  مینڈیٹ کو باجماعت بنی گالہ حاضر ہو کر عمران خان کے قدموں میں نچھاور کر دیا جاتا ہے۔یہ کیسی منافقت ہے، یہ کیا بے توقیری ہے ۔آج کی صورتحال ایم کیو ایم کی چھ نشستوں کی حیثیت اس کی ماضی کی تین درجن نشستوں سے کہیں زیادہ ہے لیکن اس نے دور اندیشی پر مبنی فیصلہ کرنے کی بجائے غیبی اشارے پر عمل کرنے کو ہی غنیمت جانا ۔پی ٹی آئی اور اس کے رہنماؤں نے ایم کیو ایم کے خلاف جو کہا اور جو کرنے کا کہہ رہی تھی اسے تھوک کر چاٹنا ہی کہا جا سکتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جن جماعتوں نے دھاندلی کا الزام عائد کیا ہے وہ اپنے جوہر میں کوئی بنیادی تبدیلیاں لانے والی انقلابی جماعتیں نہیں ہیں ۔ یہ سسٹم سے باہر زندہ نہیں رہ سکتیں ۔اس لیے انھوں نے سسٹم کے اندر رہنے میں ہی عافیت محسوس کی ہے لیکن ان کا سسٹم میں رہ کر مقتدرہ قوتوں کے پیاروں کو چیلنج کرنا ان نادیدہ قوتوں کے لیے خیر کی خبر نہیں ہے ۔ آپ طاقت کے زور پر سسٹم خراب کر سکتے ہیں لیکن چلا نہیں سکتے ۔اس قسم کے کئی ایک تجربات ماضی میں ناکام ہو چکے ہیں ۔یہ بات پہلے بھی کہی جا چکی ہے کہ ان دیکھے طاقتور حلقوں اور سولین بالا دستی کے لیے آواز اٹھانے والوں کے درمیاں تضاد ابھر کرشدید ہونا اٹل ٹھہرا ہے ۔اس تناظر میں صورتحال اس قدر دگرگوں ہے کہ اگر انتخابات کے نتیجے میں سویلین بالادستی والے آ بھی جاتے ہیں تو انھیں چلنے نہیں دیا جاتا اور اب جبکہ ان کے مخالف آ رہے ہیں تو انھیں انتخابی جماعتوں کی اکثریت اور عوام کی ایک بڑی تعداد قبول کرنے کو تیار نہیں ۔ اس لیے بحران نئی شدت کے ساتھ ابھرے گا ،شاید اس کی علامت مختلف ہوں۔

بحران کی ابتدا یہ ہے کہ وفاق اور پنجاب میں ایک کمزور حکومت تشکیل پا نے جا رہی ہے جو بہت ہی ناتواں بے ساکھیوں پر کھڑی ہو گی جسے اپنے مربی کے مفادات پر مبنی وسیع ایجنڈے کی تکمیل کا فریضہ سرانجام دینا ہے ۔ یہ ایک ایسی حکومت ہوگی جس کے پاس عوام کو دینے کے لیے کچھ نہیں ہو گا سوائے شعبدے بازی کے ۔ ہاں یہ بات ضرور ہے کہ اقتدار میں آنے والے عوام کے ایک حصے کو نام نہاد تبدیلی کے نعرے پر بے وقوف بنانے کی کوشش میں کسی حد تک کامیاب رہے ہیں لیکن یہ سب کچھ جلد ہی نقش برآب ثابت ہو گا ۔

تبدیلی کے خدوخال کیاہوں گے؟ اس بارے میں ’’مدینہ ماڈل‘‘ کی فلاحی ریاست جیسے خوش کن، جذباتی خیالات اپنی جگہ لیکن اصل تبدیلی کے خدوخال یہ ہیں کہ اقتدار کی چوکھٹ تک پہنچنے سے قبل ہی ٹانگیں کپکپانا شروع ہو گئی ہیں۔پی ٹی آئی کے معاشی ترجمان محترم اسد عمر نے اسی عطار کے لونڈے سے دوا لینے کی ٹھانی ہے جس کے سبب پورا معاشرہ بیمار ہو ا ہے۔ موصوف پچھلے پانچ برس سے نجکاری کے خلاف مسلسل بولتے رہے ہیں لیکن آج کہہ رہے ہیں کہ 200 سے زائدریاستی اداروں کو بیچنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ وہ بین الاقوامی مالیاتی ادارہ اور ممالک جن کے خلاف حب الوطنی کے نعرے گلا پھاڑ کر لگائے جا رہے تھے آج ان کی چوکھٹ پر سجدہ ریز ہو کر 12ارب ڈالرکی خیرات مانگی جا رہی ہے۔ جسے ہمارے حکمران امداد اور خیرات کا نام دیتے رہے ہیں وہ بنیادی طور پر وہ زہریلا چارہ ہے جس میں مچھلی کو نہ صرف پھنسایا جاتا بلکہ ہلاک کیا جاتا ہے۔تبدیلی کے علم بردار IMFکے سامنے مکمل طور پر ہتھیار ڈالنے اور ملک کو گروہ رکھنے کے لیے تیار بیٹھے ہیں ۔اس کے نتیجے میں عوام کی تعلیم، صحت ، بجلی ، گیس اور ٹرانسپورٹ پر ملنے والی ریاستی امداد ختم اور غربت میں اضافہ ہوگا ۔ اداروں کی نجکاری سے بے رزوگاری پھیلے گی اور نجی مالکان اپنی مرضی سے قیتموں کا تعین کریں گے جیسا کہ کے ۔ الیکٹرک کی شکل میں کراچی کے عوام بھگت رہے ہیں ۔تبدیلی کے نعرے کے ساتھ عوام پر مسلط کردہ گروہ دراصل اس عوام دشمن معاشی و سیاسی ایجنڈے کو پورا کرنا چاہتا ہے جسے ماضی کے حکمران پایہ تکمیل تک پہنچانے میں ناکام رہے اسی لیے محترم اسد عمر صاحب ایک ٹی وی انٹرویو میں گلہ کر رہے تھے بلکہ ناراض ہو رہے تھے کہ پچھلی حکومت کسی بھی ادارے کو بیچنے میں ناکام رہی ہے۔ اسدعمر کو بتانا ضروری ہے کہ ماضی کے حکمران بھی نجکاری چاہتے تھے لیکن مزدور طبقے نے اپنی مزاحمت سے انھیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا ۔ آپ کے برادر کبیر پچھلی حکومت میں نجکاری کی بیل کو مونڈھے چڑھانے میں ناکام رہے اور آپ بھی ایسا کچھ کرنے میں کامیاب نہ ہوں گے ۔ گو کہ آپ کو مقتدرہ قوتوں اور عدل کے ایوان میں بیٹھے بڑوں کی آشیر باد حاصل ہے لیکن وقت کا دھارا بتا رہا ہے کہ ان کے عزائم ناکام ہونے میں اس سے بھی کم وقت لگے گا جس کا عندیہ مخالفین دے رہے ہیں۔

لگتا ہے کہ اس بار جو رن پڑنے جا رہا ہے وہ بہت جلد اقتدار میں لائے جانے والوں کو گھیر لے گاْ اور جو اس چلتی ٹرین میں تیزی سے سوار ہوئے ہیں وہ اترنے میں بھی دیر نہیں لگائیں گے ۔لیکن اس ساری اکھاڑ پچھاڑ میں عام لوگوں کی زندگیوں پر بدترین اثرات ہوچکے ہوں گے اور اس کے ازالے کے لیے پھر دہائیاں  درکار ہوں گی ۔اس سے بچنے کا طریقہ کار یہ ہے کہ عوام منظم انداز میں پہلے مرحلے میں ہی معاشی ترقی کے’’ تیر بہدف‘‘ اور حقیقت میں عوام دشمن IMFنسخے کو استعمال سے پہلے روک دیں ۔اس کے لیے عوامی قوتیں ملک پرمسلط کردہ حکمرانوں کے معاشی وسماجی ایجنڈے کی منظم مزاحمت کریں ۔یوں اس سلسلے میں عوامی نمائندگی کے تمام اداروں میں موجود منتخب نمائندوں کو بھی اس پر آواز ملانے پر مجبور کیا جا سکتا ہے ۔اس لیے کہ غیر جمہوری طریقوں سے اقتدار تک پہنچنے والے نہ صرف جمہوریت پر نقب زنی کے مرتکب ہوئے بلکہ وہ اپنے جلو میں محنت کشوں اور عوام کے لیے معاشی وسماجی ابتری کا پیغام بن کر بھی نمودار ہوئے ہے۔

ناصر منصور
محنت کی نجات کے کوشاں ناصر منصور طالبعلمی کے زمانے سے بائیں بازو کی تحریک میں متحرک ایک آدرش وادی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *