ہوئے تم دوست جس کے۔۔۔شکور پٹھان

ایک وقت تھا کہ میں سگریٹ نوشی کیا کرتا تھا اور بہت کیا کرتا تھا۔ لیکن کبھی سمجھ میں نہ آئی کہ کیوں کرتا تھا۔ سو کر اٹھتا تو سگریٹ جلا لیتا کہ اس سے نیند بھاگتی ہے اور آنکھیں پوری طرح کھل جاتی ہیں۔ رات کو لیکن جب بستر پر جاتا تھا اور نیند نہیں آتی تو سگریٹ جلا لیتا کہ اب ذہن یکسوہو جائے گا اور نیند آجائے گی۔ بھوک لگ رہی ہے اور کھانے میں دیر ہے تو سگریٹ سلگا لی اور بھوک کو بھول گئے۔ کھانا پیٹ بھر کے کھالیا تو اب پھر سگریٹ کی طلب ہورہی ہے۔ اکیلا بیٹھا بور ہورہا ہوں تو سگریٹ منہ سے لگالی۔ دوستوں کے درمیان خوش گپیاں ہورہی ہیں تو سگریٹ پر سگریٹ چل رہی ہے۔ اور تو اور کبھی جی ماندہ پے، طبیعت اداس ہے، رونے کو جی چاہ رہا ہے تو سگریٹ ہمدم و مونس و غمخوار بن کر دلداری کرتی ہے اور کبھی بہت خوش ہوئے تو فورا” سگریٹ سلگا کر خوشی کو دو چند کرلیا۔
یہ کچھ کچھ شراب کی مانند ہے کہ بندہ دُکھی ہے تو اس سے غم غلط کررہا ہے۔ خوش ہے تو جام چھلکا کر جشن منا رہا ہے۔

آپ ذرا غور کریں تو آپ کے دوست، بلکہ آپ کے بے تکلف دوست یا جگری یار، بالکل اسی سگریٹ کی مانند نظر آئیں گے۔ آپ سمجھ نہیں پائیں گے کہ آپ کی کونسی کیفیت ایسی ہوتی  ہے  کہ ان کی ضرورت ہوتی ہے یا پھر وہ کیفیت دوستوں ہی کی وجہ سے ظہور پذیر ہوئی ہے۔ غم ہو یا خوشی ، ایک کاندھا درکار رہتا ہےجس پر سر رکھ کر رولیں یا گلے لگ کر ہنس لیں۔ انہی دوستوں کی بدولت۔۔

زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی

کئی مشکلوں میں یہ دوست کام آتے ہیں تو یہی دوست ان مصیبتوں کا باعث بھی بنتے ہیں۔
دوست تو ہر طرح کے ہوتے ہیں، ایک وہ جن سے آپ کی جان پہچان ہوتی ہے۔ یا یہ کہہ لیں کہ تعلقات بھی ہوتے ہیں، اور ایک وہ ہوتے ہیں جنھیں آپ اپنا “یار” کہتے ہیں۔ دوست وہ ہوتے ہیں جو رسمی سے ہوتے ہیں، یار ، بے تکلف اور جگری سے ہوتے ہیں اور یہی اصل دوست ہوتے ہیں جنکی میں آج بات کررہا ہوں۔

ئیاروں کی نشانی یہ ہے کہ آپ اسے بری سے بری بات کہہ لیں، وہ برا نہیں مانے گا، بدلے میں ہنس کر اس سے بھی بری بات آپ کو کہہ جائے گا۔ لیجئے حساب برابر۔
یاد آتا ہے ایک بار بیمار ہوکر ہسپتال میں داخل تھا تو حلقہ احباب اور اعزہ دیکھنے آئے، ہمدردی کا اظہار کیا، احتیاط کے مشورے دیئے، مختلف علاج تجویز کئےاور نہایت خضوع و خشوع سے جلد صحتیابی کے لئے دعائیں کیں۔
لیکن جب میرا جگری یار ملنے آیا تو آتے ہی پہلا سوال تھا” ابے کوئی پٹاخہ نرس بھی ہے یہاں کہ یونہی پڑا جھک مار رہا ہے”
یہی دوست   ہیں جو مجھے کبھی کوئی فضول حرکت نہیں کرنے دیتے، میرا مطلب ہے اکیلے کوئی فضول یا غلط حرکت نہیں کرنے دیتے، بلکہ وہ اس میں شامل ہوتے ہیں اور مجھ سے بڑھ کر ہوتے ہیں۔
مزہ تو جب آتا ہے کہ میں کوئی گپ ہانک رہا ہوتا ہوں اور میرے یار اس کی تصدیق کر دیتے ہیں کہ مجھے بھی یقین آنے لگتا ہے کہ شاید یوں ہی ہوا تھا۔
میرے ان دوستوں کا کرم ہے کہ میں کبھی تنہا نہیں ہوتا ہوں۔ انہوں نے اہتمام کر رکھا ہے کہ مجھے مستقل ڈسٹرب کئے رکھیں گے۔ میرے یہ دوست مجھے کبھی گرنے نہیں دیتے، ہمیشہ سہارا دے کر اٹھا لیتے ہیں، لیکن اس سے پہلے یہ میرا خوب مذاق اڑا چکے ہوتے ہیں اور مجھ پر ہنس چکے ہوتے ہیں۔
بس ان کا ایک کمینہ پن جی کو جلاتا ہے۔ جب میں کوئی بے تکی سی بات کرتا ہوں وہ اسے پوری سنجیدگی سے لیتے ہیں، لیکن جب کوئی سنجیدہ بات کرتا ہوں تو ہنس ہنس کر میری گمبھیر تا کے چیتھڑے اڑا دیتے ہیں۔
جب کبھی تکلیف میں ہوتا ہوں تو انہیں لطیفے یاد آتے ہیں۔ اور ان میں کچھ ایسے گھنّے اور معصوم بنے ہوتے ہیں جیسے ان سے بڑھ کر نیک پروین کوئی نہیں، لیکن تمام غلیظ لطیفے نہ صرف اچھی طرح سمجھتے ہیں بلکہ دوسروں سے بڑھ کر لطف لیتے ہیں۔
ان میں ایسے بھی ہیں کہ وہ جب کوئی مشکل یا مصیبت مجھ سے یا ہم دوستوں سے بیان کرتے ہیں تو سمجھ نہیں آتی کہ پہلے ہنسیں یا مشورہ دیں۔ اسی دوستی میں ایسے مرحلے بھی آتے ہیں کہ دوست ایک دوسرے کی طرف دیکھتے ہیں، کچھ کہے بغیر ہی جان جاتے ہیں کہ دوسرا کیا سوچ رہا ہے اور پھر ایک ساتھ قہقہے لگنا شروع ہوجاتے ہیں۔
خدا سلامت رکھے ان دوستوں کو کہ وہ یہ جان کر بھی کہ ہم سب کس قدر فضول سے ہیں اور کیا کچھ کر چکے ہیں پھر بھی ہمارے ساتھ پبلک میں نظر آتے ہوئے شرم سے منہ نہیں چھپاتے۔ اگر آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ میرا سب سے جگری یار کون  ہے  تو دیکھ لیں کی کس کی وجہ سے سب سے زیادہ مصیبتیں اٹھائی ہیں وہی ہے جو میری ساری خواری کا سبب ہے لیکن میں اسے پھر بھی جی جان سے لگائے رکھتا ہوں کہ دوستی میں یہ سارا حساب کتاب ہوتا ہی کہاں ہے۔
اور پھر یہ ہماری مجبوری بھی ہے کہ ہم ایک دوسرے کے رازوں سے واقف،ُایک دوسرے کے اندرونی لطیفوں کے گواہ اور رازدار ہوتے ہیں ، فرار کا کوئی راستہ ہم پہلے ہی بند کر چکے ہیں۔ مجھے یقین ہے میرے یہ دوست کبھی میری پیٹھ میں چھرا نہیں گھونپیں گے، وہ یہ کام میرے سامنے سے کریں گے۔
بس یہی فرق ہے وقتی شناساؤں اور اصل اور پکے دوستوں کا۔
شناسا کو کھانے کی دعوت دوں تو تکلفا” منع کر دیتے ہیں۔ دوست کھانا چھوڑتے ہی نہیں کہ انہیں کھانے کے لئے کہوں۔
جاننے والے اور رسمی دوست کوئی  چیز ر عایتاً لے کر وقت پر واپس کر دیتے ہیں۔ میرے جانی دوست بھول جاتے ہیں کہ یہ چیز کبھی میری بھی تھی۔
شناسا میرے گھر والوں کا احترام کرتے ہیں اور انہیں القاب وآداب کے ساتھ پکارتے ہیں۔ میرے یار میرے گھر والوں کو اپنا سمجھتے ہیں اور انہیں اسی طرح بلاتے ہیں جیسے میں انہیں بلاتا ہوں۔
شناسا دروازہ کھٹکھٹاتے  ہیں اور اجازت ملنے پر اندر آتے ہیں۔ میرے یار اندر آکر آواز لگاتے ہیں کہ ” ابے کہاں ہے تو”.
میں روتا ہوں تو شناسا تسلی دیتے ہیں۔ میرے یار جو ہیں وہ تسلی نہیں دیتے، میرے ساتھ روتے ہیں۔
دوستوں کو مجھے بتانا نہیں پڑتا کہ مجھے کس چیز کی ضرورت ہے، میں ان سے چھپاؤں بھی تو نہیں چھپا سکتا۔
آپ کہیں گے کہ ایسے دوست اب کہاں۔ لیکن میں آپ کو بتاؤں ایسے بھی ہوتے ہیں۔ آپ کے بھی ہوں گے۔ اگر کہیں چھپ گئے ہیں تو انہیں ڈھونڈ نکالنے۔ یقین کیجئے کہ آپ کے ہزاروں شناسا، دوست احباب، احترام کرنے والے، سب مل کر بھی آپ کے اس دوست کا نعم البدل نہیں ہوسکتیے جس کی قمیص آپ بے تکلفی سے پہن کر کسی دعوت میں چلے جاتے ہیں۔ جس کے ساتھ کبھی آپ نے کچھا پہن کر تالاب میں نہایا ہے یا جس کے ساتھ مل کر محلے والوں کے درختوں سے امبیاں توڑی ہیں یا پڑوسیوں کی کنڈی بجا کر بھاگ گئے ہوں۔

اب میں انتظار میں ہوں کہ کب زندگی کے جھمیلوں سے فراغت پاؤں اور انہی جگری یاروں کے درمیان جا بیٹھوں لیکن وہ تو ایک ایک کر کے جارہے ہیں۔ بچھڑ رہے ہیں سبھی باری باری۔

جاتے ہوئے کہتے ہو قیامت کو ملیں گے
کیا خوب، قیامت کا  ہے  گویا کوئی دن اور

شکور پٹھان
شکور پٹھان
محترم شکور پٹھان شارجہ میں مقیم اور بزنس مینیجمنٹ سے وابستہ ہیں۔ آپ کا علمی اور ادبی کام مختلف اخبارات و رسائل میں چھپ چکا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *