علم کی انتہا ہے خاموشی/عزیر احمد

ہندوستانی مسلمان الحمد للہ بہت میچیور ہوچکے ہیں، وہ اس بات کو سمجھ چکے ہیں کہ اگر ہندوستان میں امن و امان کے ساتھ رہنا اور پھلنا پھولنا ہے تو انہیں “آتم نربھر” بننا ہوگا، بات بے بات پر اپنی پرتیکریائیں دینے سے باز آنی ہوں گی، حالات نے انہیں یہ بھی سکھا دیا کہ منفی پبلسٹی بھی بالآخر پبلسٹی ہی ہے۔

پہلے مجھے مسلمانوں کی خاموشی بہت کھلتی تھی، اسے میں بے حسی گردانتا تھا، لیکن اب جب پلٹ کر دیکھتا ہوں تو لگتا ہے کہ سب سے بہترین پالیسی تو وہی ہے، کتے بھونکتے رہتے ہیں قافلہ چلتا رہتا ہے، ان کے بھونکنے پر قافلہ پلٹ کر ان پر نہیں بھونکنے لگ جاتا ہے، اب اس سے یہ نہ سمجھا جائے کہ میں جمہوری ملک میں مسلمانوں کے کسی بھی قسم کے احتجاج کے خلاف ہوگیا ہوں، نہیں بالکل نہیں، معاملہ سی۔اے، اور این۔آر۔سی جیسا ہو تو قانونی لڑائی کے ساتھ ساتھ عوامی لڑائی بھی ضروری ہے۔

یہاں بات ان لوگوں کی ہورہی ہے جو نفرت کے کاروبار کو بزنس بنائے ہوئے ہیں، چاہے وہ میڈیا ہو، پرنٹ میڈیا، یا پھر فلم انڈسٹری، ہندوستان میں فلم انڈسٹری سب سے سیکولر اور لبرل خیالات کی حامل مانی جاتی رہی ہے، لیکن 2014 کے بعد جب ملک کے ہر ادارے پر بھگوا لابی حاوی ہوئی تو اس کا اثر یہاں پر بھی دیکھنے کو ملا، حالانکہ پہلے بھی پروپیگنڈہ پر مبنی فلمیں بنتی رہی ہیں، لیکن اس کا ایک بیس لائن تھا، اور وہ اس وقت کے حالات کے اعتبار سے گلوبل نیریٹیو پر مبنی تھا، اچھا مسلمان بمقابلہ برا مسلمان، برے مسلمان کو داڑھی، ٹوپی، کرتا، آنکھوں میں سرما اور نام نہاد مقصد کے نام پر پیش کیا جاتا تھا، اچھا مسلمان پولیس کا کوئی کلین شیو افسر ہوتا جو برے مسلمان کو سکھا رہا ہوں کہ حقیقی اسلام کسے کہتے ہیں، سو یہ ساری چیزیں پہلے بھی ہوتی تھیں بس اسے اسلاموفوبیا نہیں گردانا جاتا تھا۔

ہاں 2014 کے بعد باندھ ٹوٹ گیا، بہت ساری ایسی فلمیں وجود میں آئیں جن کا بنیادی مقصد ہی مسلمانوں کے امیج کو تباہ کرنا اور اکثریتی طبقہ کے ذہنوں میں ان کے خلاف نفرت کو راسخ کرنا تھا، جن میں قابل ذکر کشمیر فائلز اور کیرلا اسٹوری ہیں، ان دونوں فلموں نے اکیلے جتنا سماجی تانے بانے کو نقصان پہنچایا اتنا شاید ہی کسی فلم نے کیا ہو، پہلی فلم نے بدترین تاریخ سازی کی، وہیں دوسری فلم نے پورے کیرلا کے مسلمانوں کو کٹہرے میں کھڑا کیا، اگر کوئی ریسرچر ان دونوں فلموں کی کامیابی کا تجزیہ کرے گا تو مختلف وجوہات کے ساتھ ساتھ اس میں تھوڑا بہت رول مسلمانوں کا بھی نظر آئے گا جنہوں نے اس فلم کے مختلف پورشن کے کٹ آؤٹ نکالے، اور اسے اپنی اپنی دیوار گریہ پر چسپاں کیا، اس کے خلاف نیگیٹیو پبلسٹی کی، نتیجہ یہ ہوا کہ آڈینس بھاگ بھاگ کر تھیٹر گئی محض یہ پتہ کرنے کے لئے کہ ایسا کیا ہے کہ مسلمان اس فلم کو برا بتلا رہے ہیں۔

یہ دونوں فلمیں بنیادی طور پر مسلمانوں سے نفرت پر مبنی تھیں، اور اسی نفرت کو ایموشنل اپیل میں تبدیل کرکے ڈائریکٹروں نے سینکڑوں کروڑ کمائے، پھر ان کے بعد جیسے پروپیگنڈہ فلموں اور او ٹی ٹی سیریز کی جھڑی لگ گئی، حالانکہ خود انہیں دونوں ڈائریکٹروں کی بنائی گئی دو فلمیں اس کے بعد بری طرح سے فلاپ ثابت ہوئیں جس میں وویک اگنی ہوتری کی “دی ویکسین وار” اور سودیپتو سین کی “بستر، دی نکسل اسٹوری” شامل ہیں، ان دونوں فلموں میں یہ بیچارے کوئی مسلمان اینگل نہیں نکال پائے، اس لئے نہ ان کی نیگیٹو پبلسٹی ہوسکی، اور نہ ہی یہ لوگ ایک مخصوص آڈینس کو ٹارگٹ کر سکے۔

حال ہی میں “بہتر حوریں” اور “رضاکار” جیسی واہیات فلمیں بھی آئیں، لیکن دونوں باکس آفس پر بری طرح پٹیں، 72 حوریں جیسا کہ نام ہی سے  واضح ہے کہ کس موضوع پر ہے، اس میں وہی گھسا پٹا راگ الاپا گیا ہے کہ کس طرح اسلام مسلمانوں کو مابعد موت بہتر حوروں کے ساتھ ایک ہوس بھری زندگی کا لالچ دے کر انتہا پسند اور متشدد بناتا ہے، دوسری فلم “سقوط حیدرآباد” اور “نظام” کے “رضاکاروں” کے کردار پر مبنی فلم ہے، دونوں فلمیں مقتدرہ اور آئی ٹی سیل کے زبردست حمایت کے باوجود بھی آڈینس کو تھیٹر میں کھینچ کر لانے میں ناکام رہیں، ممکن ہے کہ آڈینس وہی بار بار اسلاموفوبیا پر مبنی کانٹنٹ کنزیوم کر کر کے تھوڑی بہت بیزار ہوچکی ہو، حالیہ پروپیگنڈہ فلموں کا یہ حشر دیکھ کر ہی شاید “JNU یعنی جہانگیر نیشنل یونیورسٹی” کے میکرز نے اپنی فلم کا ریلیز ڈیٹ چینج کردیا، یہ فلم حقیقتا جے۔این۔یو اور اس کے واقعات کے اردگرد گھومتی ہے، پیوش مشرا جیسے قابل لوگوں کو اس جیسی فلموں کا حصہ بنتے ہوئے دیکھنا افسوسناک ہے۔

Advertisements
julia rana solicitors

اسی لائن کی ایک فلم “ہم دو ہمارے بارہ” بھی ہے، جس میں تعدد ازواج اور زیادہ بچے پیدا کرنے کو موضوع گفتگو بنایا گیا ہے، میں اس فلم کا تذکرہ نہیں کرنا چاہتا تھا، کیونکہ وہی ہے کہ نیگٹیو پبلسٹی بھی بالآخر پبلسٹی ہی  ہے، لیکن ہمارے بعض احباب اس بات پر مصر ہیں کہ ان کے خلاف کاروائی ہونی چاہئے، یا ان کے خلاف مہم چلانا چاہیے کہ وغیرہ وغیرہ اس لئے یہاں پر تذکرہ کیا جارہا ہے، انو کپور عرصہ دراز سے لائم لائٹ سے دور ہے، 2014 کے بعد جن لوگوں نے رنگ بدلے ہیں اس میں سے ایک یہ بھی ہے، لیکن اسے ایسا کچھ خاص مل نہیں مل رہا تھا جس کے ذریعہ وہ مقتدرہ کی آنکھ میں اپنی اہمیت بڑھا سکے، اس لئے سوچا ہوگا کہ یہ بھی ٹرائی کرکے دیکھتے ہیں، بہرحال ان جیسی فلموں کو بے اثر کرنے کا سب سے صحیح طریقہ وہی ہے کہ سوشل میڈیا خصوصا ایکس (ٹیوٹر) پر اس تعلق سے بات ہی نہ کی جائے، نہ کوئی پرتیکریہ دی جائے، شاید اس وقت کی بہترین پالیسی مسلمانوں کا “موٹی چمڑی” کا ہی ہوجانا ہے کہ تم گالیاں دو، دن رات  شہر اُگلو، ہمیں اور ہماری صحت پر کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔

Facebook Comments

مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

Leave a Reply