• صفحہ اول
  • /
  • گوشہ ہند
  • /
  • ڈراؤنی زبان،لکڑ بگھا کی ہنسی اور ہجومی تشدد۔۔۔۔۔مشرف عالم ذوقی

ڈراؤنی زبان،لکڑ بگھا کی ہنسی اور ہجومی تشدد۔۔۔۔۔مشرف عالم ذوقی

میں راہول گاندھی سے مایوس نہیں ہوں .اور یہ بھی صحیح ہے کہ اس وقت ملک کی سلامتی اور تحفظ کے لئے کسی کے پاس بھی کوئی  آپشن نہیں ہے .کوئی  ضروری نہیں کہ راہول کی کانگریس وہی ہو جو اندرا گاندھی یا راجیو گاندھی کی رہی ہے .کچھ تبدیلی سونیا گاندھی کے وقت بھی آئی مگر سونیا ،کرپشن کے بھوت پر قابو نہیں رکھ سکیں . راہول کا زیادہ واسطہ مذہب سے نہیں ہے .یہ اور بات ہے کہ سیاست میں دھرم مسلط کیا جاتا ہے .اس طرح جب ہم راہول کو مندر میں یا پوجا کرتے ہوئے دیکھتے ہیں تو ایک اناڑی شخص کا  امیج سامنے آتاہے . راہول کی تعلیم بھی آکسفورڈ میں ہوئی .اس لئے سوچا جا سکتا ہے کہ راہول کی طبیعت میں فرقہ پرستی یا مسلمانوں کے لئے نفرت نہیں ہوگی .کئی  مواقع ایسے آئے  جب راہول نے حاضر جوابی اور بہترین سیاست دان ہونے کا ثبوت بھی دیا ہے .عدم اعتماد کی ووٹنگ کے موقع پر راہول کی تقریر نے مودی کے چار برسوں کی سیاست پر جس موثر اور سدھے ہوئے انداز میں حملہ کیا ، وہ کسی اور کے بس کی بات نہیں تھی ..

حملہ مودی کی حکومت پر تھا لیکن نشانے پر غریب ملک بھی تھا .ملک جو ان چار برسوں میں بھکاری ہو گیا .روزگار نہیں .نوکری نہیں .پیسے نہیں .ہزاروں ہزار کروڑ کے گھوٹالے .کسانوں کی خود کشی ، ہجومی تشدد ۔۔۔راہول  اس دن جذباتی بن کر نہیں گرجے بلکہ ثبوت اور دلیلوں سے لیس ہو کر مودی حکومت کی ناکامیاں گنواتے رہے ،ہاؤس  میں ہر کوئی  راہول کی بات سنجیدگی اور گہرائی  سے سن رہا تھا ..یہ پپو نہیں تھا ، راہول نے ، ایک نئے  سیاست داں کے طور پر اوتار لیا تھا . اور وہ لوگ یا میڈیا ، جو راہول کو پپو کے نام سے یاد کرتے ہیں ، اس دن یقینی طور پر انھیں خود پر شرم آئی ہوگی .اب ذرا پپو کی وضاحت ہو جائے . یہ نام راہول  کو میڈیا نے دیا ، آر ایس ایس کی ساٹھ ہزار سے زیادہ شاخوں نے دیا ، بی جے پی نے دیا یا جس نے بھی دیا ، وہ سونیا کے اعتماد اور راہول کے مضبوط وجود سے خوفزدہ ہیں ۔۔۔۔

زیادہ دن نہیں گزرے ، دس برس شاید ، انڈیا ٹوڈے نے راہول کی تصویر سرورق پر شائع کی تھی اور راہول  کو ہندوستان کا مستقبل کہا تھا .مودی حکومت کے چار برسوں میں انڈین پریس کا ٩٩ فی صد مودی کا غلام بن گیا .،انڈیا توڈے بھی .ان کا چینل آج تک بھی ، میڈیا ، مودی ،امت شاہ بھی اس بات سے واقف ہیں کہ راہول کی معصومیت ، تجربہ،انکی شخصیت کا جادو اگر عوام پر چل گیا تو پھر مودی کی نفرت اور فرقہ واریت کی آندھی بھی  راہول کی آندھی میں اڑ جائےگی ۔۔۔لیکن میڈیا اور مودی یہ بھول گئے کہ راہول کے ساتھ ساتھ مودی کو بھی ایک نام دیا گیا ۔۔پھیکو !جملے پھینکنے  والا پھیکو۔۔.یہ نام اس طرح مقبول ہوا کہ پوری پارٹی پھیکو بن گئی ۔۔

پپو کا مطلب غیر تعلیم یافتہ لیکن یہ پپو آکسفورڈ کا پڑھا ہوا ہے اور پھیکو کی ڈگری کا راز اب بھی راز  ہی ہے ۔پھیکو عام بول چال کی زبان میں ایک مذاق بن گیا،.مودی نے اس دوران سفر ہی سفر کیے ،پوچھا گیا کہ پھیکو اپنے ملک میں کب ہوتا ہے ؟ پندرہ لاکھ کی رقم سے لے کر وکاس کا نعرہ سب کچھ پھیکو کا سبز باغ تھا ،جس پر اب مودی کے بھکت بھی بھروسہ کرنے کو تیار نہیں .پپو پر پھیکو کو زیادہ مقبولیت ملی اور وہ دن آ گیا جب کانگریس مکت بھارت کا نعرہ تو خالی گیا لیکن ممتا بنرجی نے بی جے پی مکت بھارت کا نعرہ دے کر صاف کر دیا کہ مودی سے ملک کو خطرہ ہے .یہاں تک کہ ممتا نے مودی کے ہندو ہونے اور راشٹر بھکتی کو بھی نشانے پر لیا کہ ہندو ترشول لے کر ہتیا نہیں کرتے .

٢٠١٩ میں کیا ہوگا ؟ سوچتا ہوں تو لکڑ بگھے کی ہنسی یاد آتی ہے۔۔.وہی لکڑ بگھا جو بچوں کا دشمن ہے .یہاں تک کہ شیر کے بچوں کا گوشت بھی اسکو مرغوب ہے ،وہی لکڑ بگھا ، رات کے سناٹے میں جسکے ہنسنے کی آواز آسیبی آواز کی طرح آپکو خوفزدہ کر سکتی ہے ، وہی لکڑ بگھا جسے بہت پیارے ، اردو کے مایہ ناز افسانہ نگار سید محمد اشرف نے اپنی کہانی کا موضوع بنایا تو یہ کہانی شہرہ آفاق ثابت ہوئی ،لکڑ بگھے اکثر غول میں حملہ کرتے ہیں ،ڈرپوک بھی ہوتے ہیں ، ذرا سی آہٹ پا کر جنگل میں بھاگ جاتے ہیں ،یہ لکڑ بگھے ان دنوں ہمارے درمیان ہیں اور باضابطہ انکا خیال رکھا جاتا ہے .یہ اخلاق کو دبوچتے ہیں ، کبھی پہلو خان کو کبھی اکبر کو ہلاک کرتے ہیں ۔کبھی سوامی اگنویش کو نشانہ بناتے ہیں کبھی میڈیا چینل کی ڈیبیٹ میں کسی مفتی پر ہاتھ اٹھانے کا ڈرامہ کرتے ہیں،.کبھی سوشل میڈیا پر وائرل ہوتے ہیں کہ ہندوستان کے تمام ملّاؤں کو ختم کر دینگے اور سیاسی لکڑ بگھوں کا غول ان پر کوئی  ایکشن نہیں لیتا بلکہ انکی پیٹھ تھپتھپانے کا کام کرتا ہے۔

ان لکڑ بگھوں کی پرورش ہماری سیاست کے ناسور کر رہے ہیں ..کبھی یشونت سنہا کے بیٹے کبھی بہار کا سرغنہ گری راج ، حد یہ ہے کہ ایسے ہی ایک لکڑ بگھے نے کچھ مہینے پہلے ایک مسلمان کو ہلاک کیا ، جلایا ، ویڈیو بنایا اور وائرل کر دیا۔.لکڑ بگھے کی ہنسی اس خوفناک سیاسی جنگل سے ہو کر ہم تک پہنچ رہی ہے ۔اس ہنسی کو ہم نے اس دن بھی دیکھا تھا جب عدم اعتماد کو لے کر ووٹنگ ہوئی تھی ،ہم اس ہنسی کی آواز اکثر سنتے ہیں ۔۔۔غور کریں تو یہ ہنسی آپکو گمراہ کرتی ہے ،سوالوں سے فرار حاصل کرتی ہے ،کیونکہ سیاست کی کھلی ہوئی ، دادا گیری کا کوئی  جواب ممکن نہیں ، ملکی خزانے کی لوٹ کا کوئی  جواب ممکن نہیں .ہجومی تشدد کا کیا جواب ہو سکتا ہے ؟ دلت ،مسلمان ، عیسائی  کی ہلاکت ، بلکہ ہلاکت کے نہ ختم ہونے والے سلسلے کا کیا جواب ہو سکتا ہے ؟اور جب کوئی  جواب نہیں ، تب یہ ہوگا کہ سامنے والے چیمپین کو پپو کہا جائےگا۔۔۔

تب اس بے وجہ کی بات کو آپ پر مسلط کیا جاےگا کہ کانگریس ، بی جے پی کا ہی دوسرا نام ہے .سارے کانگریسی ، آر ایس ایس سے تعلق رکھتے ہیں ۔۔۔ایک سوال کا جواب دیجیے ، کیا کانگریس کے دور اقتدار میں مسلمانوں کی یہی حالت تھی. جو اب ہے ؟

نہیں صاحب ..فرقہ وارانہ فسادات کے باوجود کبھی مسلمانوں نے خود کو دوسرے درجے کا شہری نہیں سمجھا .کالر اٹھا کر مسلمان بھی چلتے رہے ..کبھی اس طرح لکڑ بگھوں کے غول ان پر حملہ نہیں کرتے تھے ..میڈیا کے لکڑ بگھے کھلے عام انکو ننگا نہیں کرتے تھے ..

لکڑ بگھوں کے ہنسنے کی آواز پر توجہ دیجئے ،ان لکڑ بگھوں کو پھیلنے سے روکیے ،یہ لکڑ بگھے خوفناک درندے ہیں .اپنی تہذیب ،اپنی شناخت اور ملک کی سالمیت چاہتے ہیں تو پپو کے سو گناہوں کو معاف کر ، آپکو راہول کے ساتھ ہونا پڑے گا ۔۔اور یاد رکھیے ،راہول   کے ساتھ ممتا بھی ہیں ، تیجسوی یادو بھی ، اکھلیش بھی ، مایاوتی بھی ، اور یہ کارواں بڑھتا جا رہا ہے اور ابھی ہمارے پاس زندہ رہنے کے لئے کوئی  متبادل نہیں ہے!

گوشہ ہند
گوشہ ہند
ہند کے اردو دان دوست آپ کیلیے

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *