آر ٹی ایس کیوں ناکام ہوا؟ ۔۔۔۔۔۔آصف محمود

غریب قوم کے 2100 کروڑ خرچ کرنے کے بعد کیا الیکشن کمیشن ہماری رہنمائی فرما سکتا ہے کہ اس کا آرٹی ایس ( رزلٹ ٹرانسمیشن سسٹم) کیوں ناکام ہوا ؟ یہ محض ’’ ٹیکنالوجیکل فیلیئر‘‘ تھا یا اس میں تجربہ کاروں کا تجربہ بھی بروئے کار آیا ؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ پہلے ہی سے منصوبہ بنایا جا چکا تھا کہ عمران خان کی جیت نظر آئے تو سسٹم کوناکام کر کے انتخابی عمل کو مشکوک بنا دیا جائے؟

یہ آرٹی ایس آخر کن لوگوں نے بنایا ؟ کیا عمران خان نے بنا کر دیا تھا ؟ یہ سب کچھ گذشتہ حکومت کے دور میں ہوا جب اقتدار پر مسلم لیگ کی غیر معمولی گرفت تھی ۔ آر ٹی ایس نادرا اور الیکشن کمیشن نے وضع کیا ۔ الیکشن کمیشن کی ساخت آپ کے سامنے ہے ۔ اس کے چیئر میں کی تقرری مسلم لیگ ن کے وزیر اعظم اور پیپلز پارٹی کے قائد حزب اختلاف کی باہمی مشاورت سے ہوئی تھی اور عمران خان کا اس میں کوئی کردار نہیں تھا ۔ نادرا سرکاری ادارہ ہے اور اس پر مسلم لیگ ن کی حکومت کے کنٹرول کا یہ عالم تھا کہ نادرا کے چیئر مین طارق ملک کو ان کے دباؤ اور دھمکیوں کی وجہ سے عہدہ ہی نہیں ملک بھی چھوڑ کر جانا پڑا ۔ ان دونوں اداروں نے مل کر آر ٹی ایس بنایا ۔ اس کام میں جو بھی فنی معاونت انہیں درکار تھی وہ مسلم لیگ ن کی حکومت کے ماتحت اداروں نے انہیں دی ۔ اس میں پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کا نام بھی لیا جا رہا ہے ۔ تاہم اس کے چیئر مین ڈاکٹر عمر سیف نے اس کی تر دید کی ہے ۔ پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ کی جانب سے جو وضاحت آئی ہے اس نے البتہ معاملے کو سلجھانے کی بجائے مزید پیچیدہ بنا کر اسے الجھا دیا ہے۔ کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر عمر سیف نے فروری 2018 میں سیکرٹری الیکشن کمیشن نے ملاقات کی اور انہیں بتایا کہ آپ کا آر ٹی ایس الیکشن کے لیے موزوں نہیں ہے اس میں مسائل آ سکتے ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ متعلقہ شعبے کے ایک ماہر کی اس بات کو الیکشن کمیشن نے سنجیدگی سے کیوں نہیں لیا ؟

الیکشن کمیشن آف پاکستان سے اسی خدشے کا اظہار متعدد ریٹرننگ افسران نے بھی کیا لیکن الیکشن کمیشن نے ان خدشات کو سنجیدگی سے نہیں لیا ۔ ریٹرننگ افسران میں اضطراب بڑھا تو چند ریٹرننگ افسران نے باقاعدہ تحریری طور پر الیکشن کمیشن کو لکھ بھیجا کہ آر ٹی ایس فیل ہو سکتا ہے اس لیے بتایا جائے کہ اس کے فیل ہونے کی صورت میں کیا کرنا ہو گا ؟ شنید یہ ہے کہ الیکشن کمیشن نے ریٹر ننگ افسران کے ان تحریری تحفظات کا جواب دینا بھی گوارا نہیں کیا ۔ کیا ہم یہ جان سکتے ہیں کہ اتنی بے نیازی کیوں اختیار کی گئی ؟ ریٹرننگ افسران ہی نہیں الیکشن کمیشن کے سابق عہدیداران بھی اسی خدشے کا اظہار کرتے پائے گئے۔ برادرم کنور دلشاد نے متعدد دفعہ کہا کہ پورے ملک میں انٹر نیٹ نہیں ہے اس لیے آر ٹی ایس کی افادیت مشکوک ہے۔ کیا ہم پوچھ سکتے ہیں کہ ان ماہرین کی رائے کو نظر انداز کیوں کیا گیا؟

الیکشن کمیشن کے ترجمان نے کس سادگی سے کہہ دیا کہ آر ٹی ایس کی ناکمی محض ایک ’’ ٹیکنالوجیکل فیلیئر ‘‘ تھا ۔ معلوم نہیں صاحب سادہ بہت ہیں یا ہشیار بہت لیکن یہ معلوم ہے کہ عوام اتنی سادہ نہیں کہ جناب ترجمان اس آسانی سے معاملے کو نبٹا دیں ۔الیکشن کمیشن نے معمولی رقم نہیں اکیس سو کروڑ اس الیکشن پر خرچ کیے ہیں ۔سوالات کا جواب دیے بغیر چادر جھاڑ کر وہ کیسے الگ ہو سکتا ہے ۔ چند سوالات کا جواب الیکشن کمیشن کے ذمے ہے۔

پہلا سوال یہ ہے کہ آر ٹی ایس ایپلی کیشن فیل کیسے ہو گئی ؟ اگر اس پر توقع سے زیادہ دباؤ آیا ہوتا تب تو ہم ’’ ٹیکنا لوجیکل فیلیئر‘‘ کے کھلونے سے جی بہلا لیتے لیکن یہاں تو ایسا کچھ نہیں ہوا ۔ جب یہ سسٹم بنایا جا رہا تھا تب الیکشن کمیشن اور نادرا دونوں کو معلوم تھا کہ ہمارے کتنے ووٹر ہیں اور کتنے پولنگ سٹیشن ہوں گے۔ اسے معلوم تھا کہ شام چھ بجے کے بعد کتنے پریزائڈنگ افسران ہوں گے جو آر ٹی ایس کو استعمال کریں گے ۔ الیکشن کمیشن ، نادرا اور دیگر ماہرین جنہوں نے یہ سسٹم بنا یا سب خوب اچھی طرح جانتے تھے کہ ملک میں 85000 ( پچاسی ہزار) پولنگ سٹیشنز سے پریزائڈنگ افسران اس سسٹم کو استعمال کریں گے ۔ اب ایسا تو ہر گز نہیں ہوا کہ شام ڈھلتے پو لنگ سٹیشنز کی تعداد دگنی ہو گئی ہو ۔ اب سوال یہ ہے کہ آخر یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک سسٹم آپ نے بنایا ہو، آپ کو پہلے ہی سے معلوم ہو اس سسٹم پر اتنا بوجھ آنا ہے اور اس کے باوجود وہ سسٹم اس بوجھ کو برداشت نہ کر سکے اور فیل ہو جائے؟

کیا ناقص سسٹم متعارف کرا کے اس سارے عمل میں کرپشن کی گئی اور مال کھایا گیا ؟ یا جان بوجھ کر کسی کی خواہش یا حکم پر اس میں یہ نقص رکھا گیا کہ شکست تو نوشتہ دیواار ہے اس لیے الیکشن کے سارے عمل کو مشکوک بنا دیا جائے ؟ جس نے بھی اس سسٹم کو بنایا اسے معلوم تھا اس کا استعمال 85 ہزار پولنگ سٹیشنز پر ہو گا۔اس کے باوجود یہ سسٹم ناکام ہو گیا تو اس کے بنانے والوں کی شناخت سامنے کیوں نہیں لائی جا رہی ؟ قوم کو بتایا کیوں نہیں جا رہا یہ سسٹم کس نے بنایا اور اس کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی جا رہی ؟ قوم جاننا چاہتی ہے کہ وہ کون ہے جس کی پردہ داری مقصود ہے ؟ کہیں یہ خطرہ تو نہیں کہ ان کے نام لیے گئے تو سارا کھیل سامنے نہ آ جائے اس لیے جناب ترجمان کمال بے نیازی سے اسے ٹیکنیکل فیلیئر قرار دے کر اس معاملے پر ’’ مٹی پاؤ‘‘ فارمولے کا اطلاق کرنا چاہتے ہیں ؟

دوسرا سوال یہ ہے کہ الیکشن کمیشن اور نادرا نے ایک سسٹم بنایا ۔ انہیں معلوم تھا یہ سسٹم عام انتخابات جیسے اہم ترین موقع پر استعمال ہونا ہے۔ کامن سینس کا تقاضا ہے کہ کسی ہنگامی صورت حال سے نبٹنے کے لیے وہ متبادل بندو بست کر کے رکھتے ۔سسٹم فیل ہونے کی صورت میں اس کی فوری ریکوری کا انتظام ہونا چاہیے تھا اور جدید ٹیکنالوجی کے اس دور میں یہ ریکوری سسٹم چند منٹوں میں فعال ہو جانا چاہیے تھا ۔ بنکوں اور متعدد دیگر اداروں کے پاس ریکوری اور متبادل موجود ہوتا ہے ۔ الیکشن کمیشن کے پاس کیوں نہیں تھا ۔ جب اچھی طرح معلوم تھا کہ اس عمل میں معمولی سی غفلت پورے انتخابات پر سوال اٹھا کر انہیں مشکوک کر سکتی ہے تو اس پر توجہ کیوں نہ دی گئی ؟ یہ محض غفلت تھی یا جان بوجھ کر ایسے کیا گیا کہ شکست کی صورت میں انتخابی عمل کو مشکوک بنا دیا جائے تا کہ ہارنے والے دھاندلی کا شور مچانا چاہیں تو ان کے پاس ایک جواز موجود ہو ۔ کیا اسے محض اتفاق سمجھ کر نظر انداز کر دیا جائے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت میں آر ٹی ایس بنایا جاتا ہے ، مسلم لیگ ن کی حکومت میں قانون سازی کے ذریعے آر ٹی ایس کا استعمال لازمی قرار دیا جاتا ہے اور پھر اس سسٹم کو اس بے نیازی سے لانچ کر دیا جاتا ہے کہ نہ کسی فنی خرابی کی صورت میں اس کی ریکوری کا کوئی بندوبست ہے نہ ہی کوئی متبادل سسٹم موجود ہے؟

آر ٹی ایس کے نام پر جو واردات کی گئی ہے یہ معمولی غفلت یا ٹیکنیکل فیلئیر نہیں ہے ۔ یہ بہت بڑا جرم ہے ۔ ملک میں سیاسی تناؤ شدید تر ہو چکا ۔ ایسے میں انتخابات کی شفافیت پر سوال اٹھے تو خدا نخواستہ ملک میں انارکی کی کیفیت بھی پیدا ہو سکتی ہے ۔ اس لیے لازم ہے کہ معاملے کو محض ’ ٹیکنیکل فیلیئر‘ قرار دینے کی کوشش کی مذمت کی جائے اور معاملے کی تحقیقات ہوں ۔ یہ کھوج لگانا ضروری ہے کہ ہوا کیا تھا ؟ سسٹم ناقص تھا بوجھ برداشت نہ کر سکا اور بیٹھ گیا یا شکست نوشتہ دیوار دیکھ کر کسی نے اسے ہیک کرنے کی کوشش کی اور اسے اندر سے اپنے ذاتی وفادار سہولت کار افسران کی معاونت حاصل رہی ؟ دونوں صورتوں میں مجرمان کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے۔

آصف محمود
آصف محمود
حق کی تلاش میں سرگرداں صحافی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *