قرآن اور مخنث حضرات

مخنث حضرات ہمارے ہاں جنہیں عرف میں بہت سے القابات سے یاد کیا جاتا ہے انکے متعلق ایک عام سوال کیا جاتا ہے کہ مذہب ان حضرات سے متعلق خاموش کیوں ہے؟ اور کیا یہ خدا کے پیدا کئے میں نقص نہیں ہے؟
قرآن ہمیشہ اصولی اور عمومی بات کو بیان کرتا ہے یہ اسکا عام اسلوب ہے، وہ حکم کو اصول کے طور پر بیان کرتا ہے ۔ اور اسکے بعد علماء کے لئے تدبر کے دروازے کھول دیتا ہے۔ اگر کسی مسئلہ کو قرآن وسنت کے منصوص دلائل سے حل نہ کیا جاسکے تو اجتہاد کا دروازہ اسکے لئے کھلا ہے بلکہ ہمارے ہاں فقہ حنفی میں ایسے ہی نئے پیش آنے والے مسائل سے نمٹنے کو فقہ تقدیری کا راستہ اپنایا گیا تاکہ آنے والے وقت میں ممکنہ مسائل کا حل پہلے سے موجود ہو۔
ایک بات اچھی طرح سمجھ لی جانی چاہیے کہ مخنث حضرات کوئی الگ مخلوق نہیں ہیں۔ چونکہ ہمارے ہاں صنف کے تعین کا طریق کار ایک یہی ہے تو مخنث حضرات کو عمومی انسانوں سے مختلف سمجھا اور اسی لحاظ سے انکے ساتھ معاملات کئے جاتے ہیں۔ جو اس فکری مغالطہ کو جنم دیتا ہے کہ قرآن اور مذہب ان حضرات سے متعلق کیوں خاموش ہے۔بالکل ایک ایسے انسان کی طرح جو پیدائشی طور پر گونگا بہرہ ہو، اسے جب ہم الگ صنف یا کیٹگری میں داخل نہیں کرتے۔ اسی طرح انہیں بھی داخل نہیں کیا جانا چاہیے کیونکہ خدا نے یہ کوئی الگ مخلوق پیدا نہیں کی بلکہ یہ گونگا بہرہ ہونے اور لنگڑا ہونے کی مانند ایک معذوری ہے۔ یہ اصل میں تخلیق کا نقص نہیں ہے بلکہ معذوری ہے۔
تخلیق کا نقص تو تب کہا جائے گا کہ اگر تمام انسانوں کی نسل ایک ٹانگ والی ہوتی اور زمین پر چلنا دو ٹانگوں سے ممکن ہوتا۔ جبکہ معاملات اسکے برعکس ہیں، انسان ہر اس ہتھیار سے لیس ہے جسکی ضرورت اسے زندگی میں پڑتی ہے، لیکن بعض انسانوں کے ساتھ اضافی معاملہ یہ ہوتا ہے کہ انکے ہاں وہ سہولت پائی نہیں جاتی، بعض اوقات پیدائشی طور پر اور بعض اوقات زندگی کے کسی موڑ پر حادثے کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اس لئے ہم انہیں معذور کہتے ہیں انکے لئے کوئی نئی کیٹگری نہیں بنائی جاتی، اور جیسے ہر معذوری کا حامل شخص کچھ معاملات کا شکار ہوتا ہے جو بالکل بھی خوشگوار نہیں ہوتے اسی طرح یہ قابل قدر انسان بھی معذوری کا شکار ہیں اور انکے ساتھ جو مجبوریاں ہیں اور معاملات ہیں انکا ادراک نہ تو میں کرسکتا ہوں اور نہ آپ، بس صرف اتنا کیا جاسکتا ہے کہ انکو عزت و احترام کی نگاہ سےدیکھا جائے اور اپنے جیسا بلکہ اپنے سےبرتر انسان مانا جائے،اور معاشرے اور خاندانوں کی تعلیم و تربیت کا اہتمام کیا جائے تاکہ ان حضرات کے حقوق کا تحفظ کیاجاسکے۔جو لوگ ان احباب کی معذوری پر واویلا کرکے مذہب پر اعتراض کرتے ہیں۔ میرا خیال ہے انہیں چاہیے کہ وہ نابینا حضرات کی طرف پہلے متوجہ ہوں ۔ کیونکہ بینائی کی طاقت اس طاقت سے کہیں زیادہ ضروری ہے۔
اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان احباب کے ساتھ دنیاوی اور دینوی معاملات کیسے کئے جائیں؟
انکے ساتھ معاملات ویسے ہی کئے جانے چاہیئے جیسے عام معذور لوگوں کے ساتھ کئے جاتے ہیں۔ یعنی کیا ایک باپ کی حیثیت سے آپ نابینا اولاد کو گھر سے نکال دیتے ہیں یا دماغی طور پر غیر تندرست اولاد کو گھر سے نکال دیتے ہیں؟ اگر نہیں ، تو پھر ان حضرات کو اس محبت اور شفقت سے کیونکر محروم کردیا جاتا ہے جسکے وہ حقدار ہیں؟
اگر معاشرہ، انکو وہ شفقت اور محبت نہیں دے سکتا جن کے وہ حقدار ہیں تو وہ کس منہ سے انکے کام اور دوسرے روزمرہ کے معاملات پر سوال اٹھاتا ہے؟ میرا تو خیال ہے وہ معاشرہ جو اپنے لوگوں کو دھتکار دے اور انہیں ایک مجبوری کی زندگی جینے پر مجبور کردے وہ معاشرہ ہی قابل لعنت و ملامت ہے۔ جب ہم اپنے معذور بچے کو کار آمد بنانے اور اسے زندگی کا پورا لطف دلانے کے لئے ہر ممکن کوشش کرتے ہیں کہ اسکی بینائی لوٹ آئے اور اسکےدوسرے معاملات درست ہوجائیں۔ تو ان بچوں کا علاج کیوں نہیں کروایا جاسکتا ؟ انکی تربیت کا اہتمام کیوں نہیں کیاجاسکتا؟ اسکے لئے ذمہ دار مذہب ہے یا میں اور آپ؟ جن کے رویہ جات نے ان لوگوں کو احساس کمتری کا شکار کردیا ہے۔ ایک اہم سوال اسی ضمن میں پیدا ہوتا ہے کہ ان حضرات میں چونکہ جنسی خواہش بھی ہوتی ہے۔ تواسکے لئے مذہب کیا انہیں چھوٹ دیتا ہے کہ دوسرے مردوں کے ساتھ جنسی تعلق قائم کریں؟
بالکل ایک معذور بچے کی طرح، جب وہ اپنی بینائی نہ ہونے کی وجہ سے دیکھنے سے محروم ہے۔ یعنی نظارے کے لطف سے محروم ہونے کی وجہ سے جب آپ اسے صبر کی تلقین کرتے ہیں۔ تو ظاہر سی بات ہے کہ اسے بھی صبر کی تلقین کی جائے گی اور اسکے علاوہ معاشرے کو بحثیت مجموعی اور والدین کو بحثیت انفرادی، انکے علاج معالجے کی طرف متوجہ ہونا چاہیے۔ کیونکہ اسلام نے جو ادارہ شادی کے روپ میں قائم کیا ہے اسکی بنیاد ہی ختم ہوجائیگی۔ اگر ہم اس تعلق کی اجازت فراہم کردینگے۔ کیونکہ اسلام میں شادی کے بغیر صنف مخالف سے جنسی تعلق قائم کرنا منع ہے۔ اسکی وجہ، کوئی جنسی تعلق نہیں ہے۔ بلکہ اسلام نے جو تمام احکامات نکاح کے ادارے کی حفاظت کو دئیے ہیں۔ اس سے اکثر ہمارے احباب کو معلوم پڑتا ہے کہ شائد اسلام کو مرد عورت کے کچھ وقت علیحدگی گذار کر اپنی جبلت کی تسکین پر اعتراض ہے۔ حالانکہ اسلام کو آپکے جنسی تعلق میں دلچسپی نہیں ہے۔ اسکو ایک ادارہ قائم کرنا ہے جسکی بنیاد صرف اور صرف عفت اور پاکدامنی پر رکھی جاسکتی ہے۔ وہ ادارہ نکاح کا ادارہ ہے۔
اگر انسان جوان پیدا ہوتا اور جوان ہی قبر کی مٹی میں جاملتا تو کبھی اتنی پابندیوں کی ضرورت پیش نہ آتی، انسان پیدا ہوتا ہے تو اسے ایک خاندان چاہیے ہوتا ہے جہاں اسکی پرورش کی جاسکے جہاں اسکے قدم لڑکھڑائیں تو سہارا مہیا کیا جاسکے۔ اورچند سال جوانی کے گذار کر وہ پھر اوندھے منہ جاپڑتا ہے اور اسے پھر سہارے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر نکاح کا یہ ادارہ قائم نہ ہوگا تو بچے کو ماں باپ کی صورت میں سہارا میسر نہ آ سکے گا، اور بوڑھے کو بیٹا اوربہو کی صورت میں سہارا میسر نہ آسکے۔ یہ علیحدہ بات ہے کہ ہم نے اپنی نااہلیوں کہ وجہ سے اس خاندانی نظام کا شیرازہ بکھیر کر رکھ دیا ہے۔ لیکن اسلام کے مقصود ایک خاندانی نظام ہے جسکی حفاظت کے لئے وہ کسی کو “آنکھیں بھٹکنے پر جھکا لینے کو کہتا ہے” تو کسی کو “ھاتی کو ڈھانپ لینے کو کہتا ہے” اور حکم دیتا ہے کہ اگر تم مسلمان ہو تو تمہارا صنف مخالف سے جنسی تعلق صرف اور صرف نکاح کی صورت میں ایک خاندان کی بنیاد ڈال کر ہی ہوسکتا ہے۔ دوسری کسی بھی صورت میں کوئی بھی جنسی تعلق جائز نہیں کیونکہ کل جب تم اوندھے منہ پڑے ہوگے تو تمہاری نفسیاتی تسکین کو بھی تمہارے پاس بیٹھنے کو کوئی نہ ہوگا چہ جائیکہ تمہیں کوئی سہارا دے سکے۔
نوٹ: یہ ایک علیحدہ بحث ہے کہ کیا رحیم خدا معذور اور بیمار لوگ اور بچے پیدا کرسکتا ہے؟ اس بحث کو پھر کسی وقت کے لئے اٹھا رکھتے ہیں۔

محمد حسنین اشرف
محمد حسنین اشرف
ایک طالب علم کا تعارف کیا ہوسکتا ہے؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *