• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • نواز شریف، آصف زرداری اورعمران خان۔ ایک نفسیاتی تجزیہ

نواز شریف، آصف زرداری اورعمران خان۔ ایک نفسیاتی تجزیہ

گزشتہ برس پاکستانی سیاست کے تین بڑے ناموں کی شخصیت کا تجزیہ کیا تھا۔ اب جبکہ عمران خان کا وزیراعظم بننا یقینی ہو چکا ہے انہیں اپنی ذات کے ان کمزور پہلوؤں کی طرف توجہ دینی پڑے گی۔

انسان جب بولتا ہے تو اس پورے عمل میں اس کی شخصیت کے تین پہلو کارفرما ہوتے ہیں۔ پہلی سطح پر وہ الفاظ ہیں جو اس کی زبان سے ادا ہوتے ہیں۔ دوسری سطح پر انسان کی عقلی شخصیت مصروف عمل ہوتی ہے۔ اس کا اولین فریضہ الفاظ کا چناؤ ہے ۔ یہ اس مقصد سے آگاہ ہوتی ہے جسے الفاظ کے ذریعے حاصل کرنا ہے اور اسے ان سماجی دائروں کا بھی ادراک ہوتا ہے جس کے اندر رہ کر مقصد حاصل کرنا ہے۔ الفاظ کا چناؤ ان دونوں پہلوؤں کو سامنے رکھ کر کیا جاتا ہے۔

تاہم ایک تیسری سطح وہ ہے جو فرد کی نفسیات کی گہرائیوں میں پوشیدہ رہتے ہوئے اس پورے عمل کا آغاز کرتی ہے۔ یہ جذباتی سطح ہے جو اس موضوع کا انتخاب کرتی ہے جس پر بات کرنا مقصود ہے ۔ اس سطح پر انسان ایک ایسے ہٹیلے بچے کی طرح ہوتا ہے جو ہر صورت اپنی من مانی کرنا چاہتا ہے۔ یہ بچہ جب کوئی فرمائش کرتا ہے تو عقلی سطح یہ جائزہ لیتی ہے کہ اسے سماجی دائروں کو توڑے بغیر کس طرح پورا کیا جائے۔

کسی بھی انسان کو سمجھنے کے لیے اس کی شخصیت کے تیسری سطح کا مطالعہ بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اس جذباتی شخصیت تک پہنچنے کا رستہ وہ الفاظ ہیں جو اس کی زبان سے ادا ہوتے ہیں۔ ان کا تجزیہ ہمیں عقل کے تخلیق کردہ جال کو توڑ کر اس نگری تک پہنچا سکتا ہے جہاں عریاں خواہشیں رقص کناں ہوتی ہیں اور انسان ان کے جھرمٹ میں راجہ اندر بنا ہوتا ہے۔

اس پس منظر کو ذہن میں رکھ کر پاکستان کے تین بڑے سیاسی رہنماؤں کی جذباتی شخصیت تک پہنچنے کی کوشش چند دلچسپ نکات سامنے لاتی ہے۔

میاں نواز شریف عموماً میڈیا سے دور رہتے ہیں، ان کے انٹرویوز پہلے سے طے شدہ ہوتے ہیں جس میں انہیں اپنے پڑھے لکھے ساتھیوں کی مدد ملتی رہتی ہے اور وہ عوامی جلسوں یا عالمی ملاقاتوں میں بھی پرچیوں کا سہارا لیتے ہیں۔ یہ سب کچھ اس لئے کیا جاتا ہے تاکہ لوگ ان کی عقلی شخصیت کو عبور کر کے حقیقی نواز شریف تک نہ پہنچ پائیں۔ ایک کامیاب سیاسی لیڈر کے لئے ایسا کرنا لازم ہے۔ تاہم بعض اوقات جذباتی سطح پر ہونے والی شکست وریخت اس آہنی پردے کو چاک کر دیتی ہے جو انہوں نے اپنے اردگرد تشکیل دیا ہوا ہے اور ان کی حقیقی شخصیت سامنے آنے لگتی ہے۔

پانامہ لیکس آنے سے پہلے وہ ایک ایسے مطمئن انسان تھے جن کے سامنے انتخابی نظام ہاتھ باندھے کھڑا تھا، سیکورٹی اسٹیبلشمنٹ بیک فٹ پر جا چکی تھی اور بیوروکریسی کاسہ گدائی تھامے ان کے در پہ بیٹھی ہوئی تھی۔ حسنی مبارک کا ایک پاکستانی ورژن اپنی مکمل شکل میں تیار ہو چکا تھا۔ ان کے خوابوں کی راہ میں حائل حقائق کی سب دیواریں زمین بوس ہو چکی تھیں اورتعبیر لب بام ہی رہ گئی تھی کہ پانامہ لیکس کا طوفان اٹھا اور ایک ڈیڑھ سال میں ہی ان کے ہاتھ پہ پھیلی کامیابی و کامرانی کی سب لکیریں مٹاتا چلا گیا۔ اس عرصے میں وہ جس قسم کے جذباتی بحرانوں سے گزرے وہ مسلسل میاں صاحب کی عقلی شخصیت کو کمزور کرتے گئے یہاں تک کہ نااہلی کے فیصلے نے انہیں پوری طرح سب کے سامنے عیاں کر دیا۔ زمان و مکان کی حد بندیوں سے ماورا، بے لگام طاقت کی خواہش رکھنے والا بچہ کھل کر سامنے آ گیا۔

“مجھے کیوں نکالا؟” یہ فقرہ میاں نواز شریف کو سمجھنے کی کلید ہے۔ یہ ایک ایسے بچے کی فریاد ہے جسے اس کی پسند کا کھلونا دکھا کر چھین لیا گیا ہو، ایک مسافر کی درد بھری پکار ہے جسے نخلستان کی جگہ سراب سے واسطہ پڑ گیا ہو یا ایک ایسی کونج کی کرلاہٹ ہے جسے اس کے متعین رستے سے بھٹکا دیا گیا ہو۔ اسلام آباد سے لاہور کے تین روزہ سفر کے دوران ان کی تقاریر اس مضطرب، شکوہ کناں، شکستہ خواب اور ناراض شخص کی دہائیاں ہیں جس کے خوابوں کی خوشنما تسبیح بکھر کر سنگین حقائق کی ایسی زنجیر بن گئی ہو جس سے چھٹکارا ممکن نہیں ہوتا۔ وہ اس زنجیر کی کڑیاں ایک ایک کر کے توڑنے کی سرتوڑ کوششیں کر رہے ہیں ۔ اس جدوجہد میں وہ کامیاب ہوتے ہیں یا نہیں یہ ایک الگ بحث ہے تاہم جذباتی شاک چہرے ، الفاظ اور رویوں کے ذریعے ان کی حقیقی شخصیت کی جھلکیاں سامنے لا رہا ہے۔

آصف زرداری کی گفتگو ایک ایسی ذات کا اظہار ہے جو خود کو بہت مکار اور اپنے مخاطبین کو بہت احمق سمجھتی ہے۔ اپنی جذباتی سطح پر وہ ایک خوفزدہ انسان ہیں جنہیں ہر طرف خنجر بردار ہیولے نظر آتے ہیں۔ وہ ان بے شکل ہیولوں کو طاقتور اور شکل و صورت رکھنے والے انسانوں کو بہت کمزور گردانتے ہیں۔ جب ان کا خوف بڑھ جاتا ہے تو وہ خاموشی سے کسی محفوظ مقام پر خود کو چھپا لیتے ہیں اور جونہی یہ خوف کم پڑتا ہے وہ باہر آکرلوگوں کی خرید و فروخت کر کے خود کو یقین دلانے لگتے ہیں کہ واقعی ہر طرف پھیلے تمام لوگ بہت ہی کمزور ہیں جنہیں معمولی لالچ کے عوض قابو میں لایا جا سکتا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ جب تک وہ خود کو سندھ تک محدود رکھیں گے اس وقت تک بے نام ہیولے اپنے خنجروں کی نوک ان سے دور رکھیں گے۔ جونہی انہوں نے پنجاب کی دھرتی کو فتح کرنے کی کوشش کی، روم کے سیزر کی طرح ان کا جسم زخموں سے چھلنی کر دیا جائےگا۔خوف ہمیشہ چالاکی کو جنم دیتا ہے اور آصف زرداری کی شخصیت کی تشکیل میں اس خوف سے جنم لینے والی چالاکی بنیادی اہمیت رکھتی ہے جسے سیاست کا نام دیا جاتا ہے۔

عمران خان کا تجزیہ کریں تو ان کے اندر کا بچہ صرف اور صرف تعریف کا متمنی ہے۔ وہ ہمک ہمک کر فرمائشیں کرتا رہتا ہے کہ پوری دنیا اسے ایک ایسا ہیرو سمجھے جو ناممکن کو ممکن بنانے کا ہنر جانتا ہے۔ یہ بچہ اپنی ذات میں اسقدر مگن اور خارجی دنیا سے اتنا کٹا ہوا ہے کہ اپنی عقلی شخصیت کو ایک حد سے زیادہ اہمیت دینے کے لئے تیار نہیں ہے اور وقتاً فوقتاً اسے روند ڈالنے میں ایک انوکھی مسرت محسوس کرتا ہے۔ اسے اقتدار صرف اس لئے چاہئے تاکہ وہ لوگوں سے کہہ سکے کہ دیکھو اور میری تعریف کرو میں نے ایک اور ناممکن کام ممکن کر ڈالا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اسی جذبے کے تحت خان صاحب اقتدار بھی حاصل کر لیں اور اس کے بعد بہت اچھے کام بھی کر ڈالیں تاہم ایک سیاسی لیڈر کی جذباتی شخصیت کا اس طرح کھلے انداز میں سامنے ہونا بہت نقصان دہ بات ہے۔ کوئی سماج ہو، اس کے ادارے ہوں یا عالمی برادری ہو، یہ تمام ایسے افراد پر اعتماد کرتے ہیں جن کی ذات کا عقلی پہلو ان کی جذباتی شخصیت پر غالب ہو۔اس وقت عمران خان کی سب سے بڑی کمزوری یہی ہے جس سے انہیں مسلسل سیاسی نقصان پہنچ رہا ہے اور ان کے متلون مزاج ہونے کا تاثر مضبوط ہو رہا ہے۔

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *