ادب اور سماج ۔۔۔۔سجاد ظہیر سولنگی

ادب انسان کے اظہارکا اعلیٰ شاہکار ہے۔ وہ ادب جو سماج میں مظلوموں کے دُکھوں اور مسائل کے حل کے لیے تبدیلی کی راہیں ہموار کرے۔ ایسے تخلیقی ادب کا سلسلہ آج پروان چڑھنا کم ہوگیا ہے۔ جب تک ترقی پسند تحریک اپنے مضبوط جوہر میں تھی تب تک ادب اور زندگی کا سنگم جڑا رہا۔ جیسے ہی وہ تحریک غیرمتحرک ہونا شروع ہوئی، تو ایسے ادب کی تخلیق میں کمی آئی۔ترقی پسند ادب کی وہ روایت ترمیم پسندی کی سیاست کے ساتھ آگے چل کر ادب برائے ادب کی یلغار میں دب گئی ہے۔ادب اور سماج کا جو تعلق تھا وہ کمزور ہواہے۔ لیکن پھر بھی دیکھا جائے تو ادب اور زندگی کی روایات پر گامزن سیاسی ادب تو تخلیق ہوتا رہا مگر تحریک کی شکل میں اسے روکنے کی کوشش کی گئی۔

سماجی سائنِس کا مطالعہ کیا جائے، تو ادب اور سماج کا رشتہ ایک اٹوٹ تعلق بن چکا ہے۔ جسے دوسرے الفاظ میں سیاسی ادب کہا جاتا ہے۔ ایسا ادب جو سماج میں محنت کشوں، دہکانوں، خواتین  اور مظلوموں کے حقوق کی ترجمانی کرے۔سماج میں ایسے ادب کی بنیادیں اولین ہیں۔ اس کی عملی شروعات انسانی تاریخ کے شروع ہونے کے بعدسے ہی انسانی عوامی جدوجہد سے نظر آتی ہیں۔ اس کے لیے تحریکی طور پر دیکھا جائے تو20 ویں صدی میں روس کی سرزمین پرآنے والے بالشویک انقلاب کے بعد ترقی پسند ادب کے لیے عملی طور پر قلمی کردار ادا کیا۔ شعور کی طرف جائیں گے تو معلوم ہوجاتا ہے، زندگی اول دن سے ترقی اور تبدیلی کی طرف سفر کرتی رہی ہے، یہ زندگی کا ایک مسلمَّ سچ ہے، کوئی بھی تبدیلی بغیر کسی سماجی عمل کے ممکن نہیں ہے۔ اس کے پیچھے تاریخ  کی ایک بہت بڑی لڑائی شامل ہوتی ہے۔

عالمی نظریہ ماؤازم ایسے ادب کو ادب تسلیم نہیں کرتا، جو عوامی بیداری اور محنت کشوں کے دکھوں کا مداوا نہ کرسکے۔روس کی سرزمین پر1917ء میں لینن کی قیات میں آنے والے بالشویک انقلاب نے ہمارے سماج اور سیاسی زندگی پر جو اثرات مرتب کیے ہیں ان کے  اثرات آج تک ہمارے ادب پر قائم ہیں۔ 1935 ء میں انجمن ترقی پسند مصنفین کی بنیاد عمل میں لائی گئی۔ یہ ادبی تحریک اس سامراج دشمنی کی بنیاد تھی۔ جو کہ  انگریز سامراج کے خلاف عام لوگوں میں بیداری پیدارکرنے کے لیئے شروع کی گئی۔ اس تحریک نے جو معرکے  سر  کیے  وہ آج ادب کی بہت بڑی تاریخ سمجھی جاتی ہے۔

بر صغیر میں اگر عوامی سطح پر دیکھا جائے توانجمن ترقی مصنفین کے بعد ایسی کوئی تحریک دوبارہ ابھر کر سامنے نہیں آئی، جسے عوامی حِمایَت حاصل ہو یا عام لوگ کی اس میں شمولیت رہی ہو۔ آج جب کہ  ہمارے پاس ترقی پسند تحریک کمزور ہو چکی ہے۔ اپنی اصل حیثیت کھو چکی ہے، ہم   ایسے ادب کو تسلیم کرنے سے نہ صرف انکاری ہیں بلکہ اس کے خلاف من گھڑت بے بنیاددلائل بھی دیا کرتے ہیں۔ جس میں ہم ادب کو ماسوائے مفاد پرست ادیبوں کے حوالے کرنے کے کچھ بھی نہیں کرتے۔

آج ہمارے ذہنوں میں بہت سے سوالات جنم لیتے ہیں۔ جن پر ہم اپنے قلم اور سوچ کو استعمال نہیں کیا کرتے۔ ہماری سیاست کیوں کمزور ہے؟ سماج میں تبدیلی کا عنصر کیوں خاموش ہے؟ اس میں سے عوام کی آواز اور مظلوموں کی بقاء کا نعرہ خاموش ہو گیا ہے۔ محنت کشوں کے سوال کو نظر انداز کیا جارہا ہے، کبھی اگر کہیں کسی نوجوان نے اپنی تحریر، شعر یا گفتار میں کہیں کوئی عوام اور پسے ہوئے طبقات کی بات کیا چھیڑلی، اس کے لیے ایک رائے قائم کردی جاتی ہے  کہ ادب کو نعرے بازی سے پاک کیا جائے۔ا

ادب ہر حسن کی تکمیل کے نغمے گاتا ہے۔ انسان کی خوبصورتی  ہمارے ادب کا اعلیٰ شاہکار ہے۔ ہم جیسی تخلیق لکھنا چاہیں، ہمیں کوئی روک ٹوک نہیں ہے۔ اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ ہم تمام نسوانی شاہکار کی بات اپنے کلام میں کریں اور ہماری بات بے تکلف ہوکر سنی جائے، کوئی بھی روک ٹوک نہ ہوتو پھر ایسی تخلیق کے لیے تاریخی تبدیلی کی ضرورت ہے، جہان حسن کے تمام جمالیاتی اطراف کا ذکر بغیر کسی روک ٹوک کے برداشت ہو جائے، تو پھر اس کے لیے سماج میں ایسی تاریخ کی ضرورت ہے جو تبدیلی پسندی میں جدوجہد سے ہمکنار ہو۔ اپنے قلم اور ہاتھوں کی قربانی دیکر، سماجی رومانیت کا  پُل باندھ کر اور پھر وہ پُل اس ادب کی بات کرے جس کا نام ترقی پسند ادب ہے۔ جو سماج اور انسانی تعلق کی بات کرتا ہے۔ جو سیاست کوسماجی بیداری کی تخلیق سے جوڑنے کی بات کرتا ہے۔ جو فن اور ادب کو رجعت پرستوں کے قبضے سے آزادی اورعلم و دانش کو عوام کے قریب لانے کی بات کرتا ہے۔جو ادب سماج میں موجود بھوک، افلاس، غربت، سماجی بیگانگی، معاشی پسماندگی اور سیاسی آزادی کی جدوجہد میں کردار ادا کرے۔ایسا ادب جس میں حقائق اور سچ کو عوام کے  سامنے کھول کے رکھ دینا ہماری انقلابی تخلیق کی روایات ہو۔ سماج کو جدید اور سائنسی اصولوں سے سمجھنے کی وسعت دے۔ ماضی کے قصوں اور پرانی روایات کے خلاف اور پرامن دنیا کی ترویج کے لیے جدوجہد میں مددگار ثابت ہو۔

مانا کہ  ادب حسن کا ایک نرالا اظہار ہے، مگر ہمیں اس کا معیار ایک بار پھر تبدیل کرنا پڑیگا۔ ترقی پسند ادبی تحریک سے پہلے حسن کا معیار ماسوائے امیروں اور ساہوکاروں کی عیش پرستی کے کچھ بھی نہیں تھا۔ جو ادب ہمیں انقلابی فکر کے نغمے نہیں دے سکتا، ہماری خواہشات اور ہمیں جینے کا راستہ نہ دے سکے، ہمارے دل میں دھرتی، مظلومیت، امن اور آشتی کا سنگم نہ بنا سکے، جو ادب ہمارے ارادوں اور امیدوں کو فتح  یاب  کرنے کے لیئے سچائی کا پیغام نہ دے سکے، وہ ہمارے لیے ماسوائے عیاشی کے کچھ بھی نہیں ہے۔ ایسے ادب کی ترویج ہونا ہمارے سماج میں ناممکن ہے۔ ایک وقت میں اردو کے بہت بڑے شاعر مرزا غالب کو یہ کہنا پڑا۔۔۔۔۔
لکھتے رہے جنوں کی حکایات خوں چکاں
ہر چند اس میں ہاتھ ہمارے قلم ہوئے ”مرزا غالب“

غالب صاحب کا یہ مصرعہ ہاتھوں کا قلم ہونا ترقی پسند فکر کی نوید دیتاہے۔ جس میں غالب اپنے ہاتھ قلم کرانا پسند کرتے ہیں۔ لیکن سچ کا دامن نہیں چھوڑنا چاہتے ہیں۔ ادب وہی سماج   کے ساتھ کھڑا ہو پائے گا، جس میں محکوموں کی چیخیں، محنت کشوں کی آزادی اور اس کی تعمیر و تعبیر کا جذبہ شامل ہو۔ جس میں سماجی حقیقت نگاری کے رنگ شامل ہوتے ہوئے نظر آئیں۔ہمارے ادب کو ایسی  تحریکوں  کی راہنمائی کر نی چاہیے، جن کے منشور میں سماجی ناانصافی اور غیر منصفانہ تقسیم کا حل سیاسی بنیادوں پرشامل ہو۔ ایسا ادب جو ظالم اورسامراجی قوتوں کے خلاف حوصلہ دے۔ہمیں کسانوں، محنت کشوں اور تمام مظلوم انسانوں کے حقوق کے دفاع کے لیے اپنی تخلیق کو بنیاد بنانا چاہیے۔

ایک ادیب کو اپنی خواہش کا اظہار اس طریقے سے کرنا چاہیے جس کی بنیاد پر سائنس، سماجی اور سیاسی شعور کو پھیلانے میں ہماری تخلیق سود مند ثابت ہو۔ ہماری تخلیق لڑتے ہوئے بات کرے۔ بقول سندھی زبان کے مقبول شاعر شیخ ایاز۔۔
میں ایسی کلا کو لایا ہوں
کہ دھاگہ لڑے تلواروں سے!
عوامی ادب جس کا دوسرا نام ترقی پسند ادب ہے، اس کی مخالفت میں بات کرنے والے کوئی ٹھوس دلیل نہیں دے سکے، آپ کے دلائل خود الجھن کا شکار ہیں۔ ایسے لکھاری ترقی پسند تحریک کے مدِ مقابل ایک حادثاتی اصطلاح مابعد جدیدیت کی مثال دیتے ہیں۔ جس کی تشریح وہ خود بھی نہیں کرپاتے۔ تحریک یا ادب کی نئی جہتیں کتابوں سے پروان نہیں چڑھتیں، بلکہ وہ تمام عوامی انسانی تاریخ کے بغیر ناممکن بھی ہو جاتی ہیں جسے بعد میں منظر عام پر لانے والے خود دلیل نہ ملنے کی صورت میں فراریت کا شکار ہوا کرتے ہیں۔ اگر ادب برائے ادب کی بات کرنے والے ڈھونڈے جائیں تو ان کا شعر اور تخلیق ماسوائے تحقیق کے کسی کے کام نہیں آتا۔ پھر تحقیق کی اگر بات کریں توپی ایچ  ڈی جو کہ اب پروموشن کے سوائے اپنی علمی دھاگ کھو چکی ہے۔ اور جب کوئی ڈگری یافتہ سائنس  کا پروفیسر یہ کہے”نو مور پی ایچ  ڈی“ تو پھر آرٹ کا کیا ہوگا؟ آپ خود اندازہ کرسکتے ہیں۔

بڑی کانفرنسیں، مذاکرات اور مشاعرے اب اپنی وہ افادیات کھو چکے ہیں۔ جو تقاریب کبھی عوامی ادب کے بڑے ناموں سے جانی جاتی تھیں۔ جوش ملیح آبادی، فراق گورکھپوری، فیض احمد فیض، مخدوم محی الدین، کیفی اعظمی، علی سردار جعفری، شیخ ایاز، حبیب جالب جیسے اہل علم شاعر و دانشور عوامی دکھوں کی پکار بن کے اٹھتے  تھے۔ آج بھی ان شعرا کے ترانے و نغمے خطے کے جنگلات میں بسنے والے آدی واسیوں کے دکھوں سے لیکر پہاڑوں کی چٹانوں پر آباد قبائلیوں کے غموں کا مداوا سمجھے جاتے ہیں۔جو فراق کے لفظوں میں کہتے ہوئے کبھی نہیں گھبراتے۔۔۔
جب سُست سا پڑجائے گا  توپوں کا دھماکہ
ساحل کے قریب آئے گا جب جنگ کا بیڑا
لیننؔ کے ہاتھوں سے پلٹ جائے گی کایا
اب نام و نشاں زارؔ کے مٹی میں ملیں گے
ہم زندہ تھے ہم زندہ ہیں ہم زندہ رہیں گے”

فراق گورکھپوری“
ہماری خاموشی بہت سے ایسے لوگوں کو پریشان کر دیتی ہے، اور اس کے بعد ہم انہیں ان کے سوالات کے جوابات دینا اپنا فرض سمجھتے ہیں۔آج اکیسویں صدی میں بھی نوجوان ادیب عوام کے ادب کو اپنے وجود کا حصہ گردانتے ہوئے پسے ہوئے طبقات کے لیئے اپنی  نظم، شعر اور نثر میں لڑتے دکھائی دیتے ہیں، جس کو دیکھنے کے لیئے عوامی آنکھ کاہونا لازمی ہے۔ہاں کمزور ضرور ہیں لیکن ہمارے قدم رکنے کے بجائے اپنی منزل کی طرف گامزن ہیں۔

ہم سے ایک سوال اور بھی کیا جاتا ہے۔ سوویت یونین اور عوامی تحاریک کے کمزور ہونے کے بعد عالمی سطح پر جو تبدیلی ہوئی ہے، کیا ترقی پسندی جیسی اصطلاح ابھی تک حیات ہے؟

یہ محض الجھانے اور ماسوائے ان کی اپنی شکست کے کچھ بھی نہیں ہے۔ اگر ہم ایشیا کی مثال لیں، ہندوستان سے لیکر نیپال تک جو بغاوتیں محنت کش تحریک کی ہوئی ہیں، وہ ابھی تک اسی ادب کے  وجود کی گواہی دیتی ہیں۔ ہمارے جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ سماج میں جو تاریخ لکھی جارہی ہے، اس نے عوامی جدوجہد کو دبانے کی کوشش کی جو کہ  ابھی تک جاری ہے۔ سندھ کی تاریخ کا جائزہ لیا جائے،یہاں جن شخصیات نے ترقی پسند تحریک اورعوامی ادب کی بنیاد ڈالی   تھی، ان کے علمی اور شعوری آبیاری کی وجہ سے ہمارے ہاں رومانوی ادب کی تخلیق کے لیے جو سازگار ماحول بنا، آج وہ تاریخ ختم ہورہی ہے۔ برصغیر پاک و ہند کے وہ تمام ترقی پسند لکھاری جو اپنے حصے کا فریضہ ادا کرکے چل بسے ہیں۔ایسے ماحول میں آج ہمارے ہاں جہاں بنیاد پرست میڈیا کو پروموٹ کیا جا رہا ہو، وہاں ہم عوامی ادب سے پہلے اگرچہ ادب کا تخلیقی مرکز، حسن اور عشق کا خیال صرف محبوب اور اس کے دکھوں کو ہی سمجھیں  تو ایک بار پھر ہم ترقی پسندی کی جنگ ہار جائیں گے، جو جنگ اپنے عہدمیں ترقی پسند ادب کے بہت بڑے معتبر نامور راہنماؤں سید سجاد ظہیر، سید سبطِ حسن، فیض احمد فیض، حشو کیولرامانی سوبھو گیان چندانی، شیخ ایاز، رشید بھٹی، گوبند مالھی، کیرت بابانی، اے جے اتم اور دیگران وطن پرست ادیبوں نے جیتی تھی۔

اگرچہ ہمارا شعر اور نثر صرف محبوب کے جدائی کے نغمے گاتے رہیں گے، تو پھر یہ سیاست اور ادب آنے والے وقت میں بنیاد پرست قوتوں کے زیر اثر ہو جائے گا۔ ہمیں اپنے سماج کو ایک بار پھر ایک نئی ترقی پسند فکر کے ساتھ ہمکِنار کرنا پڑیگا۔ کسی بھی قوت کا انتظار کیئے بغیر ہمیں اپنا کردا ر ادا کرنا ہوگا۔ ایسے ادب کی تخلیق جس میں عام انسانوں کے دکھوں سے لیکر تکالیف اور محنت کشوں کے دردوں کا مداوا شامل ہو۔ ادب کو سیاست سے الگ نہ کیا جائے، ادب اور سیاست ایک دوسرے کے لیئے آکسیجن کا کام کیا کرتے ہیں، اور ایسا امن دوست، سامراج مخالف اور محنت کشوں کی راہنمائی کرنے والا ادب ہی ایک نئے  سماج کی سیاسی تعمیر ثابت ہوگا۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *