• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • پاکستان انجینئرنگ کونسل الیکٹرونکس پنجاب کے نامزد امیدوار اعجاز احمد ضیاء (انٹرویو) حصہ دوئم۔۔۔کمیل اسدی

پاکستان انجینئرنگ کونسل الیکٹرونکس پنجاب کے نامزد امیدوار اعجاز احمد ضیاء (انٹرویو) حصہ دوئم۔۔۔کمیل اسدی

پاکستان انجینئرنگ کونسل الیکٹرونکس پنجاب کے نامزد امیدوار اعجاز احمد ضیاء (انٹرویو) حصہ اول۔۔۔۔۔۔ محمد کمیل اسدی

سوال:- ایک بہت ہی ضروری سوال جو میں بحیثیت انجینئر پوچھنا لازم سمجھتا ہوں کیونکہ یہ صرف میری نہیں بلکہ ہر انجینئر کی دلی آواز ہے۔ حکومت یا پی ای سی کی طرف سے کم از کم تنخواہ متعین کیوں نہیں کی جاتی۔ بہت سے انجینئرز جو بحالت مجبوری چھوٹی کمپنیز یا فرمز میں کام کررہے ہوتے ہیں۔ سیٹھ کمپنیز 8 سے 15 ہزار میں ٹرخا دیتے ہیں۔ جبکہ اس سے بہتر تنخواہ تو چوکیدار اور خاکروب لے رہے ہوتے ہیں۔

جواب:- جی بالکل میں آپکی پوری بات سے اتفاق کروں گا۔ یہ حکومت اور پی ای سی کی ذمہ داری ہے کہ کمپنیز کو باؤنڈ کریں اور سلیبز مقرر ہونے چاہئیں۔ اس کے علاوہ کچھ کنڈیشنز اور تجربہ کی بنیاد پر ایک پیکج متعین ہونا چاہئے نا کہ کمپنی اپنے مفادات کی طرح جو چاہے پیکج مقرر کردے۔
سوال:- دیکھا یہ گیا ہے اکثر آرگنائزیشن میں پاکستان انجینئرنگ کونسل کے سرٹیفکیٹ کی کوئی ویلیو نہیں ہے۔ جبکہ یہ ہر کمپنی کے لئے ضروری ہونا چاہئے تھا کہ وہ صرف رجسٹرڈ انجینئرز کو نوکری دینے کے پابند ہوں۔ بار دیگر کمپنیز میں بی اے بی کام ایف پاس افراد انجینئرز کی پوسٹ پر براجمان نظر آتے ہیں۔ کیا یہ پی ای سی کی ذمہ داری نہیں کہ ایسی کمپنیز کو بلیک لسٹ کرے یا ان کا لائسنس منسوخ کرے؟
جواب:- ہم بالکل اس کی فیور میں ہیں اور اسی طرح کی اصطلاحات لے کر آئیں گے۔ غیر رجسٹرڈ انجینئرز یا میرٹ سے بالائے طاق نااہل افراد کو ٹیکنیکل افراد پر ترجیح دینے پر سخت پکڑ ہونی چاہئے اور انشاءاللہ ہم تفریق اور نا انصافی کے خاتمہ کے لئے ایسے اقدامات کریں گے کہ انجینئرزکمیونٹی کی ساکھ اور سیلف ریسپیکٹ جو مجروح ہو چکی ہے وہ بحال ہو سکے۔
سوال:- اکثر آرگنائیزیشنز انجینئرز کو میڈیکل فیسیلٹی نہیں دیتیں۔اگرکچھ کمپنیز حاتم طائی کی قبر پر لات بھی مارتی ہیں تو ٖصرف سیلف میڈیکل سہولت یعنی والدین ، بیوی بچے اس سے مستشنٰی ہوتے ہیں۔اس سیلف میڈیکل میں بھی او پی ڈی شامل نہیں ہوتی صرف ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہونے پر آپ اس سہولت سے بہرہ مند ہو سکتے ہیں۔
جواب:- مختصر میں یہی کہنا چاہتا ہوں کہ میں اور میرا پینل ان تحفظات پر سب انجینئرز کے حامی ہیں اور ملٹی نیشنل کمپنیز پاکستان میں انجینئر کی تذلیل کے لئے جو پالیسیز بنا رہی ہیں۔ اور زیادہ تر ان کا رحجان آؤٹ سورسنگ کی طرف ہے ۔ ہمارا نعرہ بھی یہی ہے کہ To Elevate the Engineers Honour
جب اختیارات ہماری طرف منتقل ہوئے ان بنیادی سہولیات کے لئے احسن اقدامات کئے جائیں گے۔
سوال :- اس کے علاوہ لائف انشورنس کی سہولت کا مکمل فقدان ہے۔ ایسی صورتحال بھی دیکھنے میں آئی ہے کہ دوران جاب کسی حادثاتی موت کی صورت میں کولیگز چندہ کرکے ڈیڈ باڈی گھر والوں تک پہنچاتے ہیں۔ کیا پی ای سی ان فرعون نما قارونوں کو لگام نہیں ڈال سکتی ؟
جواب :- یہ بہت ہی افسوسناک صورتحال ہے۔ جب ادارے اپنا کام چھوڑ کر صرف سیاست کریں گے اور قابل افراد سامنے نہیں آئیں گے تو ان اداروں کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر نا صرف انجینئرز بلکہ عام ورکر بھی اپنے حقوق سے محروم کئے جائیں گے۔ یہ موجودہ پی ای سی کے لئے سوچنے کا مقام ہے کہ گذشتہ تین سالوں میں ہیلتھ و لائف انشورنس پر کام کیوں نہیں کیا گیا۔ ایج ایس ای (ہیلتھ سیفٹی انوائرنمنٹ ) کے رولز کی خلاف ورزی کرنے پر ایسی کمپنیز کے خلاف کیا کاروائی کی گئ ہے۔
سوال:- آپ کے دور میں سٹوڈنٹس انجینئرز کے لئے کیا کوئی امیدافزا پروگرامز کا آغاز ہو گا؟
جواب:- اپنی طرف سے میں یہ ہی رائے دوں گا کہ ہم یونیورسٹیز کے اندر کچھ اس طرح سے تبدیلی لائیں گے کہ وہ انڈسٹری کے ساتھ لنک ہوں اور جو تھیوری پڑھائی جاتی ہے اسے پریکٹیکل کے ساتھ ری لیٹ کیا جا سکے۔ اس طرح ایک انجینئر کے یونیورسٹی لیول پر ہی کانسیپٹ کلئیر ہوں اور ہماری کوشش ہو گی کہ پروفیشنل پریکٹیسینگ انجینئرز پیدا کر سکیں جن کی مانگ نا صرف اندرون ملک بلکہ بیرون ملک بھی ان کی ایک ورتھ ہو۔ اس کے علاوہ ایسے کورسزاور سوفٹ ویئرز جو فریش سٹوڈنس کی ڈیمانڈ میں اضافہ کرسکیں انہیں یونیورسٹی لیول پر ہی متعارف کرایا جا سکے۔
باقی میرا ٹیلی کام کا تجربہ ہے اور پروجیکٹ مینجر کے طور پر کافی پروجیکٹس مکمل کروائے ہیں جن میں قابل ذکر وائرلیس لوکل لوپ ، وارد ٹیلی کام ، یوفون اور ٹیلی نار کے پراجیکٹس شامل ہیں۔ دو سال کا میرا بیرون ملک میں فائبر پروجیکٹس پر بھی کام کرنے کا تجربہ رہا۔ میں اس تجربہ کو بروئے کار لا کر تمام انجینئرنگ ڈسپلن اور خصوصاََ الیکٹرونکس اور ٹیلی کام سیکٹر پر بھرپور فوکس کروں گا۔
سوال:- ٹاپ 100 میں کوئی پاکستانی یونیورسٹی شامل نہیں بطور قوم اور بالخصوص اانجینئر باعث شرم کا مقام ہے۔ بلکہ یہ پی ای سی کا فیلئر ہے کہ وہ ایسی یونیورسٹیز سامنے نہیں لا سکی جو ٹاپ یونیورسٹیز میں سٹینڈ کرسکے؟ وہ کن بنیادوں پر پی ای سی سرٹیفکیٹ بانٹتے رہے ہیں؟؟؟ کیا ہم فارن ایکسپرٹس کو ہائر کرکے ان فلاز پر کام نہیں کر سکتے جن کی وجہ سے ہماری رینکنگ اور ایجوکیشن لیول گراوٹ کا شکار ہے۔
جواب:- یہ بہت افسوسناک صورتحال ہے۔ جو میرے علم میں ہے کہ پاکستان انجینئرنگ کونسل پر 15 سال کرپٹ مافیا کا قبضہ رہا۔ کس کا رہا میں انکے نام نہیں لوں گا آپ ہسٹری اٹھا کر دیکھ لیں۔ آپ سب لوگ جانتے ہیں۔ میں اس میں کریڈٹ سلیم جاوید قریشی صاحب( موجودہ چئیرمین) کو ضرور دوں گا کہ انہوں نے گزشتہ 6 سال میں اس مافیا کا خاتمہ کیا۔ لیکن جو امیدیں لوگوں نے ان سے وابستہ کی تھیں ان پر وہ پورے نہیں اتر سکے۔ کہا جاتا ہے کہ ادھر ایسا مافیا بیٹھا ہوا ہے جو پینل بھی الیکشن جیتے اس سے فرق نہیں پڑتا۔ انکا شکار ہو جاتا ہے۔
انشاءاللہ ہم جیتے تو کسی کٹھ جوڑ کا شکار نہیں ہوں گے اور اللہ تعالٰی کی مدد ہمارے ساتھ شامل حال رہے۔ ہم انشاءاللہ فارن اسسٹنسی سے یونیورسٹیز کا لیول بڑھانے کی بھرپور کوشش کریں گے۔ یہ بالکل پی ای سی کی ہی ذمہ داری ہے جسے احسن طریقے سے نبھایا نہیں گیا۔ انشاءاللہ ہم جس حد تک ہوا ڈائریکشن سیدھی کریں گےتاکہ ہمارے بعد میں بھی آنے والوں کو دوبارہ گراؤنڈ لیول سے کام کا آغآز نہیں کرنا پڑے اور اسی سمت کام کو بڑھاتے چلیں۔
ہمارا دھیان سابقہ باڈی کی طرح ٹی اے بنانے کی بجائے انجینئرز کی گروتھ کی طرف ہو گا۔
سوال:- آخری سوال انجینئرز کے لئے کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
جواب:- میں اپنے ینگسٹز سے انجینئرز سے یہی کہوں گا کہ وہ اٹھیں اور 12 اگست کو ووٹ ضرور کاسٹ کریں۔ ویب سائٹس پر جائیں پروفائلز چیک کریں اور سب پینلز کو سنیں۔ خود تجزیہ کریں کمپیئر کریں کہ ہم ووٹ کے لئے کس امیدوار کو سب سے بہتر سمجھتے ہیں۔ ہمارے پینل میں الحمداللہ ایکیڈمیا ، انڈسٹری سےوابستہ افراد اور پریکٹیسنگ انجینئرز شامل ہیں۔ چئیرمین صاحب انجینئر وسیم نذیز جیسے قابل ترین شخص کی قیادت میں ان تمام اہداف کو حاصل کرنا یقینی نظر آتا ہے جن کا ذکر میں پہلے کر چکا ہوں۔
میری گزارش ہے کہ 12 اگست کو باہر نکلیں اور اپنے پڑھے لکھے ہونے کا ثبوت دیں۔ آپ ملک کی کریم ہیں اور تبدیلی لانے کے لئے چاہے دھوپ گرمی بارش برداشت کرنی پڑے تو کچھ لمحات کے لئے ان صعوبتوں سے گزر کر اپنے لئے اور اپنے بعد آنےوالے انجینئرز کے لئے امید کا چراغ روشن کر جائیں۔
ووٹ کا ٹرن آؤٹ ثابت کرے گا کہ بیداری و تبدیلی کی لہر آپ تک پہنچ چکی ہے۔
آخر میں آپ کا، مکالمہ کے چیف ایڈیٹر، ایڈیٹر اور باقی ٹیم ممبرز کا تہہ دل سے شکریہ۔

Avatar
محمد کمیل اسدی
پروفیشن کے لحاظ سے انجنیئر اور ٹیلی کام فیلڈ سے وابستہ ہوں . کچھ لکھنے لکھانے کا شغف تھا اور امید ھے مکالمہ کے پلیٹ فارم پر یہ کوشش جاری رہے گی۔ انشا ء اللہ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”پاکستان انجینئرنگ کونسل الیکٹرونکس پنجاب کے نامزد امیدوار اعجاز احمد ضیاء (انٹرویو) حصہ دوئم۔۔۔کمیل اسدی

  1. میری فرینڈ لسٹ میں 500 سے زائد انجینئرز موجود ہیں جومیرے قریبی دوست، آفس کولیگ اور یونیورسٹی فیلوز ہیں۔ یارو الیکشن 12 اگست 2018 کو منعقد ہو رہا ہے۔ کیا اب بھی اپنے رائٹس کے لئے کوئی رائٹ پینل کا انتخاب نہیں کرو گے؟
    3 دن باقی ہیں اور پھر وہی رونا رونا ہو گا کہ ہمارے حقوق کے لئے آج تک کسی نے آواز کیوں نہیں اٹھائی؟
    پی ای جی (PEG) پینل میری نظر میں وہ پینل ہے جس پلیٹ فارم سے ہم اپنے حقوق کی جنگ کا آغاز کر سکتے ہیں۔
    صوبوں کی بنیاد پرمختلف وٹس ایپ گروپ بنائے گئے ہیں ہمارے شانہ بشانہ کھڑے ہوں تا کہ ہم ایک آواز بلکہ ایک طاقت بن کر اپنے حقوق کا تحفظ کر سکیں۔
    آپ سے وعدہ رہا کہ اگر یہ پینل ہمارے حقوق کا تحفظ نہیں کرسکا تو اگلے الیکشن میں بذات خود حصہ لوں گا بشرطیکہ زندگی رہی اور آپ کا ساتھ بھی رہا۔
    مہربانی فرما کر اسے شئیر بھی کر دیں تا کہ سب انجینئرز ایک پلیٹ فارم پر متحد ہو سکیں۔
    آپکا اپنا محمدکمیل اسدی
    Follow this link to join my WhatsApp group:
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گلگت بلتستان کے انجینئرز کے لئے
    https://chat.whatsapp.com/509qzyHrVs8KPn0mj7mLMJ
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آزاد کشمیر کے لئے
    https://chat.whatsapp.com/2ZGgixWEQ8IDHiL1RzFjSg
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    کے پی کے کے لئے
    https://chat.whatsapp.com/6hcsZLB8KFWL3siBYnsfJ0
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    بلوچستان کے لئے
    https://chat.whatsapp.com/AWApLk96YHNK1EboHRALT0
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    سندھ انجینئرز کے لئے
    https://chat.whatsapp.com/9cU5SUBXIHmIFUnUhiWxZH
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    پنجاب انجینئرز کے لئے
    https://chat.whatsapp.com/6M6d3uIrSFMExUbjQuONlY
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *