سلیوٹ اور نام نہاد دانشور

ایک ہی تصویر کے کئی رخ ہوتے ہیں ۔ ایک ہی منظر نامہ ہر شخص کو مختلف نظر آتا ہے ۔ اکثر یہ ممکن نہیں ہوتا کہ صورت حال کے تمام پہلو مختصر جگہ پر مختصر وقت میں بیان کئے جا سکیں ، اس لئے تجزیہ نگار ایک ایک پہلو پر زیادہ روشنی ڈالتے ہیں جس سے دوسرے پہلو دب جاتے ہیں ۔ یہ دوسرے پہلو آپ کو کسی اور تجزیہ نگار کے یہاں مل جائیں گے ۔ مکمل منظر نامہ اس تمام ٹکڑیوں کو جوڑنے سے واضح ہوتا ہے ۔ اسی طرح نہ تو اس ملک میں صرف ایک ہی جماعت ہے ، نہ سبھی ووٹرز کسی ایک جماعت کے ہیں اور نہ ہی کسی ایک جماعت کو سو فیصد حمایت حاصل ہے ۔ لہذا یہ ضروری نہیں ہوتا کہ جو رائے آپ نے قائم کر لی ہے اس کے برعکس کوئی رائے نہ ہو ۔ آپ کو کوئی بات ناگوار گزرتی ہے تو دلیل کے ساتھ اسے رد کر دیں ۔

یہ مکالمہ کے وقت آپ کا حق ہے لیکن آپ ذاتیات پر اتر آئیں تو اس کا حق آپ کے پاس نہیں ہے ۔ ہمارے ایک سینئر ایڈیٹر صاحب نے سوال اٹھایا کہ کرپشن کیس کی ملزمہ مریم نواز کو خاتون ایس پی نے سیلوٹ کیوں کیا ؟ اس پر ایک صاحب دلیل کی سرحد عبور کرتے ہوئے ذاتیات کی دلدل میں جا گرے اور کہنے لگے کہ آپ کو کچھ نہیں معلوم ، آپ صحافی ہی نہیں ہیں اور اب اس عمر میں اللہ اللہ کریں وغیرہ وغیرہ ۔ سر بات یہ ہے کہ جنھیں آپ صحافی ہی نہیں مان رہے وہ 32 سال سے اسی فیلڈ میں ہیں ۔ آج کے کئی نامور رپورٹر ، اینکرز اور تجزیہ نگار ان کے شاگرد ہیں ۔ آپ کو اختلاف کا حق ہے ۔ کئی دلائل بھی آپ کے پاس ہو سکتے تھے ۔

آپ کہتے کہ مریم کو پروٹوکول وزیر اعظم کی بیٹی کی حیثیت سے ملا ہے اور وہ ابھی مجرم ثابت بھی نہیں ہوئی ۔ دنیا بھر میں وزیر اعظم کے خاندان کو پروٹوکول ملتا ہے ۔ ٹرمپ کی بیوی کئی ممالک سے پروٹوکول لے چکی ہے ۔ اس کے علاوہ بھی کئی دلائل ہو سکتے تھے لیکن جب آپ سوال اٹھانے والے پر ذاتی حملے کریں گے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ سوال کرنے والا درست ہے اور آپ کے پاس جواب نہیں ہے ۔ ہمارے سوالوں اور مباحثوں کا مقصد پاکستان کی بہتری ہے ۔ ہر شخص اپنے اینگل سے یہ سمجھتا ہے کہ اس کا نقطہ نظر درست ہے لہذا مکالمہ کی فضا قائم کریں ۔ مثبت مباحثوں کو ذاتیات پر لا کر فساد میں تبدیل نہ کیا کریں ۔

Avatar
سيد بدر سعید
سب ایڈیٹر/فیچر رائیٹر: نوائے وقت گروپ ، سکرپٹ رائیٹر ، جوائنٹ سیکرٹری: پنجاب یونین آف جرنلسٹ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *