• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • جو تیری خاطر تڑپے، پہلے سے ہی،کیا اسے تڑپانا۔۔۔ محمد علی جعفری

جو تیری خاطر تڑپے، پہلے سے ہی،کیا اسے تڑپانا۔۔۔ محمد علی جعفری

آج ایک اور سیاسی رہنما پرلوک سدھارے، شہادت کے رتبہ علیا پر فائز ہوئے، قربانی رنگ لائی، خون سے انقلاب آئے گا، قوم کو نیا ولولہ ملے گا۔۔۔۔۔۔۔اور سب سے پہلے خبر پہچانے والوں کو مسالہ۔۔۔۔۔۔برا سودا تو نہیں ہے؟

راج کی سنگھاسن بتیسی کے کھانے والے دانت اور ،دکھانے کے اور۔

کچھ مزیدار اصطلاحات ڈسکس کرتے ہیں۔۔
اسٹیٹس کوو: اصالتا اس کا معنی ہے کہ جو ہے جہاں ہے کی بنیاد، یعنی جیسے نظام چلا رہا ہے ہے،چلنے دیجے۔ ڈبل اے استاد۔

الیکٹیبلز/ہارس ٹریڈنگ:سلیش کے ساتھ مترادف لکھ دیا ہے،مطلب یہ ہے کہ نمائندے کی وہ طاقت جس کے ذریعے وہ ایوان میں با آسانی جا سکتا ہے،
اس کی آمد و رفت نہ پابند ِ  لے ہے، نہ پابندِ نے!!
ہارس ٹریڈنگ ایک جماعت کا ایوان مین رکن ہونے کے باوجود قوم اور اپنے خاندان کے وسیع تر مفاد میں پارٹی بدل لینا اور دوسری بینڈ ویگن میں شامل ہوکر سابقہ پارٹی کا بینڈ باجا بارات اور جلوس نکالنا!

لیول پلیئنگ فیلڈ: تمام مقابلے میں شامل افراد کو یکساں مواقع دینا اور ان کی مہم کے دوران انہیں ملنگوں کی طرح نہ چھیڑنا اس بات کا تعین کرتا ہے کہ کوئی ظلم زیادتی نہیں ہوئی، پچھلے الیکشن میں اے این پی، پی پی پی اور کچھ کچھ  ایم کیو ایم لذت گریہ سے ایسے محروم رہے اور شکوہ کناں نظر آئے کہ بس منظور نظر ہی اپنے دن پھیر رہے ہیں اور بقول جالب۔۔
پاؤں ننگے ہیں بے نظیروں کے۔

ضمانت ضبط:یہ شیخ رشید کا پائے کی طرح مرغوب ترین جملہ ہے، ہوتا یہ ہے کہ ایک حلقے سے ہر امیدوار زر ضمانت کے طور پر کچھ رقم رکھواتا ہے(مثلا 14ً ہزار) اور اگر اسے 12فیصد ووٹ نہ پڑیں تو سر منڈواتے   ہی اولے پڑجاتے ہیں اور وہ پیسہ تو ضبط شدہ سمجھا جاوے ہے۔

ویسے کروڑہا روپے کی ٹی وی فنڈنگ کے بارے میں جنگل میں مور ناچا کس نے دیکھا؟ کیونکہ ایک امیدوار کو 30 لاکھ سے زائد  خرچہ کرنے کی اجازت نہیں ہے چاہے کوئی کتنی ہی گرم نظروں سے دیکھ لے۔

جوڈیشل ایکٹیوزم: جب عدالت میں تقریباً 18 لاکھ مقدمات زیر التوا ہوں اور عدالت دیگر امور کی جانب التفات رکھے بجز عدل گستری!

سلیکٹو جسٹس: حامدمیر نے کہا کہ عدالت جب 11 بجے فیصلہ سنائے تو انصاف کے 12 بج جاتے ہیں۔راؤ  انوار اینڈ کمپنی و دیگر کا احوال دیکھیں اور بقول اقبال
رہرو درماندہ کی منزل سے بیزاری بھی دیکھ۔۔

تبدیلی: وہ تو آکر،چائے پی کر چلی گئی ہے، آج ہی عمران اسماعیل کو سنا، گلے میں آٹو ٹیون اور مہاتما /بھگوان سب بولتے ہیں،
جسے پیا چاہے وہی سہاگن
اور بقیہ،اجڑا آنگن!!

میرے شہر جل رہے ہیں، میرے لوگ مر رہے ہیں،
ان کی حفاظت کر لیجیے  خدارا! مجھے اپنی فوج اور اداروں پر یقین محکم ہے ۔

لیکن اس میں کوئی کانسپیریسی تھیوری نہیں ہے،
موضوع آؤٹ آف کانٹیکسٹ نہیں ہے،
ہمیں اور نہ تڑپایا جائے،
تھوڑا سا آسمان دے دیں، تاکہ اس پر کم از کم تھوک ہی سکیں،

کسی بھی سطح پر بے قاعدگی ہو تو اس کا حل صرف انظباطی کارروائی اور سختی نمٹنا ہے،
پھر چاہے وہ سکیورٹی بریچ ہو، یا وطن عزیز میں کسی کی بھی کرپشن۔
اتنی دفعہ عزم کا اعادہ بغیر عمل و افادہ بالکل ایسے ہی ہے جیسے ریس شروع کرنے کی بجائے آپ ریس دے دے کر سارا فیول اڑادیں اور ماحول دھواں دھواں ہوجائے۔

ہمیں ملک اور اس کے سارے ادارے عزیز از جان ہیں،معاملات کو مفاہمت سے حل کیجیے  ورنہ ہوگا وہی۔۔۔

تیرا قصور، اورظالما میں کہلائی!

محمد علی
محمد علی
علم کو خونِ رگِِِ جاں بنانا چاہتاہوں اور آسمان اوڑھ کے سوتا ہوں ماسٹرز کر رہا ہوں قانون میں اور خونچکاں خامہ فرسا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *