دیا دریچے میں رکھا تھا ،دل جلایا تھا۔۔۔۔عبدالباسط ذوالفقار

کہنے لگی افف۔۔۔عبدل!! کب سے ڈھونڈ رہی ہوں تمہیں اور نمبر بھی بند جارہا ہے۔ کیوں کیا ہوا؟؟
میں نے اس کی سوجھی ہوئی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا۔
ہونا کیا ہے؟ وہ دور خلا میں گھورتی ہوئی بولی۔
میری نظر اس کی آشوب چشم پر پڑی تو موٹے سے موتی لال گلابی گال پر لڑھک رہے تھے۔ یار “ندی تھا‘ بلا تھا‘ کوئی آشوب جہاں تھا”۔ کیا ہی بتاؤں ۔۔۔
خیر! اس کی نازک سی ہتھیلی ان موتیوں کو روندتی ہوئی گزر گئی۔
“اشکِ تر‘ قطرۂ خوں‘ لختِ جگر‘ پارہ دل”
“ایک سے ایک عدد آنکھ سے بہ کر نکلا”
میں نے شاعرانہ انداز میں شعر الاپا۔۔۔۔۔
تمہیں تو بتانا ہی فضول ہے۔ اس نے کہا اور نین ٹپکاتی، پاؤں پٹختی، سیڑھیاں اتر گئی۔ میں نے آواز دی تو وہ مڑ کر شیرنی کی طرح دھاڑی۔۔ کیا ہے؟
جمعہ ہے! ساتھ ہی میں نے کہا! اوئے! تمہیں پتا ہے؟؟
کیا؟ اس نے جواب دیا۔
پہلے تم بتاؤ ہوا کیا ہے؟ رو کیوں رہی ہو؟ بات کیا ہوئی؟۔۔ میں نے کہا۔

تو وہ بولی:  کچھ نہیں ہوا بس سکون میں چنگاری لگ گئی۔ میں حیرت سے ششدر رہ گیا۔
میں سمجھ گیا تھا آج اِس کا اُس سے دوبارہ جھگڑا ہو گیا ہے۔ یقیناً  کسی بات پر بحث ہوئی ہو گی اور ہمیشہ بحث کا نتیجہ یہی نکلتا تھا۔ کہ وہ ناراض ہو جاتی اور پھر میں ذہنی چاند ماری کا تختہ مشق بنا کر دونوں کو مناتا۔
میں نے لب کھولے ہی تھے کہ وہ بے نقط سنانے لگ گئی۔
خاصا بھاشن دینے کے بعد بولی: “عبدل! تم ہی بتاو نا۔۔۔؟ عشق دو بار ہوتا ہے کیا؟؟
اول تو میں خاموش رہا۔۔۔۔. پھر ادھر ادھر دیکھا۔۔۔ جب مطمئن ہو گیا کہ کوئی مجھے نہیں دیکھ رہا تو میں نے جواب دیا۔۔ہاں ہوتا ہے۔ بندہ ٹھرکی ہو تو دو بار نہیں کئی بار ہوتا ہے۔
اچھا! تو تم اسے ٹھرکی کہہ رہے ہو۔ اس نے غصے سے ناک پھلاتے ہوئے کہا اور ہاتھ چپل کی طرف بڑھا دیے۔ ارے میں نے ایسا کب کہا۔ میں پیچھے کھسکتے ہوئے بولا۔ یہ ابھی کیا کہا تھا؟
بندہ ٹھرکی۔۔۔۔کیا؟ دوبارہ بتانا ذرا۔
وہ میری طرف بڑھتے ہوئے بولی۔۔۔
مادام! وہ اوقات نادانستگی تھے۔ میں نے تو ویسے ہی کہا تھا۔ ایک تو تم بخیئے ادھیڑنے لگ جاتی ہو؟ میں نے بھی ناراضگی کا اظہار کیا۔ اس نے قدم روک لیے۔
میری اس کے چہرے کی بدلتی رنگت پر نظر پڑی تو مجھے لگا جیسے وہ خاموشی کے لبادے میں گھات کھا رہی ہو۔ ناک، کان لال ٹماٹر ہو رہے تھے شعلہ برساتی  آنکھیں مجھے گھور رہی تھیں۔
جب احمد نے آواز دی۔ عبدل! مجھے لگا جیسے سخت گرمی میں سائبان مل گیا ہو۔ ٹھنڈی ہوا کا جھونکا اندر تک اتر گیا ہو۔
احمد قریب آیا، نظروں ہی نظروں میں تبادلہ خیال ہوا اور وہ پھنکارتی ہوئی اس کی طرف بڑھی۔ تمہیں پتا ہے؟ اس نے تمہیں ٹھرک۔۔۔بات پوری نہ ہوئی تھی کہ احمد نے کہا”دفعہ کرو اسے”۔۔۔۔ اچھا سنو؟ ۔۔۔ ساتھ ہی ہاتھ کانوں کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا “سوری ناں یار….ایمی! میرا مطلب یہ تو نہیں تھا نا۔” اور ایک بار پھر دجلہ بہتی آنکھوں کی طرف کاغذ کا ہاتھ بڑھ رہا تھا۔
میں وہیں ساکت صلح کا یہ منظر دیکھتا رہا۔ اس نے  احمد کا ہاتھ تھاما، طائرانہ نگاہ مجھ پر ڈالی جیسے کہہ رہی ہو “جلتا رہ” اور کینٹین کی طرف بڑھ گئی۔ میں نے اپنا کھینچا ہوا سانس بحال کیا اور سوچنے لگا کیا عشق دوبارہ ہو سکتا ہے؟؟ جب کہ جسم میں گوشت کا لوتھڑا اچھل اچھل کر دماغ کو سمجھا رہا تھا۔۔
تم عشق کی منزل میں قدم سوچ کر رکھنا
دریائے محبت کے کنارے نہیں ہوتے!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *