گھر تو آخر اپنا ہے۔۔۔۔۔ انعام مورگاہ

کچھ بین الاقوامی حالات بھی ایسے رہے اور شاید کچھ ہاتھ ہماری بدقسمتی کا بھی ہوگا کہ ایوب کے بعد کی جتنی بھی حکومتیں آئیں ہم نے الا ماشاء اللہ تقریباً ہر شعبے میں تیزی سے تنزلی کا ہی سفر طے کیا
جیسے جہاز کا ایک انجن جل جاتا ہے تو وہ تیزی سے زمین کی جانب جھکا چلا جاتا ہے کہ اب گیا کہ کب گیا۔۔۔۔جہاز کے مسافر اس صورت حال کے علی الرغم نہ صرف بے غم سروس کا مزے میں سفر کاٹ رہے ہیں   بلکہ ایک دوسرے کو بھی حسب توفیق “کاٹ” رہے ہیں۔

آج آزادی کے ۷۱ سالوں کے بعد بھی مایوس قوم نہ تو کسی مسیحا کی منتظر ہے اور نہ ہی کسی کرشمے کی آس میں ہے۔بس ان کو اپنی سیاسی جیت سے مطلب ہے ان کی زندگی بس ایک جماعتی تعصب کے گرد ہی گھومتی ہے بس انکا ہی لیڈر صیح ہے باقی سب چور ہیں اور قابل سزا ہیں۔سائنسدان ، سیاست دان ، ماہرین معیشت ہوں یا طب و انجینئرنگ کے میدان ، غرض ہر شعبے میں ایک دوسرے پر الزام در الزام لگانے والے لافانی کردار پیدا ہورہے ہیں اور ہمارے حوصلے و ہمتیں پست سے پست ہوتی چلی جا رہیں ۔ دوسری جانب بین الاقوامی طور پر دیکھیں تو  دنیا میں آج پاکستانی پاسپورٹ کی عزت تار تار ہے،آپ کے ویزے اکثر ممالک میں بند ہیں،نوکریاں بند ہیں،زرمبادلہ دن بدن کم ہوتا جا رہا ہے،اپنے ارد گرد نگاہ دوڑائیں تو کسی راکٹ سائنس کے بغیر آپ یہ جان سکتے ہیں کہ آپ کے گرد معاشی و اقتصادی مقاطعے کا شکنجہ روز انہ کی بنیاد پر کسا جا رہا ہے۔سیاسی ، مذہبی ، ابلاغی ، خاندانی انحطاط میں مبتلا یہ قوم کب تک اس عفریت کا مقابلہ کریگی،خودکشی پر آمادہ قوم مار بھی رہی ہے اور مر بھی رہی ہے۔ایک دوسرے پر کیچڑ ، عدم رواداری ، اپنی بونی سیاست میں جس ٹہنی پر بیٹھیں ہیں اسی کو کاٹنے پر لگے ہوئے ہیں۔

کیا ہم نے خدا سے کوئی وعدہ لےرکھا ہے کہ وہ ہمیں ان تمام بلاؤں سے محفوظ رکھے گا اور رنگ لائے گی اک دن فاقہ مستی اپنی مگر ہم ہیں کہ خود کچھ نہیں کریں گے،اس وقت بہت خطرناک کھیل جاری ہے۔جس میں فوج اور عوام کے درمیان نفرت کی خلیج کو بڑھاوا دیا جا رہا ہے،مجھے ایک کورین کہہ رہا تھا کہ اگر آپ کی فوج نہ ہوتی تو ملک شام کی تباہی بہت بعد میں ہوتی آپ کا نمبر پہلے تھا
دشمن کو معلوم ہے پاک فوج کو  “مکو “ٹھپنے تک وہ اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔جمہوریت کے چاہنے والے ہی جمہوری رویوں کے خلاف ہیں اور ایک دوسرے کو موقع نہیں دیتے،ایسے میں کیا کریں ،کیا اہل فکروسوچ کسی بڑے حادثے کے منتظر رہیں۔۔۔۔؟
نہیں دوستو ایسا نہیں کرنا چاہیے۔۔۔

احساس زیاں ہونے کے بعد کم ازکم اس زیاں کو روکنے کی کوئی سعی ضرور کرنی ہوگی اس آگ کو بجھا بھی نہ پاۓ مگر اپنا نام آگ بجھانے والوں میں  د  رج ضرورہونا چاہیے
آئیے جمہوری رویے کو پروان چڑھائیں۔۔ایک دوسرے کی بات کو سنیں دوسرے کی سخت سے سخت تنقید کو بھی خندہ پیشانی سے سنیں یہ لوگ اپنے ہی تو ہیں ان کو لیکر ساتھ چلیں فتنوں سے بچیں
ملی اور قومی اتحاد کو مضبوط تر کریں سیاست بس ان دو ماہ میں ہی کریں جب الیکشن ہو رہے ہوں۔
آئیے آنے والی حکومت کو کام کرنے کا موقع دیں جائز تنقید ضرور کریں مگر  کار سرکار میں مداخلت نہ کریں،ترقی کا پہیہ چلنے دیں،صرف پانچ سال صبر کریں اس کے بعد الیکشن کے مہینوں میں سیاست کے لیئے کام کریں الیکشن کے بعد ساکت ہو جائیں۔

ذرا سوچیں اگر ہر حکومت پانچ سال اپوزیشن کے دھرنوں اور احتجاج پر توجہ دیتی رہے گی تو عوامی فلاحی کاموں پر کون توجہ دے گا ۔ملک ہر چیز سے مقدم ہے،فوج اس کی محافظ ہے،جمہوریت اس کا حسین ترین طریقہ کار ہے،آئیے اپنے وطن کے لیئے کا م کریں،ہم جہاں پر بھی ہوں اس وطن کا مفاد ہمیں عزیز تر ہو،آپ جس دن سے اس نیک کام کی نیت کریں گے تو پھر انشا اللہ۔۔۔اللہ اور فرشتے بھی ہماری مدد کریں گے اور ہم بہت جلد اس بحران سے نکل جائیں گے!

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *