سرگودھا الیکشنز نتائج اور شعور۔۔۔۔ولائیت حسین اعوان

پورے پاکستان کی طرح  سرگودھا میں بھی الیکشنز مکمل ہو چکے ہیں اور نون لیگ نے قومی اسمبلی کی پانچ میں سے 5 سیٹیں جیت لیں۔صوبائی کی 5 پی ٹی آئی اور 5 نون کو ملیں۔
چونکہ توقعات کے عین مطابق پاکستان تحریک انصاف نے واضح برتری حاصل کر لی ہے اور پنجاب کے کچھ شہروں سے تو کلین سویپ کیا ہے۔سوشل میڈیا پر سرگودھا سے PTI کی ہار پر طرح  طرح  کے تبصرےہو رہے ہیں ۔نون والے اسے کلین سویپ کہہ رہے ہیں۔حالانکہ کلین سویپ تب ہوتا جب قومی کی 5 اور صوبائی کی 10 نشستیں نون جیتتی۔سرگودھا  والوں نے تحریک انصاف کے ساتھ کافی انصاف کیا۔اس آرٹیکل میں انتہائی مختصراً  اپنے پڑھنے والوں کو سرگودھا  سے جیتنے والوں کی تفصیل اور تحریک انصاف کی شکست کی وجوہات گوش گزار کروں گا۔

این اے 88 بھلوال۔بھیرہ پر نون لیگی امیدوار سابق ایم۔پی اے ڈاکٹر مختار بھرت کی ندیم افصل چن کے مقابلے میں برتری 10 ہزار سے زائد این اے 89 کوٹ مومن پر سابق ایم این اے محسن شاہ نواز رانجھا جو کہ ضلعی مسلم لیگ کے صدر کے بیٹے اور سرگودھا سے شریف فیملی کے قریبی ہیں اپنے مقابل نوجوان شخصیت اسامہ غیاث میلہ جو سابق ایم این اے غیاث میلہ مرحوم کے بیٹے ہیں ان سے برتری 1000 سے زائد، این 90 شہر کی سیٹ پر سابق ایم این اے حامد حمید کی لیڈ اپنی مدمقابل نادیہ عزیز سابق ایم اپی سے 8 ہزار، این اے 91 سلانوالی پر سابق ایم این اے ذوالفقار بھٹی کی اپنے مقابل امیدوار سابق ایم پی اے عامر سلطان چیمہ سے محض 87 ووٹ کی برتری اور این اے 92 ساہیوال شاہ پور پر سابق ایم این اے جاوید حسنین شاہ کی پیر حمیدالدین سیالوی کے بھتیجے نعیم الدین سیالوی سے 30 ہزار کی برتری رہی۔

عمومی طور پر ہوتا ایسا ہے کہ قومی اسمبلی کے بعد صوبائی اسمبلی پر بھی اسی جماعت کا امیدوار جیت جاتا ہے لیکن صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر 5 سیٹ تحریک انصاف کے حصہ میں آئیں۔
سوشل میڈیا پر بغیر حقیقت حال جانے” محبان عمران ” کی طرف سے سرگودھا کی عوام کو کوسنے دئیے جا رہے ہیں کہ وہ دوسرے شہروں کی طرع عمران خان کی تبدیلی کی ساتھی کیوں نہ بنی لیکن بغیر حقیقت حال جانے یہ سب تنقید کا شور ہے۔

پنجاب میں پچھلے 10 سال سے نون کی حکومت ہے۔اور سرگودھا  نون کا گڑھ ہے۔جماعت اور امیدواروں کی اپنی ذاتی سیاسی غلطیاں اور ہٹ دھرمیاں انکی شکست کا باعث بنیں۔عوام کا قصور یہ ہے کہ یہاں برادری ازم گروپ بندیاں ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی دھن ذاتی لڑائی جھگڑے اور مفادات عوام کو قومی سوچ پر متفق ہونے اور کرپٹ قیادت کے خلاف اکٹھا ہونے کے نعرے میں رکاوٹ کا باعث ہیں۔
این اے 90 شہر سے نادیہ عزیز کو ٹکٹ دیا گیا جو 2013 میں نون کے ٹکٹ پر ایم۔پی اے منتخب ہوئی۔اس سے پہلے وہ پی پی پی میں تھیں۔انکے والد عزیز الحق 1970 سے پی پی پی سے وابستہ رہے۔اور شہر کے صدر بھی رہے۔نادیہ کی کامیابی کے پیچھے بھی انکے والد کی سیاسی حکمت عملی کارفرما ہے۔2013 میں نون میں آنے کے بعد نادیہ پر جماعت بدلنے کا کوئی الزام نہ لگا ،نہ نون لیگ کی مقامی قیادت نے احتجاج کیا اور وہ با آسانی جیت گئیں لیکن پی ٹی ائی میں آنے کے بعد انکے خلاف تحریک انصاف کی مقامی قیادت اور پرانے ورکرز نے بھی بھرپور احتجاج کیا اور نون لیگ نے بھی بھرپور پروپیگنڈہ کیا۔جو پہلی وجہ بنا ،نادیہ عزیز کی شکست کا۔ٹکٹ ملنے کے بعد مخلص پارٹی ورکرز اور مقامی قیادت کو اعتماد میں لینے ان سے رابطہ بڑھانے اور الیکشن کے لیئے انکی مدد لینے میں کاہلی کوتاہی شکست کی دوسری وجہ بنا۔نادیہ کے ٹکٹ کے فیصلہ کے بعد تحریک انصاف کی مرکزی قیادت کا مقامی قیادت سے مشاورت کے بجائے نئے شامل ہونے والوں کی رائے کو اہمیت دینا اور مخلص لوگوں کو نظر انداز کرنا تیسری وجہ بنا۔

پچھلے الیکشنز میں بھرپور محنت کرنے والی پی ٹی آئی کی تمام تنظیم کو نظر انداز کر دیا گیا۔پارٹی پر مشکل وقت میں پیسہ اور وقت صرف کرنے والے ساؤتھ پنجاب کے سینئیر نائب صدر اور ٹکٹ کے امیدوار اور 2013 کےقومی اسمبلی کی  ٹکٹ ہولڈر بیریسٹرعبداللہ کاہلوں کے والدممتاز  کاہلوں کو ٹکٹ دینے کے بجائے بغیر انہیں اعتماد میں لیئے نادیہ عزیز کو عجلت میں ٹکٹ دینے کا اعلان کر دیا گیا۔صرف یہاں تک نہیں شہر کی سیٹ سے ایم پی اے کے امیدوار کے لیئے بھی نادیہ عزیز کی رائے کو اہمیت دی گئی۔جو اس حلقہ میں تحریک انصاف کا سب سے بڑا بلنڈر تھا۔

نادیہ کو اختیار دیا گیا اپنے ساتھ ایم۔پی اے کا نام دینے کا تو انھوں نے نون لیگی یونین چئیرمین چوہدری اقبال کا نام دے دیا۔انتہائی کمزور امیدوار جسے اپنی یونین سے باہر کوئی جانتا ہی نہیں تھا۔شہر میں اسے نون کی مشہور و معروف شخصیت صادق ہسپتال کے مالک سابق تحصیل ناظم اور موجودہ ڈپٹی مئیر کے والد قد آور سیاسی شخصیت ڈاکٹر لیاقت سے 20 ہزار ووٹوں سے شکست ہوئی۔یہاں سرگودھا  میں تحریک انصاف کے ڈسٹرکٹ پریزیڈینٹ انصر ہرل اور عنصر نیازی کی نالائقی اور کمزور انتظامی صلاحیت کی بات کرنا بھی بےجا نہ ہو گا۔نادیہ ایم۔پی اے کی امیدوار کی حیثیت سےزیادہ موثر ہوتی اور انکا بہترین کمبینیشن ممتاز  کاہلوں یا انکے بیٹے یا کسی بھی پرانے انصافی ورکر کو ساتھ ملا کر الیکشن لڑنے سے ہوتا۔ایک ایم۔این اے کی سیٹ پر اور دوسرا ایم۔پی اے۔۔نادیہ کا قومی سیٹ کے لیئے ہوم ورک مکمل نہیں تھا۔اسکے قریبی لوگ جو بظاہر اسکے ساتھ کمپین میں ساتھ تھے وہ در حقیقت نون لیگ سے مخلص تھے۔اور یہی وجہ تھی نادیہ کو اپنے گھر کی یونین کونسل سے بھی واضح اکثریت نہ مل سکی۔

مزید نادیہ کے مقابل امیدوار حامد حمید جو سابق مئیر سابق ممبر پارلیمینٹ چوہدری عبدالحمید مرحوم کے بیٹے ہیں اور پہلے بھی ایم۔پی۔ اےے ایم این اے منتخب ہو چکے ہیں کو ہمیشہ کی طرع برادری ازم کا ووٹ ملا۔دلچسپ امریہاں یہ ہے کہ ضلع سرگودھا  کے تمام نون لیگی امیدواروں میں پچھلے 5 سال میں اپنے حلقہ اور شہر کو جس نے سب سے زیادہ نظرانداز کیا وہ حامد حمید تھے۔انکو شہباز شریف نے MNA کا ٹکٹ نہیں دیا اور ڈاکٹر لیاقت کا ٹکٹ فائنل کیا۔اس پر حامد نے حمزہ شہباز پر ٹکٹ کے لیئے دو کروڑ لینے کا الزام لگایا۔شہر میں اپنی جماعت کے فیصلہ کے خلاف ریلی نکالی۔ اور قیادت کا یہ کہہ کر مذاق اڑایا کہ میں بھی دکان دکان جا کر پیسے اکٹھے کر کے حمزہ کو دیتا ہوں۔ دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ 2013 الیکشن میں بھی ضلعی صدر نون لیگ شاہ نواز رانجھا پر “رقماں دو تے ٹکٹ لو” کے الزامات لگ چکے ہیں۔اور ان الزامات کے باوجود ان کی ضلعی صدارت پکی رہی۔

حامد گروپ نے ٹکٹ کے اس فیصلہ پر خوب احتجاج کیا اس احتجاج میں انھوں نے اور انکے ساتھیوں نے ڈاکٹر لیاقت پر کرپشن کے شدید الزامات لگائے۔ان پر شخصی حملے کیئے۔ان کی جلسوں میں تضحیک توہین کی اور پاکستانی سیاست کی بدصورتی دیکھیے  کہ اس تمام مشق کے بعد دونوں مل کر ووٹ مانگتے رہے اکٹھے جلسے کرتے رہے۔ڈاکٹر لیاقت کا ٹکٹ تبدیل ہو کر ایم پی اے کے لیئے فائنل ہو گیا اور حامد کو حمزہ نے خاموش کرانے کے لیے  اسکو MNA کا ٹکٹ دے دیا۔ اور حامد کا اس مہم میں ساتھ دینے والے سابق ایم۔پی اے عبدرزاق ڈھلوں کو سائیڈ  لائین کر دیا گیا۔ نون لیگی ووٹرز کے “شعور” کی انتہا دیکھیے  کہ انھوں نے اپنے ہی امیدوار کی ڈاکٹر لیاقت پر کرپشن کرنے کی بات پر یقین نہ کر کے ڈاکٹر لیاقت کو بھی ووٹ دیا اور حامد حمید سے بھی نہ پوچھا کہ آپ نے اب خود حمزہ شہباز کو کتنی رقم دی یا کرپٹ ڈاکٹرکے ساتھ مل کر الیکشن کیوں لڑ رہے ہیں اور کیوں ہمیں انکو ووٹ دینے کا کہہ رہے ہیں۔دونوں امیدوار اگر چہ  جیت گئے لیکن یہ الزامات کی کالک انکو ووٹ دینے والی عوام کے چہروں سے بھی آسانی سے نہ دھل سکے گی اور نہ الزامات لگانے والوں اور جن پر الزامات لگائے گئے انکے چہروں سے اسکا داغ اگلے 5 سال نہ  جائے گا۔

پی پی کے امیدوار سابق وزیر تسنیم قریشی تھے۔پی ٹی آئی کے پوش ایریا کے ناراض ووٹرز نے (نادیہ کو ٹکٹ ملنے پر) پی پی پی کے تسنیم قریشی کو ووٹ کاسٹ کیئے۔اور تسنیم قریشی نے بھی 45000 کے قریب ووٹ لیا۔تحریک۔انصاف نے انکو جماعت میں شامل کرنے کے لیئے دعوت دی لیکن وہ پی پی پی سے ہی منسلک رہے۔تمام ضلعی تنظیم ممتاز کاہلوں کی قیادت میں تحریک انصاف کی مرکزی قیادت سے الیکشن سے دو تین ہفتہ پہلے تک ناراض رہی ۔اگر چہ  عمران خان نے کاہلوں صاحب کے گھر جا کر انہیں راضی کر لیالیکن وہ بات نہ رہی۔کینٹ ایریا کی سیٹ تحریک انصاف کے عنصر مجید نیازی 3000(جو 2013 میں نادیہ عزیز سے ہارے تھے) ووٹوں کی لیڈ سے جیت گئے۔عنصر مجید پارٹی کے پرانے اور مخلص کارکن ہیں اور پچھلے دور حکومت میں انھوں نے پنجاب حکومت کی اپنے خلاف انتقامی کاروائیوں کا جرات سےسامنا کیا لیکن جماعت کو نہ چھوڑا۔

قومی اسمبلی کی سیٹ پر جماعت اسلامی کے ڈاکٹر ارشد شاہد بھی ایم ایم اے کے ٹکٹ پر امیدوار تھے جو محض 8000 ووٹ لے سکے۔۔پچھلے الیکشنز میں 30 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کرنے والے ڈاکٹر ارشد شاہد ایک شریف محنتی سیاسی کارکن اور سوشل ورکر کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں لیکن جماعت کی قیادت کو غور کرنا ہو گا کہ انکی کونسی ایسی سیاسی غلطیاں ہیں جن کی وجہ سے وہ 10 جماعتوں کے اتحاد کے باوجود 1000 فی جماعت بھی ووٹ حاصل نہ کر سکی۔

مجموعی طور پر سرگودھا کی عوام نے الیکشن سے پہلے جماعت تبدیل کرنے والی اس خاتون سیاستدان کو تو مسترد کر دیا جس نے 5 سال میں ضلع سرگودھا کے تمام ممبران پارلیمنٹ سے زیادہ فعال اور بہتر سیاست کی۔جس کا فوکس تعلیم۔صحت اور روزگار پر رہا۔جو تھانہ کچھری انتقامی کارروائیوں کی سیاست سے دور رہی ۔جس نے حلقہ میں اپنی حاضری یقینی بنائی۔کرپشن کے کسی بھی الزام اور کیس سے بری الزمہ رہیں ۔اور جو ایک اعلی تعلیم یافتہ خاتون تھیں۔اور سب سے اچھا کام جو انھوں نے اپنے اس 5 سالہ دور میں کیا وہ ایک مدتوں سے بےکار پڑی اور رفتہ رفتہ قبضہ  آور ہوتی سرکاری اراضی پر لڑکیوں کا کالج منظور کروا کر تیار کروا دیا۔جسکی سرگودھا شہر میں اشد ضرورت تھی۔ وہ تبدیلی کے نعرے والی جماعت اور ترقی یافتہ پاکستان کی امید دلانے والوں کے ٹکٹ پر میدان میں تھیں۔لیکن انھوں نے اس شخص کو لگاتار دوسری بار جتوایا جو ان میں سے کسی بھی وصف پر پورا نہیں اترتا تھا ۔اور جسکے اپنے اسکی ماضی کی کارکردگی پر سخت نالاں تھے۔

“خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی

نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا۔۔۔

ولائیت حسین اعوان
ولائیت حسین اعوان
ہر دم علم کی جستجو رکھنے والا ایک انسان

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *