آگاہی!ایک مختصر تجزیہ۔۔۔۔عائشہ یاسین

آگاہی کہنے کو تو بڑا آسان سا لفظ ہے پر اس کے معنی بے انتہا مشکل ہیں۔ زندگی کے تجربے کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ آگاہی  آدھی موت ہے. لڑکپن میں ہر بات کو جاننے اور سمجھنے کی جستجو تھی۔ جب تک  باتیں اور ان کے معنی پوشیدہ رہی زندگی اتنی ہی دلکش اور رنگوں سے سجی معلوم ہوتی تھی۔ سب کچھ جان لینے کی لگن میں نجانے کن کن مراحل سے ہم گزرتے رہے اور بعد میں  آگاہی واقعی آدھی موت معلوم ہوئی۔
جب تک انسان لاعلم اور انجان رہتا ہے تو بہت سی سوچوں اور اذیتوں سے آزاد رہتا ہے جیسے جیسے علم کے مراحل طے کرتے جاتا ہے ویسے ویسے ہم پر ذمہ داریاں بڑھتی جاتی ہیں۔ سوچ کی یلغار اور ان کے لغوی معنی ہمارے ذہن اور دل پر اثر انداز ہوتے ہیں اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سارے سوالات کے جوابات ملتے جاتے ہیں اور ہم دانا ہوتے جاتے ہیں ۔
۔اسی کے ساتھ ساتھ   آگاہی  ایک بہت ہی خوبصورت مرحلہ بھی ہے جہاں عقل و شعور اور رہبری کا احساس  ہوتا ہے ۔

آگاہی انسان کے سوج کو وسعت اور تقویت بخشتی ہے۔ ذہن  کے خالی کینوئیس پر سیاہی کے اک نقطے سے شروع ہو کر قوس و قضا کے رنگ بکھیر تی ہے اور اک منظر نامہ  پیش کرتی ہے اور ایک وقت ایسا آتا ہے کہ  ہمارے اردگرد  کا ماحول  پرنور  ہوجا تا ہے ۔ انسان پر زندگی کی  معنی ظاہر ہونے لگتے  ہے۔ بے شک  انسان معراج سے متعارف ہوتا ہے اور علم و فہم کے دریچے کھلنے لگتے ہیں۔
کائنات کے تمام راز اس جانے جانے پر منحصر  ہے ۔ ایک خیال کا  مادی مظہر تک کا    سفر آگاہی  کی بدولت ہے ۔
کیا ؟ کیوں ؟کب اور کیسے کی تھکن ، انسان کو کائنات  کے راز و رموز  کو سمجھنے ،جاننے اور آزمانے کے گر سکھاتے ہیں ۔
اسی لگن کی بدولت انسان  ترقی کے تمام تر اونچائیوں  کو چھو رہا ہے۔

یہ کھوج کا سفر آدم کی تخلیق سے جاری ہے۔ یہ کیا اور کیوں کے پاداش میں ہونے والے تمام ایجادات نے انسان کو چاند پر قدم رکھنے پر مجبور کر دیا۔یہ رب کا دیا ہوا علم ہی تو تھا جس سے انسان کو برتری ملی۔شعور اور تحت الشعور تک رسائ ملی اور اسی علم کی بدولت جب رب نے آدم کو بجنی مٹی سے تخلیق کیا اور روح پھونکی اور پوچھا۔
‘ قالو بلا’؟”کیا میں تمہارا رب ہوں؟”۔
تو کانوں نے سنا، آنکھوں نےدیکھا اور جب شعور و عقل نے accept کیا تو آدم نے گواہی دی کہ تو ہی میرا رب ہے۔
علم و آگاہی کا سلسلہ آدم کی تخلیق سے جاری ہوا اور اس کو سوچنے سمجھنے اور پرکھنے کی طاقت ملی۔یہ سوچنے سمجھنے کی خصوصیت ہی انسان کو انسان بناتی ہے۔اس کو دوسرے حشرات الارض و سماوات سے الگ اور بالا تر کرتی ہے ۔اسی لیے اللہ نے انسان کو عدل و منزلت کی تعلیم دی تاکہ وہ اپنی عقل اور دانائی  کو بروےء کار لاکر تکوینی نظام کو سنبھالے اور اشرف المخلوقات ہونے کا ثبوت  دے۔
اب ضرورت اس بات  کی  ہے کہ بے شک ہم نے ترقی کو مسخر کرلیا۔ٹائم اینڈ اسپیس پر قابو پاکر خلاوں میں آنے جانے لگے۔ٹیکنولوجی اور سائنس میں بے تحاشا  ترقی کرڈالی۔پر اپنے اصل کو سراسر فراموش کردیا۔

دیکھنا یہ ہے کہ آگاہی عقل وشعور کی منزلوں کے ساتھ ساتھ اپنی اصل یعنی روح   تک کے سفر میں  آگے بڑھنے میں کسی قدر معاون ثابت ہوتی ہے۔
کیوں کہ اس ترقی نے ہمارے جسموں کو صرف آسانی دی ہے۔ٹائم اینڈ اسپیس کو کم کیا ہے۔ ہمارے ذہنی و جسمانی تفریح کو فروغ دیا ہے پر  سکون و راحت کو معطل کردیا ہے ۔ انسان نے یہ علم کا وجدان صرف جسمانی ترقی میں صرف کرڈالی اور ذہنی سکون کو سلیپنگ اور اینٹی ڈپریشن پلز سے مشروط کر ڈالا اور روحانی بقا کو نظر انداز کردیا۔
علم و آگاہی کا سفر ازل سے جاری ہے اور تا قیامت جاری رہے گا اور شاید مرنے کے بعد تک یہ سلسلہ قائم رہےگا جب تک کہ ہم پر ابد آن نہ پہنچے اور جب تک ہم اپنے رب کو اور اس کی ربوبیت کو جان اور پہچان نہ لیں  تب تک آگاہی کی ضرورت قائم رہے گی۔

علامہ اقبال نے کیا خوب کہا ہے کہ

خودی کو جس نے فلک سے  بلند تر دیکھا
وہی ہے  مملکت صبح و شام سے آگاھ۔۔۔!

اللہ ہمارا حافظ و ناصر ہو اور ہم پر علم و آگاہی کی در کھولے۔تا کے ہم اپنی ذاتی کا ادراک کر سکیں اور خود کو پہچان سکیں ۔آمین یا رب اللعالمین

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *