ڈنڈا بردار فوجی اور فتویٰ بردار مولوی۔۔۔۔ شیخ ابن فخر الدین

کبھی کبھی سوچتا ہوں ان دونوں میں کتنی قدریں حیران کن حد تک مشترک(similar) ہیں.

1۔دونوں ہی خود کو عقلِ کل سمجھتے ہیں،لہذا دونوں کے یہاں اختلافِ رائے نام کا کوئی لفظ ڈکشنری میں سرے سے exist ہی نہیں کرتا.”گویامستندہےبس ان کا فرمایا ہوا”

2۔دونوں ہی خود کو ہر تنقید سے بالاتر اور مستثنیٰ قرار دیتے ہیں۔ اور خود ان کی ذات اقدس پر تنقید کو ملک اور مذھب پر تنقید باور کرواتے ہیں تاکہ لوگ اس pressure میں ان پر تنقید ہی نہ کرسکیں اور اپنی دانست میں خود کو خدا نہیں تو کم سے کم فرشتہ تو ضرور ہی سمجھتے ہیں۔۔۔۔۔لہجہ پھر بھی خدائی ہی ہوتا ہے۔

3۔اگر خدا نخواستہ کوئی مائی کا لعل ان پر تنقید کی جرات کر ہی لے تو جھٹ ایک طرف سے غداری کے سرٹیفیکیٹ اور دوسری طرف سے کفر کے فتووں کی بوچھاڑ ہو جاتی ہے۔ پھر یا تو اگلا اٹھا لیا جاتا ہے یا دنیا سے ہی اٹھ جاتا ہے۔

4۔مزے کی بات یہ ہے دونوں کا طریقہ واردات بھی ایک ہی ہے۔۔۔لوگوں کے جذبات سے کھیل کر manipulate کرنا اور اپنے ذاتی مفاد یا opinion کو زبردستی لوگوں پر تھوپنا جو نا مانے تو ایک طرف وہ ملک و قوم کا  وفادار نہیں اور دوسری جانب مذھب سے  بغاوت کرنے والا قرار دیا جائے۔۔۔۔
اس طرح لوگوں پر انتہائی شاطر انداز میں خوف کی فضا مسلط کر کے اپنی بالا دستی قائم رکھنا۔

5۔ ہر ایک کو نہایت بھونڈے انداز میں یہ باور کروانا کہ ملک یا مذھب کے لئے سب سے ذیادہ قربانیاں ہم نے ہی دی ہیں تم تو بدبخت ہمارے آگے چنے بیچتے ہو۔۔۔۔۔
ان کا بس چلے تو یہ تک کہ دیں کہ  ہم نے  صحابہ کے ساتھ مل کر پاکستان آزاد کروایا تم کہاں تھے اس وقت  بلڈی سویلین؟؟
اب آپ ذرہ اس انسان کی مظلومیت کا اندازہ لگائیں کہ جو ان دونوں وارداتی mind set سے بیک وقت نبرد آزماں ہو۔
خدارا خود میں کچھ شعور پیدا کریں۔۔۔اور پہچانیں ان کے طریقہِ واردات کو مزاہمت نہیں کرسکتے تو کم سے کم ان کے آلہ کار تو نہ بنیں۔
(نوٹ:کسی راہ چلتے تیس مار خاں کو اس بات کا حق قطعاً نہیں ہے کہ میری مذھب اور ملک و ملت سے محبت کو اپنے پیمانوں پر پرکھے،میں اپنی ذات میں محب وطن پاکستانی ہوں اور اور ببانگ دھل ایک  مذھبی مولوی بھی ہوں مگر اس کے لیے مجھے کسی سے سرٹیفکیٹ لینے کی کوئی ضرورت , نہ ہی وضاحتیں دینے کی بعینہ یہی معاملہ آپ کا بھی ہے اگر آپ اس کا شعور رکھتے ہیں تو)

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *