نوپارکنگ۔۔۔سید علی احمد بخاری

 اقوام عالم میں اجتماعی سطح  پر بہت سی قدریں مشترک ہوتی ہیں، جو کہ مثبت اور منفی دونوں صورتوں میں موجود ہوتی ہیں، مگر  ہماری تو بات ہی الگ ہے۔ہم اکثرو بیشتردیکھتے ہیں کہ جس جگہ “نو پارکنگ” یا “گاڑی یا موٹر سائیکل پارک کرنا منع ہے” کا سائن بورڈ آویزاں ہو، وہاں لازمی طور پر گاڑیاں  اورمو ٹر سائیکل پارک کئے ہوئے نظر آتے ہیں ،جس جگہ ”یہاں کوڑا کرکٹ پھیکنا منع ہے“ تحریر کیا گیا ہو وہاں لازمی کوڑےکرکٹ کےڈھیر نظر آئیں گئے۔ جس جگہ ”یہاں پیشاب کرنا منع ہے “تحریر ہو وہاں لازماً   لوگ پیشاب کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، ہم اِن چیزوں کے اِتنےعادی ہو چُکے ہیں کہ اگر کسی جگہ اِن ہدایات کی خلاف ورزی ہوتی دکھائی نہ دے رہی  ہو تو حیرت ہونا شروع ہو جاتی ہے۔

گذشتہ کئی مہینوں سے میں نے اِس مجموعی منفی سوچ اور رویّے کی وجہ جاننے کے لئے  تحقیق کا آغاز کیا کہ آخر پوری کی پوری قوم کیوں ایک ہی ڈگر پر چل رہی ہے،تحقیق سے مجھ پر یہ راز آشکار ہو ا، کہ مسئلہ لوگوں سے زیادہ ارباب اختیار اور سسٹم کا ہے، اور قوم تو صرف بدنام ہی ہو رہی ہے، اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ملک میں سوائے چند جگہوں کے پارکنگ کیلئے کوئی جگہ مخصوص نہیں کی گئی ہوتی ،جس جگہ لوگ خالی جگہ دیکھتے ہیں وہیں گاڑیاں یا موٹر سائیکل پارک کرنا شروع کرتے ہیں کچھ عرصہ کے بعد وہاں”نو پارکنگ“ کا بورڈ لگا دیا جاتا ہے، اور لوگوں کو کبھی بھی یہ بتانے کی زحمت گوارا نہیں کی جاتی کہ، آیا وہ کس جگہ پارکنگ کی سہولت سے اِستفادہ کریں، چنانچہ وہ نو پارکنگ کی پرواہ کئے بغیر گا ڑی اُسی جگہ پارک کرتے ہیں۔ یہی حال کوڑا کرکٹ پھیکنے کے حوالہ سے وقوع پذیر ہوتا ہے، میونسپل کارپوریشن کے عدم تعاون یا نا اہلی کی وجہ سےلوگ خالی پلاٹس، گلیوں کے نکڑیا قریبی نالوں میں کوڑا کرکٹ پھینکنے پر مجبور ہوتے ہیں، اور بجائے جا بجا کوڑا دان لگانے کے، یا کوڑا کرکٹ کو ٹھکانے لگانے کے کوڑا کرکٹ پھیکنا منع ہے کا بورڈ لگا کر ذمہ داری پوری کرنے کا ڈرامہ رچایا جاتا ہے۔ اکثر تو نوٹس لگانےکی تکلیف بھی کسی کوڑا کرکٹ سے متاثر ہونے  والے شخص ہی کواُٹھانا پڑتی ہے۔ نتیجتاً لوگ تحریر کو ملحوظ خاطر رکھے بغیر کوڑا کرکٹ پھیکنا جاری رکھتے ہیں۔

tripako tours pakistan

الغرض یہی صورت حال مسافروں کے ساتھ بھی پیش آتی ہے، پبلک ٹوائلٹ کی  عدم موجودگی میں یا اپنی سفید پوشی کی وجہ سے پیسے بچانے کے چکر میں جو نُکریا کونا کُھدرا تلاش کرکے رفع حاجت کرتے ہیں وہاں بھی کچھ ہی دنوں میں ”پیشاب کرنا منع ہے“ تحریر کر دیا جاتا ہے۔سو لوگ بھی نازیبا تحریروں کی موجودگی میں پیشاب کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ہو نا تویہ چاہیے کہ اڈہ مالکان کی طرف سے مسافروں کو ٹوائلٹ کی سہولت  مفت  فراہم کرنی چاہیے ، اور دیگر پبلک مقامات پر انتظامیہ کو عوام النّاس کی سہولت کے لئے پبلک ٹوائلٹس بنوانے چاہئیں، تاکہ عوام بلا تفریق سہولت سے اِستفادہ  کر سکیں۔

Advertisements
merkit.pk

 المختصر ارباب اختیارعوام صرف ہدایات، نوٹسز، بورڈ لگانے سے زیادہ سہولیات دینےکو تیار نظر نہیں آتے، نتیجتاً عوام بھی نوٹسز اور بورڈزکونظراندازکرتے دکھائی دیتے ۔اوراِس طرح عوام کی مجموعی عادات افکار انحطاط کا شکار ہورہی ہیں۔

  • merkit.pk
  • merkit.pk

سید علی احمدبخاری
سید علی احمدبخاری
سیّد علی احمد بخاری کا تعلق آزاد کشمیر کے ضلع حویلی سے ہے۔ ابتدائی تعلیم ضلع حویلی سے حاصل کی اور 2006 ء میں پنجاب ٹیکنکل بورڈ سےElectronics میں DAE کیا۔ B-Tech (Electronics & Telecom) آنرز کی ڈگری سرحد یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی پشاور سے2013 ءمیں حاصل کی- اِسکے بعدماسڑز اِن کمپیوٹرسائنس کی ڈگری ورچوئل یونیورسٹی آف انفارمیشن ٹیکنالوجی سے حاصل کی۔اِس کے ساتھ ساتھ آپ 2007 ءسے محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات آزادکشمیر سے وابستہ ہیں۔آپ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ساتھ گہری وابستگی رکھتے ہیں، اور حالاتِ حاضرہ ، ادبی اور دیگر سوشل سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔آپ ریفرل سسٹم (Direct Marketing ) سے تین سال وابستہ رہے۔آپ شروع ہی سے ٹیکنالوجی کے اِستعما ل کے لئے کوشاں رہے، 2006 ءمیں اپنے گاوٰں میں FM ٹرانسمیٹر بناکر دو ماہ تک تجرباتی ٹرانسمیشن کی- 2008 ء سے تا حال آپ انٹرنیٹ پر درجنوں بلاگز اور ویب سائٹس ، اور پیجز چلا رہے ہیں۔ اپنے ضلع کی پہلی ویب سائٹ بنانے اور چلانے کا اعزاز بھی آپ کے پاس ہے۔ آپ آزادکشمیر میں Android App ڈولپمنٹ کرنے والے چند سافٹ وئر ڈیولپرز میں شامل ہیں۔آپ گذشتہ کئی سالوں سے آزاد کشمیر کے دارلحکومت میں قیام پذیر ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply