• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • دنیا ئے اسلام کے مقدس ترین شہر کربلا کی مزید جھلکیاں۔۔۔۔سلمیٰ اعوان

دنیا ئے اسلام کے مقدس ترین شہر کربلا کی مزید جھلکیاں۔۔۔۔سلمیٰ اعوان

تین گھنٹے کی خجل خواری کے بعد جب واپس آئی۔جی چائے پینے کو چاہ رہا تھا۔مگر چائے نہیں قہوہ تھا۔میں نے بیگ سے اپنا گلاس نکالا۔قہوہ اُس میں ڈلوایا اور ہوٹل آگئی۔ریسپشن روم اس وقت خالی تھا۔صوفے پر بیٹھ کر گھونٹ بھرااور سامنے چلتے ٹی وی کو دیکھا۔
ہائے آگ دھوئیں اور جلتی گاڑیوں کے شعلوں میں بعقوبہ میں بم پھٹنے کی خبر تھی۔ہلاکتوں کے سین تھے۔کٹی پھٹی لاشوں کے ڈھیر تھے۔آہیں اور بین تھے۔گالوں پر زار زار بہتے آنسو تھے اور دماغ میں کشور ناہید تھی۔
وہ جب چاہیں ہمیں اپنی غلامی میں سمیٹیں
وہ جب چاہیں ہمیں انکار کی دہلیز پر لاکر کہیں
بس اِس قدر ہی ساتھ ممکن تھا
وہ جب چاہیں ہمارے ملک پہ
یلغار کرڈالیں
ہمیں نابود کرڈالیں
ہزاروں اور کروڑوں لوگ
ایسی ناروا اور وحشیانہ
خون کی بارش پہ ماتم گیرہیں
تو بھی انہیں کیا
تمہیں معلوم ہے کمزور قومیں
کِس قدر بھی جو ش میں آئیں
مقدر میں تو پھر وہ کربلا ہے
تمہیں معلوم ہے تم کربلا میں ہو
ہمیں معلو م ہے ہم کربلا میں ہیں!

آنسو پونچھتی،ناک صاف کرتی اُٹھ کر کمرے میں آگئی۔ لیٹی توآنکھ لگ گئی۔نسرین نے کوئی دو بجے اٹھایا۔وہ میرا اور اپنا کھانا لے آئی تھی۔گروپ کے کسی صاحب کی نیاز کا مزیدار کھانا۔
افلاق کی کال تھی وہ ڈھائی بجے تک کربلا پہنچ رہا تھا۔
اُس دلبر سے لڑکے کو دیکھتے ہی میری آنکھوں میں ممتا کے چراغ جلے۔میں نے اُس کے سینے پر بوسہ دیا۔میرے اندرنے حوصلہ پکڑا۔دلیر ہوا۔ ہوٹل میں جتنے لوگوں سے بابل جانے کی بات کی تھی سبھی نے کہا تھا”رسک ہے۔“
اوپر تپتا سورج تھا اور نیچے چھتری تانے میں۔ بہت سے جھٹکوں کی زد میں تھی۔فرات کو جیتے جی دیکھنا کیا کِسی خواب سے کم تھا؟بہت دیر اُسے دیکھتی رہی۔آنکھوں میں بسی ازلی پیاس کو بجھاتی رہی۔تاحد نظر پھیلے سر سبز کھیتوں، کجھور کے باغوں،درختوں، دور تک بکھرے گندم سے خالی کھیتوں کے رڑے میدانوں اور صحرائی وسعتوں کوتکتی رہی۔
یہی وہ فرات ہے اور یہیں کا وہ کلدانی شہنشاہ نوبخد نضرNebuchadnczzar جس نے یروشلم کی اینٹ سے اینٹ بجا ئی اور یہودیوں کو ریوڑوں کی طرح ہانکتا ہوا یہاں لے آیا تھا۔اسی فرات کے کنارے بخد نضر نے انہیں آباد کیا۔ اسی بستی کا نام انہوں نے تل ابیب رکھا اور یہیں وہ توریت کو یاد کر کے روتے اور آہیں بھرتے تھے۔اور یہی وہ بخد نضر تھا جو معلق باغات کیلئے مشہور ہوا۔
گاڑی میں دوبارہ بیٹھی۔افلاق بتاتا تھابابلBabylonبغداد کے جنوب میں کوئی نوے اور کربلا سے پینتیس کلومیٹر پر ہے۔یہ مشہور ہلا Hilla شہرسے کوئی دس کوس پر ہے۔اور جب بابل کے عشطر Ishtar گیٹ کے سامنے گاڑی رکی۔میں نے قدم باہر رکھا اور ملگجے آسمان اور زمین کی وسعتوں کو دیکھتے ہوئے خود سے کہا تھا۔
”اف دُنیا کی قدیم ترین تاریخ کا یہ شہر تہذیب و تمدّن کا گہوارہ،دنیا کو فکر و شعور کی آگہی دینے والا۔
تو میں یہاں ہوں۔اور وہ وقت میرے خیالوں میں دوڑا چلا آیا تھا جب میں بابل کو پڑھتی تھی۔اس کے معلق باغوں کے بارے سوچتی تھی پر کیا کبھی سوچا بھی تھاکہ تاریخ سے لبالب بھری اس دھرتی پر کبھی پاؤں بھی دھروں گی۔اِسے اپنی جیتی جاگتی آنکھوں سے دیکھو ں گی۔
شکریے کے تو لفظ ہی پاس نہیں تھے۔

میرا اور اس کا تعلق بڑا ہی محبوبانہ قسم کا ہے۔نم آنکھیں پیار و محبت کی لومیں دمکتی اُسے لامحدود وسعتوں میں بیٹھے دیکھتی تھیں۔
افلاق گاڑی پارک کرنے گیا ہوا تھا۔واپس آیا۔ میری بھیگی آنکھیں اور روندھے گلے کو محسوس کرتے ہوئے اُس نے قدرے حیرت سے مجھے دیکھا اور پوچھا۔میں ہنس پڑی۔
”جذباتی عورت ہوں۔آنسو تو پلکوں پر دھرے رہتے ہیں۔“
گیٹ کے داہنے ہاتھ درختوں کی چھاؤں میں بیٹھے گارڈ نے جلدی جلدی کا سگنل دیااور جب میں سڑک پرچلتی تھی مجھے وہ پینٹنگ یاد آئی تھی جو میں نے سیدون سٹریٹ کی ڈیوٹی فری شاپس میں دیکھی تھی۔گھوڑوں سے جتی رتھوں میں بیٹھے بادشاہ اور خوبصورت پہناووں میں لپٹی عورتیں جن کے بالوں میں جڑی ماتھا پٹیاں اور پھیلے ہاتھ اور فوجوں کی قطاریں جوعشطر گیٹ سے اندر داخل ہوتی تھیں۔

عشطر گیٹ

تب گیٹ تک جانے والی سڑک پر چلتے ہوئے میں نے سوچا تھابس تو چند لمحوں بعد میں اس بلندو بالا محرابی دروازے سے جسکی دیواریں نیلے پیلے رنگوں کے جانوروں سے بھری پڑی ہیں۔پرانی تاریخ کے ایک لیجنڈری شہر میں داخل ہونے والی ہوں۔یہ گزرگاہ اور اِ ن دیواروں پر یہ جانور بنو کد نضر کی یادگارہیں۔ اس کی فصیلیں اور معلق باغ بھی دنیا کے سات عجائبات میں شمار ہوتے تھے اور یہی وہ سرزمین ہے جس کا ذکر قدیم عہد نامہ عتیق میں ملتا ہے۔اور یہی وہ زمین ہے جس نے حمورابی جیسے بادشاہ کا زمانہ دیکھا جس نے دنیا کو تحریر دی،ایجادات اور تہذیب و تمدن دیا۔
مرکزی دروازہ صدیوں پرانی والی جگہ پر اُسی نام سے وابستہ ہے۔اصلی تو جرمنی والے لے گئے ہیں۔برلن کے پرگامنPergamon میوزیم میں ہے۔یہ یورپی قومیں سچی بڑی لٹیری اور لالچی ہیں۔انہیں تو چیزیں لوٹنے کے ہابڑے پڑے رہتے ہیں۔
ببلون کے گردا گرد پرانی حفاظتی دیوار 16 میل لمبی اور 8 میل چوڑی تھی۔نئی تعمیر شدہ بھی کچھ ویسی ہی مضبوطی لیے ہوئے ہے۔
عشطر گیٹ تو بے چارہ زخمی زخمی سا تھا۔چند جگہوں پر ڈریگونوں کی شبیہیں عجیب بے ڈھنگے سے تاثر اور ادھورے پن کی عکاس تھیں۔جیسے کِسی نے زور زبردستی سے بے چاروں کو ریپ کرنے کی کوشش کی ہو۔پتہ چلا تھا کہ ماشاء اللہ سے یہ دنیا کی مہذب ترین قوم کی فوج کا کارنامہ ہے کہ دیواروں سے اُن قدیم ترین اینٹوں کو اکھاڑ لیا جن سے یہ تصویریں صورت پاتی تھیں۔واہ کیا کہنے ہیں اُس سپر پاور کے۔

خیر سے یہ جنگ کے دنوں کا بیس کیمپ بھی تھا۔ہیلی پیڈ بنانے کیلئے زمین کو ہموار کرتے ہوئے ہر اُس چیز کی شکل بگاڑ دی گئی جسے اُس کی ماضی کی صورت دینے کیلئے جتنوں سے گھڑا گیا تھا۔اینٹوں کی توڑ پھوڑ, فوجیوں کی ٹینک توپیں،عمارت کے بعض حصّوں پر گولہ باری، اس کی روشوں کا ستیاناس۔ایک مہذب قوم کا طرز عمل۔
عشطر میسوپوٹیمیا کے باسیوں کی دیوی کا نام تھا۔محبت اور حسن کی دیوی۔۔۔۔
داخل ہونے کے ساتھ داہنی اور باہنی ہاتھ دو عمارتیں تھیں۔ایک طرف بیبلون سوینیرز کی شاپ اور ٹورزم کا دفتر تھا۔دوسری طرف میوزیم تھا۔
میوزیم کو دیکھنا میں نے واپسی کیلئے رکھ چھوڑا تھا۔محرابی راستے سے اندر داخل ہونے پرایک وسیع احاطہ لمبے چوڑے طاقوں والا کہیں عراق کے نقشوں اور کہیں عراقی تہذیبوں کے مختلف رنگوں کی عکاسی کرتی پینٹگز سے سجانظر آیا تھا۔عشطر گیٹ سے ذرا آگے نشیب پر سٹریٹ آف پروسیشنStreet of Procession ہے۔جس کی دونوں جانب کی دیواروں پرکہیں Adad تھا،طوفانوں کا دیوتا تو کہیں ڈریگون جانوروں کی تصوریریں سجی تھیں۔ان میں بڑا دیوتا مرڈک Mardukتھا۔
اندر در اندر بیشمار سلسلے پھیلے ہوئے تھے۔دیواریں بنیروں کی خوشنما کنگریوں سے سجی ہوئی تھیں۔
دیواروں کے اندر مقید یہ شہر چھت سے دور بکھرے ہوئے کھنڈرات کی صورت میں زیادہ وسعتوں کے ساتھ نظرآتا تھا۔یہ صدام نے جرمن آرکیالوجی انسٹی ٹیوشن کی مدد سے تعمیر کروایا۔ عالی شان محلات کے ساتھ عام شہریوں کے مکانات بھی تھے۔روشن دانوں اور کھڑکیوں کے بغیر۔لوہے کی جدید پتیوں کی صورت والے گیٹ سے سیدھی راہداری جو اردگرد بڑے بڑے چوکور کالموں پر اٹھے کالموں سے گھری تھی کو دیکھتی میں سیڑھیاں چڑھتی چلی گئی۔سیڑھیاں شیطان کی آنت تھیں۔کیسے چڑھی؟خود کو لعن طعن اور پھٹکار کی مار مارتے۔
چھت پر اگر سورج کی چمک دمک جوبن اور حدّت زوروں پر تھی تو سراٹے مارتی ہواؤں کے بلّھے بھی تھے۔جو جلد کو جلاتے تھے۔میں نے موٹے ڈوپٹے سے سارا چہرہ سوائے آنکھوں کے ڈھانپا ہوا تھا۔جب میں تصویر کشی کرتی تھی تو تاریخ کا عروج و زوال بھی کسی فلمی ریل کی طرح میرے دماغ میں چکر کاٹے چلا جاتا تھا۔

تو دو دریاؤں کے درمیان کا یہ علاقہ جو ہماری دیسی زبان میں دو آبہ اور یونانی زبان میں میسوپوٹیمیا(دریاؤں کا درمیان) کہلایا۔چھ ہزار سال قبل اپنے آغاز میں تو بس یونہی سے یہاں وہاں بنے گھروں والے گاؤں پر ہی مشتمل تھا۔پر جب پتھر کے زمانے کے کسانوں کی آل اولاد جانے کہاں کہاں سے آکر مارشی زمینوں پر بسی تو یہ سمیری کہلائی اور یہ کیسی ذہین فطین قوم تھی کہ جس نے دنیا بھر کے خانہ بدوش لوگوں کو ایک تہذیبی تمدن سے آشنا کیا۔یہ تاجر، یہ سوداگر،زر کا ایکٹ رائج کرنے والے۔آرٹ اور فن نے انہی کے ہاں جنم لیا۔انجنیئربنے کہ پہیہ اور تانبے کا ہل بیلوں کی جوڑی کے ساتھ زمین کے سینے پر چلایااور ذرائع آبپاشی میں جدتیں پیدا کیں۔مٹی کے ڈیم بنا ئے اور شدفShaduf کو رواج دیا۔پڑھنے لکھنے کے آغاز کا سہرا بھی انہی کے سر سجا۔میخی رسم الخط ایجاد کیا۔طب کو فروغ اور جڑی بوٹیوں پر تحقیق ان کے زمانے میں ہوئی۔یہ ان کا شہرہ آفاق بادشاہ حمورابی ہی تھا جو قانون سازی میں دنیا کا باپ بنا۔ اور طرز تعمیر میں زگرتZiggarat (چوڑے چبوترے نما پلیٹ فارم پر منزل در منزل عمارت جو اوپر کی طرف مختصر ہوتی جاتی ہے) بھی ان کے ذہنوں کی اخترا ع تھی۔کیا قوم تھی تو جب عین عروج سے زوال پذیر ہوئی تو بین بھی بڑے دردناک سے تھے۔
How, O Summer are thy mighty fallen!
the holy king is banished from his temple.
The temple itself is destroyed. the city demolished.
The leaders of the nation have been carried off into captivity
A whole empire has been overthrown by the will of the gods.
سامی نسل کے اشوریوں کو لمبی لمبی داڑھیوں اور پیروں والے شیر اور جانور بنانے کا بہت شوق تھا۔اربیلا موجودہ (اربیل)،نمروداور نینوا جیسے بڑے شہر بنائے۔بڑی لڑاکی قوم تھی۔
کہیں ٹکتے ہی نہیں تھے۔پہلے ان کے بادشاہوں نے اشور کو پایہ تخت بنایا پھر نینا Ninaدیوتا کے نام پر نینوا بنایا۔ان دیوتاؤں کے ماننے والے بھی بڑے ٹچی تھے۔ڈھنڈورا پیٹتے تھے کہ ہمارا نینا دیوتا بابل والوں کی دیوی عشطرسے کِسی صورت مرتبے میں کم نہیں۔
ان کے بادشاہ بھی بڑے مہم جو اور لڑاکا تھے۔کیا اشور نصر پال Ashurnasir -pal،کیا پلیئسرPileser۔اول یا دوم یا سوئم سبھی جنگوں میں جتے رہے۔ہر بادشاہ کے کھاتے میں گاؤں اور شہروں کی تعداددرج ہوئی۔آخری بادشاہ کے اُناسی۹۸ شہروں،۰۲۸گاؤں پر قبضے ۰۰۰۲۷گھوڑوں،۰۰۰۱۱ گدھوں،۰۰۰۰۸بیلوں اور اتنی ہی بھیڑ بکریوں کے ملنے اور ۰۰۰۸۰۲انسانوں کے قیدی بننے کی خبروں نے بائرن کو بڑا متاثر کیا تھا۔تبھی تو اس نے بے اختیار لکھا تھا۔
The assyrian came down like a wolf on the fold,
and his cohorts were gleaming in purple and gold
And the sheen of their spears was like stars on the sea
Where the blue wave rolls nightly on deep Galilee

مجھے کلدانیوں نے بھی بڑا متاثرکیا تھا۔یہ ان کاہی بادشاہ نوبخد نضر تھا۔بڑا دلیر جنگ و جدل کا شوقین،سیاست دان،فاتح بننے کا آرزو مند۔
پہاڑی میڈین ایمیٹسAmyitis شہزادی بیاہ کر لایا تو پہاڑی دوشیزہ کو اِن صحراؤں،گرماگرم ہواؤں،ان میں اڑتے بگولوں نے بڑا مغموم کیا۔بادشاہ نے معلق باغ بنائے اور دنیا کے سات عجائبات میں مسیوپوٹیمیا کو درج کروایا۔
بابل کے معلق باغوں کا احوال میں نے ساتویں جماعت میں پڑھا۔ بیان کس کا تھا یہ یاد نہیں پریہ معلق باغ کیسے ہونگے؟زمانوں اسی ادھیڑ بن میں گزرے۔ہزاروں تصویریں اور شبیہیں بنیں۔
عمارتیں بنوانے کے بڑے شوقین تھے۔خوبصورت انیمل ٹائلیں جو نیلی پیلی اور سفید جانوروں اورانسانی شبیہوں سے سجی تھیں۔دجلہ و فرات کو بھی گھیر گھار کر اپنے محلوں کے گرد لے آئے تھے۔کناروں پر معلق درختوں، پھولوں اور بیلوں سے سجے سہ منزلہ ،چہار منزلہ گھر اور دوسرے کنارے کے پختہ فرشوں پر ان کی رانیاں چہل قدمی کرتی تھیں۔بابل کو اُس نے قدیم تاریخ میں ایک عظیم ملک کے طور پر درج کروایا۔اینٹوں پر اپنے نام کھدوائے۔اور یہ بھی لکھوایا کہ بابل دنیا کا ایک عظیم ملک ہے۔
میں نو بخد نضر شاہ پلیئر کا بیٹا ہوں۔
”ہائے یہ نام چھوڑنے کا ہوکا۔کیا چھوٹے، کیابڑے۔ بس سارا رولا اسی کا ہے۔“
سمیریوں کے بعد عکادآئے۔Akkad بڑے شاطر اور سلطنت کو وسعت دینے کی حرص میں مبتلاقوم تھی۔
فوجی طاقت اوپر سے سمیری تہذیب سے بہرہ ور کہیں مغرب کو بھاگے جاتے۔ مصر کو زیر کیا۔کہیں مشرق میں ہندوستان پر حملے۔سرگن کے بیٹے رمشRimush اور Manistusu دونوں حملوں میں ہی سرگرم رہے۔
یہودی آئے،یونانی آئے،ستھین آئے،رومی آئے،پارتھی آئے،ساسانی آئے،عرب آئے،اسلام آیا،احمق اور انا کا مارا صدام آیااور پھر وہ خبیث امریکہ آیا۔
اور دنیا بھر کیلئے قابل مثال اور قابل رشک ملک امریکہ کے جاہل اور احمق حکمران،جنکی نظریں صرف اس کے تیل کے ذخائر پر تھیں۔جنگ سے پہلے اعلان کرتا تھا کہ ہمیں دنیا کے کِسی غیر معروف گوشے میں حملہ کرنے کیلئے تیار رہنا چاہیے۔
”اُلو کا پٹھا اتنی بڑی سلطنت کا شہنشاہ اور نرا جاہل کہ جسے یہ نہیں پتہ کہ تحریر کہاں ایجاد ہوئی؟تہذیب و تمدن کاآغاز کِس خطّہ زمین پر ہوا۔ نینوا کے کتب خانے،بابل کے معلق باغ،کیا اس نے کبھی بغداد کی شہرہ آفاق کہانیاں ایک ہزار ایک راتوں میں سے کِسی ایک کی بھی کہانی نہیں سُنی۔جاہل نہ ہو تو۔
افلاق مجھے ڈھونڈتا ہوا اوپر آگیا تھا۔میں دوربین آنکھوں سے لگائے بیٹھی چھم چھم کرتی بارش کی طرح دماغ کے آسمان سے اُترتی سحر انصاری کی دنیا میں گم تھی۔ نظر کے سامنے تاریخ بابل خون چکاں آئی۔
اندھیروں کے شکنجوں میں ابھی تک کیوں اجالے ہیں۔
جو مظلوموں کی لاشوں پر بھیانک رقص کرتے ہیں۔
وہ کر گس کِس نے پالے ہیں۔
تمدن ساز نقاشوں کی تخلیقات کے ہوتے
سگان خیرہ سر کیسے گلی کوچوں میں آپہنچے۔
چلو ہم بُرج پر بابل پر خداسے بات کرتے ہیں
جو گھر میں اک دئیے کی روشنی کرنے سے قاصر ہوں
وہ دہشت گرد کہلائیں
جو لمہہ میں بھر میں زندہ بستیاں تاراج کرڈالیں
وہ امن و آتشی و صلح کے ہمدرد کہلائیں
جو میزان عدالت ہے نہ احساس ہلاکت ہے
کوئی قانون بھی باقی رہا ہے تیری دنیا میں؟
چلو ہم بُرج بابل پر خداس سے بات کرتے ہیں۔
اُس نے میری تصاویر بنائیں اور بولا۔
سلمیٰ اعوان
”جلدی کیجیے۔حلا Hillaکے نزدیک صدام کا محل بھی آپ کو دکھانا ہے۔جو وہ اپنے لئے فرات کے کنارے سمیرین زیگورت ziggurat سٹائل پر بنا رہا تھا۔نوبخدنضر کے محل کے کھنڈرات پر۔
میوزیم میں نے افراتفری میں دیکھا۔دراصل بغداد آرکیالوجی میوزیم میسوپوٹیمیا کا ہی تو نمائندہ ہے۔ہاں البتہ یہاں وہ کنواں میرے لئیے بہت دلچسپی کا باعث تھا۔جس کے بارے میں میں نے جانا تھاکہ یہ ہاروت و ماروت کا کنواں ہے۔
2500سال پرانے بوڑھے شیر کا مجسمہ جو شہر کا علامتی نشان تھاکِس طمطراق سے کھڑا تھا۔صدیوں کی دھوپ چھاؤں پالے اور کہر کو اپنے اوپر سے گزارتا۔میں نے اُسے دوربین کی مدد سے دیکھا اور خدا حافظ کہا۔
ہواؤں میں تیزی تھی اور تپش کا زور قدرے ماند پڑرہا تھا۔
ببلون کے راستے میں پہلے ایک پارک آیا۔دا ہنی سمت بابل سٹیڈیم بھی ہے۔پہلے شاید اس کا نام ایمفلی اسٹیڈیم تھا۔ یہ یونانیوں کی یادگار ہے۔سکندر اعظم نے کچھ وقت کیلئے بابل کو اپنا پایہ تخت بنایا۔گو حقیقت یہ ہے کہ وہ یہاں حکومت کرنے نہیں مرنے کیلئے آیا تھا۔
ہلا Hilla کو میں نے آفلاق کی نشان دہی پر دیکھا۔ یہ نجف کو جانے والی شاہراہ پر واقع ہے۔ شہرنے جنگ کی بہت اذیت برداشت کی۔پہلے ہی دن اس کے گلی کوچوں میں کلسڑ بموں کے ٹکڑے بارش کی صورت لوگوں کے گھروں کی کھڑکیوں اور دروازوں پر برسے اور معصوم لوگ ان کا نشانہ بنے۔ہلا اسپتال میں دوائیں ناپیدتھیں۔بستر تھوڑے تھے۔ کٹے پھٹے اعضاء والے زخمیوں کو اٹھانے اور شہید ہونے والوں کو دفنانے والے بے چارے معصوم لوگوں کو سمجھ نہیں آتی تھی کہ وہ انہیں کہاں لے جائیں؟

شہر سے ذرا فاصلے پر صدام کا یہ دیو پیکر محل فرات کے ایک طرف ایک اونچی پہاڑی پر جسکی ڈھلانیں عنابی ویلوٹ جیسے پھولوں اور ہرے کچور رنگ پودوں سے بھری ہوئی تھیں۔اس کے آ ہنی گیٹ بیلوں سے ڈھکے ہوئے،سطح زمین پر عمدہ سیاہ سڑکیں ایک  دوسرے کوکاٹتی دائیں بائیں پھیلی ہوئی تھیں۔میں تو گنگ سی اتنے بڑے محل کو دیکھے چلی جا رہی تھی۔

اس وقت جو منظر فضاؤں میں بکھرا ہوا تھاوہ حسن و رعنائی کے اعتبار سے ایسا خوبصورت تھاکہ دل چاہتا تھاوقت تھم جائے۔ سورج جو تیزی سے نیچے جا رہا تھاکاش اِسے کوئی جپھی ڈال کر بھینچ لے۔
میں تو گرین زون کے محل کی وسعتوں اور اس کے شاہانہ رنگ ڈھنگ پر حیران تھی۔اور یہ جانتی ہی نہ تھی کہ اُس نے تو ذاتی محل باڑیوں کا مینا بازار سجا رکھا ہے۔کہیں تکریت جہاں وہ پیدا ہوا تھابرتھ ڈے پیلس بنوا رہا تھا۔ کہیں رضوانیہ پیلس،کہیں صدام حسین پیس پیلس،کہیں اس کے بیٹے اودے حسین کا الفاAl.Faw ۔محل تو بصرے والا بھی دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔


افسوس وہ کسی ہائی فائی خاندان کا فرد نہ تھا۔1982میں جب اُس نے نو بخد نضر  دوم کے محل کے کھنڈرات پر چھ سو کمروں کا محل بنانے کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ بھی بخد نضر دوم کی طرح دنیا کی عظیم ترین سلطنت کا حکمران ہوگا۔
آثارقدیمہ کے ماہرین کے نزدیک کھنڈرات پر رہائشی محل بنانا بدشگونی تھی۔وہ خوف زدہ تھے چند ایک نے کہا بھی کہ قدیم artifactsکی چوٹیوں پر کوئی تعمیر تاریخ کو محفوظ نہیں کرتی بلکہ بدصورت کردیتی ہے۔
کھنڈرات میں سے جو اینٹیں نکلی تھیں وہ تو نو بخد نضر کے نام کا ڈنکا بجاتی تھیں۔صدام حسین کے چیلوں کی بھی یہی حماقتیں تھیں۔افلاق اس محل کو دیکھ چکا تھا۔آجکل یہ بند تھامرمت ہو رہی تھی۔اِسے پبلک کیلئے کھولنا تھا۔ نیلامیاں ہوں گی۔ اس کے ڈھیروں ڈھیر محلوں اور ولاز کی جنت کے ساتھ بھی اب یہی کچھ ہونے والا ہے۔کچھ
ہوٹل بن گئے اور کچھ موٹل۔شاید کہیں آنکھوں اور دل والوں کیلئے سامان عبرت بھی ہو۔
یہ ایک طلسمی محل ہے۔ایک ہزار ایک کہانیوں جیسااسرار اور طلسم لئیے۔
افلاق سیکورٹی گارڈوں سے مجھ پاکستانی سیاح کیلئے اجازت لے آیا تھا۔مگر میں تھکی ہوئی تھی۔بس چند کمروں کو ہی دیکھ کر انگشت بدندان باہر آگئی۔انسان تو سراسر خسارے میں ہے۔


سوئمنگ پول کے کنارے بیٹھ کر میں نے فرات کے نظارے لوٹے۔اور ساتھ ساتھ سُنا بھی کہ یہ پول اینٹوں پتھروں سے بھرا پڑا تھا۔اور تکریت کے محل کے اِن ڈور تالاب میں امریکی نہاتے تھے۔اس کے ہالوں میں امریکی جھنڈے آویزاں اور خواب
گاہوں میں سپاہی سوتے تھے۔ اپنے اطراف میں پھیلے صحرا کے بولتے سناٹے کی رنگینیوں سے سیر ہوئی۔سورج کو ڈوبتے دیکھااور پروردگارکی عظمتوں کے سامنے سرنگوں ہوئی کہ بس
دنیا میں ثبات اسی کو ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”دنیا ئے اسلام کے مقدس ترین شہر کربلا کی مزید جھلکیاں۔۔۔۔سلمیٰ اعوان

  1. بہت دلچسپ اور معلوماتی تحریر ہے. بہتر ہوتا کہ مصنفہ جذبات کو ایک طرف رکھ کر پوری غیرجانبداری سے اپنے مشاہدات اور تجربات پیش کر دیتیں. ساری دنیا جانتی ہے کہ عراق و شام میں داعش نے آثار قدیمہ کو لوٹا اور تباہ کیا. امریکیوں پر بلا ثبوت الزام لگانا نا انصافی ہے. یہ تو اچھا ہوا کہ جرمنوں نے کچھ قدیم آثار کو اپنے عجائب گھروں میں محفوظ کر دیا ورانہ وہ بھی داعش کی جہالت کی بھینٹ چڑھ جاتے. عراقی حکومت کی ذمہ داری ہے وہ اپنے آثار قدیمہ کا تحفظ کرے. اپنے عجائب گھر تعمیر کرے اور جو نوادارت یوروپین لے گئے ہیں عالمی عدالت کے ذریعے انھیں واپس لائے.

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *