• صفحہ اول
  • /
  • کالم
  • /
  • کٹھ پتلیاں یا عوامی نمائندے؟‘‘۔۔۔۔رعایت اللہ فاروقی

کٹھ پتلیاں یا عوامی نمائندے؟‘‘۔۔۔۔رعایت اللہ فاروقی

الیکشن مہم تمام ہوئی، اب آج وہ دن طلوع ہوا ہے جس کی شام یہ خبر لائے گی کہ عوام جیتے یا وہ ایمپائر جو 2014ء سے اس دن کی تاک میں تھا۔ اس ملک میں ایمپائر اور عوام کا کبھی آمنا سامنا نہ ہوا۔ اور ایسا اس لئے نہ ہوپایا کہ ہاتھی کی طرح ایمپائر کے بھی دکھانے والے دانت الگ اور کھانے والے الگ ہیں۔ جب بھی عوام اس کے کھانے والے دانتوں کی جانب متوجہ ہوئے اس نے فورا دکھانے والے دانتوں کی نمائش شروع کردی۔ اور لوگ ان دانتوں کو دیکھ کر قدیم افریقی قبائل کی طرح سجدے میں گر گئے۔ ہاتھی کے تو چھبیس دانت ہوتے ہیں لیکن ہمارے ایمپائر کے اس سے دگنے سے بھی تین زیادہ ہیں۔ اس کے دانت اتنے زیادہ ہونے کا سبب یہ ہے کہ اسے کھانا بہت زیادہ ہوتا ہے۔ چنانچہ اس کے دانت اتنے زیادہ صرف اس کے قد کاٹھ کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کی خوش خوراکی کے سبب بھی ہیں۔ یہ اپنی خوش خوراکی کا حوالہ بالکل پسند نہیں کرتا۔ ایسا کرنے والوں کو یہ اٹھا بھی لیتا ہے اور کسی نالے میں پٹخ بھی دیتا ہے۔ ہاتھی تو زندہ لاکھ کا اور مردہ سوا لاکھ کا ہوتا ہے لیکن ہمارے ایمپائر کے بارے میں نہ تو درست طور پر یہ معلوم ہے کہ یہ زندہ کتنے کا ہے اور نہ ہی یہ کہ مرنے پر اس کی قیمت کیا ہوگی ؟ اس ایمپائر سے چھوٹے صوبوں کو ہمیشہ شکایات رہی ہیں، پنجاب کو البتہ پہلی بار اس سے شدید تحفظات لاحق ہیں۔ جمہوریت تنگ آمد بجنگ آمد کی صورتحال کے لئے ایک زبردست ڈھال ہے لھذا اس ڈھال کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کرنی چاہئے۔ مگر ایمپائر سمجھتا کہاں ہے ؟ ذوق جو جنگی پایا ہے۔

عوام لڑائی نہیں چاہتے۔ انہیں کوئی پسند آجائے تو اسے اپنے ووٹ کی پرچی سے نواز دیتے ہیں۔ کوئی ناپسند ہوجائے تو ووٹ کی ہی پرچی سے چلتا کر دیتے ہیں۔ کچھ زیادہ ہی ایمرجنسی ہوجائے تو بڑی عوامی قوت کا پر امن استعمال کرکے اسے اقتدار سے نکال باہر کرتے ہیں۔ لیکن ہمارے ایمپائر کو اس عوامی اختیار میں دخل دینے کا قدیمی شوق ہے۔ اس نے 2014 ء میں عوام کو بھڑکانے کے کئے جتن کر لئے مگر وہ اس کے چکر میں آئے نہیں۔ چند کٹھ پتلیاں تھیں جو پتلی تماشا کرتی رہیں لیکن عوام کو متاثر کرنے میں وہ کامیاب نہ ہوسکیں نتیجہ یہ کہ پتہ نہیں کیا کیا اٹھ گیا مگر ایمپائر کی انگلی نہ اٹھ سکی۔ وجہ یہی رہی کہ جتنی مصنوعی قوت اس انگلی کے اٹھنے کے جواز کو درکار تھی وہ قوت جمع نہ کی جاسکی۔ خیال تھا کہ جب کٹھ پتلیاں حکومت کو چلتا کردیں گی تو فوری الیکشن کی صورت کٹھ پتلیوں کا ہی جیتنا یقینی رہے گا۔ کسی لمبے چوڑے تردد کی ضرورت ہی نہ پڑے گی۔ بس ایک عدد فری اینڈ فیئر الیکشن ہی کافی رہے گا۔ لیکن کٹھ پتلیاں فیل ہوگئیں۔ یوں ایمپائر کو پلان میں کچھ رد و بدل کرنا پڑ گیا۔ اس کا رد و بدل والا منصوبہ بھی وہی پرانا گھسا پٹا منصوبہ ہی تھا کہ نکالے گئے حکمران کو رضا کارانہ جلاوطنی کروا کر ملک پر کٹھ پتلیاں مسلط کردی جائیں مگر وہ عوام جو کٹھ پتلیوں کے لئے نہ نکلے تھے وہ نکالے گئے حکمران کے لئے نکل آئے۔ عوام کا حق فیصلہ عدالت نے استعمال کیا تو عوام نے تو نکلنا تھا۔

یہ دیکھ کر ایمپائر کی انابری طرح مجروح ہوئی ہے۔ اس کے ہر ہر قدم میں غصہ اور جھنجلاہٹ صاف نظر آرہی ہے۔ یہی جھنجلاہٹ اس سے وہ غلطیاں کروا رہی ہے جن کے انتہائی خطرناک نتائج نکلنے کا اندیشہ ہے۔ صاحب دانش اسے مستقل مشورہ دئے جا رہے ہیں کہ انا پرستی کے نتائج ہمیشہ تباہ کن نکلے ہیں لیکن ایمپائر تو جیسے زبان حال سے کہہ رہا ہے کہ میرا جو جی چاہے گا وہ کروں گا، میں صرف حکومت ہی نہیں ادارے بھی کٹھ پتلی بنادوں گا، اگر کسی میں ہمت ہے تو مجھے روک لے۔ قوم سمجھدار ہے۔ وہ جانتی ہے کہ انتخابات کو ٹالنا ایمپائر کی اہم خواہشات میں سے ایک ہے۔ اسے سب سے زیادہ انتخابات ہی تو برے لگتے ہیں۔ وہ سوچتا ہے کہ جب ایمپائر وہ ہے تو ہر چیز اس کی انگلی کے اشارے سے ہونی چاہئے۔ عوام کون ہوتے ہیں حکمران چننے والے ؟ قوم چاہتی ہے ایک بار یہ یوم انتخاب منعقد ہولے بس۔ عوام کو پرچی کی طاقت استعمال کرنے کا موقع مل جائے۔ ایسا ہونے کا یا تو یہ فائدہ ہوجائے گا کہ عوامی اختیار خود کو منوا لے گا اور یا یہ کہ جس کا امکان ایک خدشے کے طور پر ظاہر کیا جا رہا تھا وہ حقیقت میں بدل جائے گا۔ اس صورت میں ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ ایک لاوہ بن کر بہہ نکلے گا۔ ابھی تو ایک بڑی تعداد وہ ہے جو سوچتی ہے کہ ایمپائر اتنا بے ایمان نہیں ہوسکتا۔ اس کے بارے میں جو دعوے کئے جا رہے ہیں وہ 25 جولائی کو غلط بھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ ایک بار یہ پچیس جولائی گزر گئی اور ایمپائر کو ایج دینے والوں نے یہ دیکھ لیا کہ ایمپائر تو واقعی ویسا ہی کر گیا جیسا کہا جا رہا تھا تو یہ بھی پہلی بار پکار اٹھیں گے کہ ’’ووٹ کو عزت دو‘‘ پھر ایمپائر ہوگا عوام ہوں گے اور رقص میں سارا جوبن ہوگا۔ سو آج کا دن بے پناہ اہمیت کا حامل ہے۔ ووٹ کے لئے ضرور نکلئے۔ کیونکہ آج صرف عوامی نمائندے نہیں چنے جانے بلکہ یہ بھی طے ہونا ہے کہ مرضی عوام کی چلے گی یا ایمپائر کی ؟ ایمپائر کو کٹھ پتلیاں درکار ہیں اور عوام کو عوامی نمائندے !

رعایت اللہ فاروقی
رعایت اللہ فاروقی
محترم رعایت اللہ فاروقی معروف تجزیہ نگار اور کالم نگار ہیں۔ آپ سوشل میڈیا کے ٹاپ ٹین بلاگرز میں سے ہیں۔ تحریر کے زریعے نوجوان نسل کی اصلاح کا جذبہ آپکی تحاریر کو مزید دلچسپ بنا دیتا ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *