شوہر اور مردانگی۔۔۔۔۔ عارف خٹک

پشاور کی فلائیٹ تھی ۔جب جہاز نے کراچی سے ٹیک آف کیا۔تو پندرہ منٹ کے بعد ساتھ والی نشست سے کچھ زنانہ چیخ وپُکار کی آوازیں آنے لگیں۔مڑ کر دیکھا تو ایک عورت اپنے شوہر پر چلا رہی تھی۔اور شوہر بیچارہ ہاتھ جوڑ کر گھگھیائی ہوئی آواز میں اسے چپ کرائے جارہا تھا۔
لب ولہجے سے ہزارے کے لگ رہے تھے .
عورت کہنے لگی۔اگر تم مُجھے اپنانا چاہتے ہو ،تو پہلی والی کو طلاق دو۔ورنہ پھر مُجھےدے دو. شوہر پھر دبے لفظوں میں اُس سے التجائیں کرتا رہا. مگر وہ اور شیر ہوتی جارہی تھی. شور جب حد سے زیادہ بُلند ہوا  تو فضائی میزبان آگئی۔۔۔ اس نے بڑے پیشہ وارانہ لہجے میں دونوں میاں بیوی سے پوچھا  کہ میں آپ کی کیا خدمت کرسکتی ہوں؟آگے سے خاتون نے چیخ کر اسے دفع ہونے کو کہا۔وہ بیچاری اپنا سا مُنہ لے کر چلی گئی، شوہر کی حالت دیدنی تھی۔۔۔

جب اُس عورت کی چخ چخ حد سے بڑھ گئی تو میرا بلڈ پریشر ہائی ہونا شروع ہوگیا۔مزید برداشت کا یارا خود میں نہ پاکر میں اپنی سیٹ سے اُٹھا۔اور اُن کے قریب چلا گیا۔اُس مرد سے پوچھا کہ یہ موصوفہ آپ کی کیا لگتی ہے؟ کہنے لگا بیگم ہے. میں نے کہا کہ بڑے ہی بے غیرت قسم کے شوہر ہو،بیوی کو اتنا سر پر نہیں چڑھاتے۔
لگادو اس کے منہ پر ایک چماٹ،یا یہ کام بھی میں ہی کرلوں؟

عورت یہ سُن کر مجھ پر چیخنے کو ہی تھی کہ میں نے اسے چپ کروا دیا یہ کہہ کر ۔۔۔کہ بی بی میں تیرا شوہر نہیں ہوں جو تیری بکواس سنوں گا۔اب اگر ایک لفظ بھی منہ سے پھوٹا تو کان لال کردوں گا.
اٹھارہ ہزار کا ٹکٹ لیا ہے اپنی سہولت کیلئے ۔نا کہ تیری چخ چخ نُما وار کمنٹری سُننے کےلئے۔
میری دیکھا دیکھی دوسرے مسافر بھی میرے ہمنوا بن گئے۔وہ عورت دبک کر بیٹھ گئی.
میں فاخرانہ انداز میں اپنی مونچھوں کو تاؤ دیتا ہوا سیٹ پر آکر بیٹھا۔
اور۔۔۔۔۔۔
پھر میری والی شروع ہو گئی اور میں نے فوراً  منہ ٹانگوں میں چھپا لیا۔

عارف خٹک
عارف خٹک
بے باک مگر باحیا لکھاری، لالہ عارف خٹک

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *