• صفحہ اول
  • /
  • خبریں
  • /
  • سپریم جوڈیشل کونسل چیف جسٹس کے مزدورمخالف بیان کا نوٹس لے:مشتاق علی شان

سپریم جوڈیشل کونسل چیف جسٹس کے مزدورمخالف بیان کا نوٹس لے:مشتاق علی شان

(رپورٹ :مشتاق علی شان)چیف جسٹس کی طرف سے ٹریڈ یونینز پر پابندی کے ریمارکس صنعتکاروں کو مظالم جاری رکھنے کاپروانہ اور مزدوروں کے زخموں پر نمک پاشی ہے سپریم جوڈیشل کونسل ،وکلا کی تنظیمیں اور سینٹ اس صورتحال اورمحنت کشوں میں پھیلی سراسمیگی کے سدِ باب کے لیے اپنا کردار ادا کریں ،نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن، ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن ، سندھ ایگریکلچر جنرل ورکرز یونین کراچی (پ ر)’’ نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن‘‘(NTUF)کے ڈپٹی جنرل سیکریٹری ناصر منصور ’’’ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن‘‘ (HBWWF)کی جنرل سیکریٹری زہرا خان اور ’’ سندھ ایگریکلچر جنرل ورکرز یونین ‘‘(CBA)کے رہنما مشتا ق علی شان نے چیف جسٹس پاکستان ثاقب نثار کی طرف سے سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ٹریڈیونین نمائندوں کی از خود نوٹس لینے کی درخواست پر دیے گئے ریمارکس کی کڑی مذمت کی ہے

جس میں چیف جسٹس نے کہا ہے کہ’’ اگر آئین میں لکھا نہ ہوتا تو ٹریڈ یونین پر پابندی لگا دیاتا ۔ٹریڈ یونینز نے نظام تباہ کر کے رکھ دیا ور آدھی تباہی یونین بازی نے کی ہے۔ ‘‘ مزدور رہنماؤں نے کہا ہے کہ ملک میں انصاف کی اعلیٰ مسند پر براجمان چیف جسٹس اگر ملکی آئین کے آرٹیکل 17 کے تحت حاصل انجمن سازی کے بنیادی آئینی حق پر سوال اٹھاتا ہے تو یہ بجائے خود ایک سوالیہ نشان ہے کہ ملک میں حکومتوں ،لیبر سے متعلقہ اداروں ، ریاستی اداروں بالخصوص عدلیہ کا محنت کشوں کی جانب کیا رویہ ہے ۔یہ رویہ اس امر کی غمازی کرتا ہے کہ حکومتیں اور سارے ریاستی ادارے بشمول عدلیہ صنعتکاروں کے پشت پناہ بنے ہوئے ہیں

۔صورتحال یہ ہے کہ ورکرز کو یونین سازی کی اجازت ہے، نہ ہی صنعتی اداروں میں جمہوری طریقے سے ان کا مینڈیٹ تسلیم کیا جاتا ہے اور نہ ہی انھیں آئین وقانون میں درج اجتماعی سوداکاری کی اجازت ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ملک بھر کی فیکٹریوں ،کارخانوں اور کام کی جگہوں بالخصوص ٹیکسٹائل ،گارمنٹس ، ہوزری وغیرہ کے کروڑوں محنت کش تقرر ناموں ، کم از کم اجرت،سوشل سیکورٹی ،پینشن اور دیگر حقوق سے جبری طور پر محروم رکھے ہیں اور ان کی کہیں شنوائی نہیں ہوتی۔قانونی وآئینی حقوق کے لیے آواز اٹھا نا،گویا قانونی طور پر جرم بنا دیا گیا ہے۔یونین سازی و صنعتی تنازعات کے سلسلے میں مزدوروں کو انسدادِ دہشت گردی کی عدالتوں سے سزاؤں کا چلن ہو یا ورکرز پر ڈھائے گئے دیگر مظالم ہوں ، چیف جسٹس نے اپنے مزدور دشمن ریمارکس سے سرمایہ داروں کے پلڑے میں اپنا سارا وزن ڈالتے ہوئے ان کی تائید وتوثیق کی ہے۔

 

انھوں نے مزید کہا ہے کہ ایک اعلیٰ عدالتی فیصلے کے تحت کنٹریکٹ سسٹم کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے لیکن اس کے باوجود ملک میں بدترین ٹھیکہ داری نظام رائج ہے جس کے باعث پرائیویٹ سیکٹر میں دو فیصد سے بھی کم مزدور ٹریڈ یونین میں منظم ہیں اور ان کی اکثریت قرونِ وسطیٰ کے بندی خانے بنی فیکٹریوں ،کارخانوں،کام کی جگہوں اور کانوں وغیرہ میں لیبر قوانین کے عدم اطلاق اور ہیلتھ وسیفٹی کے اقدامات نہ ہونے کے باعث سانحہ بلدیہ فیکٹری کراچی اور کبھی سانحہ گڈانی شپ بریکنگ جیسے سانحات میں اپنی جانوں اور اعضاء سے محروم ہو رہے ہیں۔ لیکن اپنی آئینی وقانونی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے غیر قانونی ٹھیکہ داری کے انسداد اور لیبر قوانین پر عمل درآمد کرانے کی بجائے چیف جسٹس ملک کے محنت کشوں کے زخموں پر نمک پاشی کرتے ہوئے صنعتکاروں کو مزدوروں پر روا رکھے جانے والے انسانیت سوز مظالم جاری رکھنے کا پروانہ تھما رہے ہیں ۔ یہ صورتحال ملک میں محنت کشوں کی دگرگوں صورتحال کو مزید تباہی سے دوچار کرنے کے مترادف ہے ۔

انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ چیف جسٹس کے ان مزدور مخالف ریمارکس سے پہلے ہی جبر کے شکار محنت کشوں میں مزید سراسمیگی پھیل گئی ہے اس لیے ضروری ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل اس غیر سنجیدہ اور غیر آئینی ریمارکس پر ایکشن لے ۔ وکلا کی تنظیمیں جو کہ انجمن سازی اور آئینی وجمہوری حقوق کے لیے ہمیشہ آواز بلند کرتی رہی ہیں وہ اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کریں اور سینٹ کا یہ فرض بنتا ہے کہ وہ مزدوروں کو درپیش اس تشویش ناک صورتحال کے ازالے کے لیے سینٹ میں اس پر بحث کا آغاز کرے اور اس کا سد باب کرے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *