• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • مسلمان اضافہ آبادی میں حرفِ آخر ہیں ۔۔۔۔۔ اسد مفتی

مسلمان اضافہ آبادی میں حرفِ آخر ہیں ۔۔۔۔۔ اسد مفتی

انسانی نسل اس وقت زبردست تباہ کن دھماکےکے درمیان ہے۔ یہ انسانی آبادی میں بے پناہ اضافہ کا دھماکہ ہے، یہ دھماکہ بڑی مصیبتوں کا پیش خیمہ بھی ہوسکتا ہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی نے زمین کے ہر خطے میں قدرتی وسائل پر بوجھ میں اضافہ کردیا ہے۔ اس وقت آبادی میں اضافہ کی شرح 3 لاکھ سے 3½ لاکھ افراد روزانہ ہے، اس طرح سالانہ دنیا کی آبادی میں 7 کروڑ کا اضافہ ہورہا ہے۔ اس پر تمام لوگوں کو غذا، پانی، کپڑا اور مکان کی ضرورت ہوگی۔

مشکل یہ ہے کہ آبادی میں اس اضافہ کا بہت بڑا حصہ ان علاقوں سے متعلق ہے جہاں پہلے ہی وسائل کی فراہمی نازک حالات سے دوچار ہے۔آبادی میں زبردست اضافے نے دنیا کے مختلف علاقوں میں انسان کو بھوک، بیماری، آلودگی اور قحط جیسی مصیبتوں میںمبتلا کردیا ہے۔ اس اضافے پر روک ٹوک نہیں لگائی گئی تو اندیشہ ہے کہ صورتحال تباہ کن ہوجائے گی۔

انسانی زندگی، تہذیب کے ارتقا کے اولین دور میں دس بارہ ہزار پہلے 50 لاکھ سے زیادہ نہ تھی لیکن جیسے جیسے زرعی سرگرمیوں میں اضافہ ہوا اور انسان بستیوں میں بسنے لگے، خیال ہے کہ 14 ویں صدی عیسوی تک دنیا میں لگ بھگ ایک ارب لوگ ہی آباد تھے، بیماریوں کی بہتات اور دواوں  اور غذائی وسائل کی محدود فراہمی نے دنیا میں آبادی کو کنٹرول رکھا چنانچہ ماہرین نے یہ بات تسلیم کی کہ 500 برسوں تک آبادی میں کوئی خاطر خواہ اضافہ نہیں ہوا لیکن جیسےہی صنعتی انقلاب نے دنیا میں اپنی گرفت مضبوط کی سائنس اور خاص طور پر طبی سائنس کی ترقی نے صورتحال کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔

چنانچہ 1850 میں دنیا کی آبادی ایک ارب 5 کروڑ تک جاپہنچی۔ مگر محض ایک سو سال کے اندر اندر یعنی 1987 تک دنیا میں 5 ارب لوگ بس رہے تھے اور اب اکیسویں صدی تک پہنچتے پہنچتے دنیا کی آبادی ساڑھے 7ارب ہوگئی ہے۔لیکن ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ صنعتی انقلاب کی جائے پیدائش یورپ میں یورپی یونین کی آبادی میں 2050 تک ڈرامائی کمی واقع ہوجائے گی اور ایسا لاکھوں تارکین وطن کی آمد کےباوجود ہوگا۔

ایک اندازے کے مطابق یورپ میں اموات بدستور پیدائش سے زیادہ ہوں گی اور یہ سلسلہ پوری یورپین یونین میں جاری رہے گا۔یورپین یونین میں ایک حالیہ سروے کے مطابق 2019 تک اٹلی کی آبادی کم ہونا شروع ہوجائے گی۔اس کے ایک سال بعد یعنی 2020 میں جرمنی، سلواکیہ اور 2020 میں پرتگال کی آبادی کم ہونا شروع ہوجائے گی جبکہ برطانیہ کی آبادی قدرے بڑھتی رہے گی لیکن 2040 میں برطانیہ بھی اس کی زد میں آجائے گا۔ 2050 تک یورپین یونین کے ممالک کی آبادی 450 ملین ہوگی جو 20 ملین کم ہوگی۔

یہ سروے یورپ میں پنشن کا بحران پیش آنے پر حفظ ماتقدم کے طور پر کیا گیا ہے کیونکہ اکثر حکومتیں ریٹائرمنٹ کے بینیفٹ کی رقم ملازمت کرنے والوں کے ادا کردہ ٹیکسوں سے دیتی ہیں۔ ادھر یورپ سے دور جاپان کی آبادی میں نوجوانوں کی تعداد تیزی سے کم ہورہی ہے۔ جاپان کی آبادی کا پانچواں حصہ معمر افراد کی آبادی پر مشتمل ہے، جاپان کی حالیہ مردم شماری کی ایک رپورٹ کے مطابق جاپان کی آبادی کا پانچواں حصہ 65 سال اور اس سے زائد عمر کے افراد پر مشتمل ہے جبکہ ملک میں نوجوانوں کی تعداد میں 2004 کے بعد تیزی سے کمی واقع ہورہی ہے جس کی وجہ جاپان میں خاندانی منصوبہ بندی یعنی شرح پیدائش میں خطرناک حد تک کمی ہے۔ جاپانی حکومت کے مطابق ملک میں بوڑھے افراد کی آبادی میں اضافے اور نوجوانوں کی کمی سے ملکی اقتصادیات اور ترقی کو بڑا خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ جاپان میں گزشتہ برس کے اعداد و شمار کے مطابق ملک کی 12 کروڑ 70 لاکھ کی آبادی میں 21 فیصد آبادی 65 سال یا اس سے زائد عمر کے معمر افراد پر مشتمل تھی۔

یورپی یونین کے ہمسائے روس میں بھی اس سے ملتی جلتی صورتحال ہے لیکن روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے اس کیلئے ایک دلچسپ حل ڈھونڈا ہے، انہوں نے حال ہی میں اپنے سالانہ خطاب سے قوم کو اس گھمبیر صورتحال کا حل تجویز کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت روسی قوم کا سب سے بڑا مسئلہ کم ہوتی ہوئی آبادی ہے، شرح پیدائش میں کمی اور شرح اموات میں اضافے کے باعث فردم نگاری (ڈیموگرافی) کی صورتحال تشویشناک ہوگئی ہے۔

انہوں نے ایک قومی اسکیم کا اعلان کیا ہے جس کے تحت عورتوں کو زیادہ بچے پیدا کرنے کی ترغیب دی جائےگی اور حکومت انہیں بہت سی سہولتیں اور مراعات دے گی۔انہوں نے کہاکہ روس کی آبادی میں سالانہ سات لاکھ افراد کی کمی ہورہی ہے جس کی وجوہات گرتی ہوئی شرح پیدائش، شرح اموات میں اضافہ اور ملک سے ہجرت کرجانا شامل ہیں۔ انہوں نے اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے ایک دس سالہ پلان کے خدوخال کا اعلان کیا۔ اس منصوبے کا ایک اہم حصہ بچوں اور نوجوان عورتوں کی فلاح و بہبود کے اقدامات ہیں۔ اس ضمن میں ایک سے زیادہ بچے پیدا کرنے والی خاتون کو انعام و اکرام سے نوازا جائے گا اور دوسری مراعات دی جائیں گی۔ یاد رہے کہ یہی طریقہ کار سوویت یونین میں بھی اپنایا گیا تھا۔

ایک بیوی ہے چار بچے ہیں

عشق جھوٹا ہے لوگ سچے ہیں!

اسد مفتی
اسد مفتی
اسد مفتی سینیئر صحافی، استاد اور معروف کالم نویس ہیں۔ آپ ہالینڈ میں مقیم ہیں اور روزنامہ جنگ سے وابستہ ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *