اگر الرازی زندہ ہوتے ۔۔وہارا امباکر

آج پاکستان ہو یا کئی عرب ممالک، میڈیکل کے کئی اداروں کا نام الرازی کے نام پر رکھا جاتا ہے۔ ایران میں ہر سال 27 اگست ان کے نام پر رازی ڈے کے طور پر منایا جاتا ہے۔ طب کی تاریخ میں بقراط اور جالینوس کی طرح الرازی ایک بڑی ہی قدآور شخصیت ہیں۔ وہ تھے کون؟ اور اگر آج زندہ ہوتے تو؟

دسویں صدی کے بغداد کے سائنسدان کا تصور چھوٹی داڑھی، پگڑی اور عرب چغے میں ملبوس، قالین پر بیٹھے، گاوٗ تکیے سے ٹیک لگائے کتاب کی ورق گردانی کرتے شخص کا آتا ہے، یہ تاثر مغربی آرٹسٹس کی وجہ سے ہے اور درست عکاسی نہیں کرتا۔

الرازی ایک بڑی متحرک شخصیت تھے۔ 30 سال کی عمر میں بغداد میں علی ابنِ ساحل کی شاگردی میں طب کا علم حاصل کیا۔ جالینوس کا علم، بقراط کی دانائی اور اخلاقیات کو اپنی ذہانت اور ہمدردانہ فطرت کے ساتھ ملا کر ایک ماہر طبیب اور استاد بنے۔ عباسی دور میں ہسپتالوں کو فارسی زبان سے لئے گئے لفظ سے بیمارستان کہا جاتا تھا۔ خیرات سے ادارے بنائے گئے جن کو “وقف” کہا جاتا تھا۔ مخیر افراد اپنی دولت فلاحی کاموں کے لئے اس میں عطیہ کرتے۔ ان ٹرسٹ کے فنڈ ہسپتالوں کی تعمیر میں خرچ ہوئے لگے۔ قرطبہ، قاہرہ اور دورے بڑے شہروں میں بیمارستان کھلنا شروع ہو گئے۔ ان کو نسطوری کرسچن اداروں کی طرز پر منظم کیا جانے لگا۔

خلیفہ الکتفی باللہ نے سب سے بڑا ہسپتال بغداد میں بنانے کا ارادہ کیا اور الرازی کو یہ کام سوپنا۔ جگہ کا انتخاب کرنے کے لئے الرازی نے شہر کے مختلف علاقوں میں گوشت کے ٹکڑے لٹکائے تا کہ یہ دیکھا جا سکے کہ سب سے کم کہاں کا گوشت خراب ہوتا ہے۔ وہاں کی “ہوا” زہادہ بہتر ہو گی اور وہ ہسپتال کے لئے اچھی جگہ ہو گی۔ یہ بنوا کر اپنے شہر میں ہسپتال کا چارج سنبھالا اور پھر بیمارستان ال مقتدری کے ڈائرکٹر کے طور پر۔ الجبیر کے الفاظ میں “یہ ہسپتال کسی محل سے کم نہیں تھے۔ وارڈ اور کمرے، جن میں ڈاکٹر پیر اور جمعرات کو راوٗنڈ لگاتے۔ بیماروں کے لئے کھانے اور ادویات کے لئے سٹاف ہوتا”۔

ان میں خاص چیز میڈیکل ایتھکس کا اعلیٰ معیار تھا۔ یہ سٹینڈرڈ علی الرہاوی نے اپنی کتاب “طب کے آداب” میں لکھے تھے اور ان پر سختی سے عمل ہوتا تھا۔ مریض کا مذہب، نسل، پس منظر، امارت وغیرہ نہیں دیکھے جاتے تھے۔

الرازی نے اس میں کئی نئے خیالات کا اضافہ کیا۔ نفسیات کے وارڈ بنائے۔ یہ وہ وقت تھا جب باقی تمام دنیا میں نفسیات بیماریوں کو شیطان یا جن چڑھنے کی طرف منسوب کر دیا جاتا تھا۔ الرازی کا کہنا تھا کہ بیماری مریض کے جسمانی نظام کی ہے، اس کا علاج صرف طبیب کا کام ہے۔ نفسیات اور سائیکوتھراپی کا باقاعدہ آغاز الرازی نے کیا۔ انہوں نے عطائیوں کے خلاف باقاعدہ کام کیا۔ وہ عطائی جو شہر میں گھوما کرتے تھے، اپنی طرح طرح کی “ادویات” لے کر۔ انہوں نے اس پر کتاب لکھی جس کا نام “لوگ ماہر طبیب کے بجائے عطائیوں اور دھوکہ بازوں کو کیوں ترجیح دیتے ہیں”۔ ان عطائیوں کے طریقوں پر کڑی نکتہ چینی کی اور اس میں ڈاکٹروں کو اپنا کنڈکٹ دیکھنے کو بھی کہا۔

انہوں نے اس چیز کی تفریق کی کہ کچھ بیماریاں ایسی ہیں جو ٹھیک ہو سکتی ہیں جبکہ کچھ ہیں جو کہ ناقابلِ علاج ہیں۔ ایک کتاب اس پر لکھی کہ “طبیب کے پاس ہر چیز کا جواب نہیں”۔ یہ خیال اپنے وقت کا ایک بڑا اچھوتا خیال تھا (آج بھی کئی لوگ اس کو تسلیم نہیں کرتے)۔ انہوں نے کینسر اور کئی دوسرے کیسز کے بارے میں یہ لکھا کہ اس صورتحال میں علاج کی کوشش نہیں کرنی چاہیے، توجہ مریض کی زندگی کی کوالٹی بہتر کرنے پر ہونی چاہیے۔

ڈاکٹروں کے لئے بنائے گئے ضابطے میں یہ زور دیا کہ تمام ڈاکٹر ہر وقت نئی میڈیکل انفارمیشن سے آگاہ رہنے کی پوری کوشش کریں گے۔ ان کے ٹرینننگ مینوئل میں جالینوس اور بقراط سے لی گئی میڈیکل ایتھکس بھی نمایاں ہے اور اس میں اضافہ بھی۔

آنکھ کی بیماری سے پیٹ کی تکلیف، غذا کی تجویز سے کیس سٹڈی تک ہر مضمون کو الگ رکھنے کا طریقہ وضع کیا۔ ان کے اکٹھے کئی گئے کاموں سے لکھی گئی کتاب الحاوی فی الطب تئیس جلدوں پر مشتمل ہے اور آج تک عربی میں میڈیکل پر لکھی جانے والی سب سے ضخیم کتاب ہے۔ چیچک اور خسرے پر لکھی گئی کیس سٹڈیز ان دو بیماریوں پر لکھا جانے والا سب سے قدیم کام ہے۔

ان کا کیا ہوا ایک اور بہت ہی اہم تجربہ دنیا کا پہلا کنٹرولڈ کلینکل ٹرائل کہا جا سکتا ہے۔ گردن توڑ بخار میں مبتلا مریضوں کے دو گروپ بنائے۔ ایک کی لہوکاری ْکی (فاسد خون نکالنا)۔ دوسرے کو نہیں۔ یہ تجربہ انہوں نے اس طریقے کی افادیت کو ٹیسٹ کرنے کے لئے کیا تھا۔ اگر آپ اس پر ہنسیں کہ بھلا فاسد خون کیا ہوتا ہے اور ایسے بھی کوئی ڈاکٹر علاج کرے گا تو یاد رہے کہ یہ طریقہ کئی صدیوں تک رائج رہا تھا اور صدیوں تک مشہور طریقہ رہا تھا۔ انیسویں صدی میں امریکی صدر جارج واشنگٹن کی موت نمونیا کا اس طرح سے علاج کرنے کی وجہ سے ہوئی تھی۔

یہ الرازی کی تجربے پر انحصار کرنے کی ایک مثال تھی۔ انہوں نے یہیں پر بس نہیں کی۔ جالینوس، جن کا کام اتھارٹی مانا جاتا تھا، کے کئی خیالات پر سوال اٹھائے۔ جسم کے چار سیال مادوں جیسے خیالات کو چیلنج کیا۔ “الشکوک آلا جالینوس” کے نام سے کتاب لکھی۔ ان میں یہ جرات تھی کہ صدیوں پرانے طریقوں کو چیلنج کر سکتے تھے اور جو ٹھیک نہیں لگتا تھا، کہہ دیتے تھے۔ جس طرح ایک طرف انہوں نے عطائیوں کو نکتہ چینی کا نشانہ بنایا، وہاں پر جالینوس کی بخار پر تھیوری جیسی چیزوں کو بھی نہیں چھوڑا۔ اگرچہ تنقید کرنے میں انہوں نے احتیاط سے کام لیا۔

ان کی ایک اور خاصیت تجربے کے ہر ایک قدم کو بڑی تفصیل سے ریکارڈ کرنا ہے جو ان کی کتاب الاسرار میں بھی نظر آتا ہے۔ یہ کتاب الکیمیا پر تھی لیکن الکیمیا کی روایتی کتابوں کی طرح پرسرار اور جادوئی خیالات نہیں، کھلے تجربوں پر تھی۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اگر الرازی آج زندہ ہوتے؟ اگر اندازہ لگایا جائے تو، بہت خوش ہوتے کہ ان کی فیلڈ کس قدر ترقی کر گئی ہے۔ بہت حیران ہوتے کہ کئی خیالات جن کو وہ ایک ہزار سال پہلے مسترد کر چکے تھے، وہ بھی آج مرے نہیں، مغربی ممالک میں بھی ایسے لوگ ہیں جو ان کو استعمال کرتے ہیں، لیکن اس سے کہیں زیادہ وہاں پر جہاں سے الرازی نے میڈیکل تجربات کی بنیاد رکھی۔ جن خیالات کو تو کب کا تاریخ کے کچرا دان میں ہونا چاہیے تھا، وہ مرے نہیں۔ بہت افسردہ ہوتے کہ جن عطائیوں کے خلاف وہ کام کرتے رہے، وہ ابھی بھی موجود ہیں۔

الزاری میڈیکل سنٹر، الرازی ہسپتال، الرازی لیباریٹری دیکھ کر کچھ فخر کا احساس ہوتا کہ ان کی قدر کی گئی لیکن پھر الرازی حجامہ سنٹر اور الرازی ہومیو کلینک؟ اسے دیکھ کر شاید وہ اپنا سر پیٹ لیتے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *