سنڈریلا۔۔۔۔ فوزیہ قریشی

یہ دوسری دفعہ کا ذکر ہے ۔ “کہتے ہیں اسی دور میں ایک شہزادی تھی جس کا نام تو ملیحہ تھا لیکن اس کی بچپن کی دوست اسے سنڈریلا بلاتی تھی کیونکہ اس کے حالات بلاکل سنڈریلا والے تھے.”
وہ اکثرسوچتی کہاں میں اور کہاں وہ ؟
“بیچاری ملیحہ سارا دن اپنی سوتیلی ماں اور بہن بھایئوں کی خدمت میں گزار دیتی۔ زندگی اسی درد اور تکلیف کے عالم میں گزر رہی تھی کہ ایک دن اس کی دوست نے اسے اپنا ایک پرانا فون دیا اور کہا کہ اس نے سنڈریلا کے نام سے فیس بک پر اس کے لئے ا یک آئی ڈی بنائی ہے. تاکہ وہ جان سکے اس گھر سے باہر بھی ایک دنیا ہے جو چاند پر کب کی پہنچ چکی ہے۔ بلکہ کافی چن بھی چڑھا چکی ہے اور وہ آج بھی پرانی ہوکے بھرتی فلمی ہیروئن کی طرح دمے کی مریضہ دکھائی دیتی ہے جو سوتیلی ماں کے ظلم برداشت کر رہی ہے اور کسی شہری بابو کی منتظر ہے۔”
وہ شہزادی کو بتاتی ہے کہ اس نے ایک ماہ کا بیلنس ڈال دیا ہے لیکن باقی بیلنس اسےکوئی نہ کوئی اللہ کا بندہ، فیس بک ٹھرکی یا کبڑا عاشق ڈالوا دے گا۔
بس اسے ایک میسج کرنا ہوگا کہ اس کا ایکسیڈنٹ ہوگیا ہے اور اس کے پاس گھر والوں کو فون کرنے کا بیلنس نہیں ہے۔ اسے یہ بھی یقین دلانا ہوگا کہ وہ اس وقت ہسپتال کے بیڈ پر ہے۔ ان میسجز کے بعد بیلنس ختم ہو جائے گا۔۔۔۔۔۔
بہتر ہے تم وقت ضائع کئے اور نخرے دکھائے بغیر اس کو استعمال کرو۔
پہلے پہل تو اس نے منع کیا اور بہانے بنائے کہ کسی کو پتا چل جائے گا تو کیا کروں گی۔۔جس پر دوست بولی ۔۔نہیں پتا چلتا تم سنڈریلا کے نام سے آن لائن ہوگی ۔کوئی نہیں جان پائے گا،تمہارا گھر کہاں ہے؟ تم کہاں رہتی ہو؟
میں نے آئی ڈی کی ساری  تفصیل سنڈریلا کے حوالے سے بنائی ہیں۔ اور ویسے بھی تم نہیں جانتی فیس بک پر ہر چہرے کے پیچھے ایک چہرہ ہے۔ وہ ایسا گلوبل ویلیج ہے۔ جس پر کوئی کسی کو نہیں پہچان سکتا۔۔ وہاں کتنے ہی اللہ دتے، رشیداں اور بشیراں ، پرنس اور پرنسز کے نام سے لاگ آن ہوتے ہیں ۔ کہیں پر کوئی تنہائی پسند ہے، تو کہیں کوئی دکھی آتما، کہیں پر بابا کی رانی ہے تو کہیں بابا کی پرنسز، کہیں باربی ڈول ہے تو کہیں نٹ کھٹ حسینہ۔ بھرمار ہے فیس بک پراور کوئی پوچھنے والا بھی نہیں ان کو ۔ بس ڈی پی اچھی ہونی چاہیے  جس سے تمہاری پسند نا پسند کا اندازہ لگایا جائے گا۔ اور ہاں سٹیٹس ذرا زور دار لگانا۔ ہو سکے تو اردو اور انگریزی ادب کا رعب ڈالنا۔
بس شروع کے چار دن عجیب لگیں گے پھر دیکھنا کیسے فرینڈ ریکویسٹس آئیں گی۔ اور تو اور کٹے سر والی ڈی پی بھی چلے گی بس پہلے اپنا ایک مقام بنا لینا اور ہاں جو بھی ریکویسٹ بھیجے قبول کر لینا اور کوئی بڑی آسامی نظر آئے تو خود بھی ریکویسٹ بھیج دینا ۔۔۔۔سب چلتا ہے فیک لوگ، فیک دنیا کے پجاری ،سچ اورحالات سے فرار کے متلاشی، کتنے ہی پرنس اور پرنسز ملیں گے۔ چند ہی اصل چہرے ہیں۔
” اس لئے زیادہ مت سوچو۔”
اک رات جب نیند کوسوں دور تھی وہ دوست کے بتائے ہوئے طریقے پر آن لائن ہوئی۔ لاگ آن کرنے کی د یر تھی اب وہ ایک نئی چمکتی دنیا میں تھی ۔ بس پھر کیا تھا۔ وہ ہر رات آن لائن ہونے لگی۔ کچھ ہی دنوں میں وہ ہزاروں دوست اور فالورز میں رہنے لگی۔
“مزے مزے کے سٹیٹس لگاتی کبھی خوشی ، کبھی غم کے۔ اس کی ایک چھینک کے سٹیٹس پر بھی ڈھیروں لائکس اور کمنٹس ہوتے۔ بیماری کے سٹیٹس پردنیا بھر کے ڈاکٹرز یوں امڈ کر آتے جیسے سب کے سب فیس بک پر ہی پائے جاتے ہیں۔ ادبی سٹیٹس پر بڑے بڑے ادیب شاعر اپنی بڑائی کا  رعب کمنٹ میں اس پرجھاڑتے۔
لیکن آج تک کبھی کسی نے اس کو دیکھا نہیں تھا۔۔ بس سنڈریلا نام اور ڈی پی ہی اس کی پہچان تھی۔ اسے بھی یہ سب اچھا لگنے لگا اوروہ بھی ان چکا چوند روشنیوں کی عادی ہوگئی۔ اب وہ روز آن لائن ہوتی جس دن نہ ہو پاتی تو لگتا کچھ کمی سی ہے۔۔اس طرح مہینے گزر گئے۔ کتنے ہی شہزادے اس کے گھر رشتہ لے کر آنے کے لئے مچل رہے تھے لیکن کسی کے ہاتھ سنڈریلا کا جوتا نہیں لگ رہا تھا،جس کی بنیاد پر وہ اس کا پاؤں مانگ سکتے۔”
بس بس آگے مزید مت سوچیے۔۔ ایسا کچھ نہیں ہونے والا کیونکہ نہ تو وہ زمانہ ہے.جس میں ایک دفعہ کا ذکرہوتا تھا اور نہ ہی کوئی جوتے کی تلاش میں اس کے گھر تک آنے والا پرنس، اصل پرنس ہے۔۔ اس لئے کہانی ختم پیسہ ہضم ۔۔۔۔
نتیجہ : “ہر چمکنے والی چیز سونا نہیں ہوتی”۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *