گستاخ

اِنسانی معاشرت میں “رویہ اور لہجہ” کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ عدم برداشت ہی تعلقات میں تلخی پیدا کرتی ہے اور بڑوں کی شفقت کرداروں کے بنانے اور بگھاڑنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ دراصل، بڑوں کی شفقت ہی چھوٹوں میں ’ادب‘ پیدا کرتی ہے۔ پانچویں کلاس میں ریاضی کےا ستاد کے سوال کا جواب جب غلط نِکلا تو میں بے اختیار ہنس دِیا جِس پر مجھے ”گْستاخ“ کے نام سے نوازا گیا۔ کچھ دِن بعد اْستاد صاحِب کا کوئی جواب پھر غلط نِکلا اور مجھ سے دوبارہ وہی حرکت سرزد ہوئی تو تھپڑوں اور گھونسوں سے میرا ”گْستاخ نامہ“ پکا کِیا گیا۔ بس وہ دِن اور آج کا دِن۔۔۔ ھم گْستاخ ہی ٹھہرے۔
ہمارے گستاخ قرار پانے میں اْس فارمولے کا کلیدی کِردار ہے جِس کے غلط اِستعمال سے سوال کا جواب توقع کے مْطابق نہ آیا۔ ہم نے تھوڑی سی بہادری بھی دِکھائی اور آئنیہ دِکھانے کی اپنی سی کوشش بھی کی مگر ناکام رہے۔ دورِ حاضر میں کسی دوسرے کے آئینے میں اپنا آپ دیکھنا کسی کو بھی اچھا نہیں لگتا۔ لہٰذا ہمارا بھی آئینہ پاش پاش ہوا اور ہم اِقبال صاحِب کا شعر یاد آنے پر چْپ ہو رہے۔
تْو بچا بچا کے نہ رکھ اْسے، تیرا آئینہ ہے وہ آئینہ
کہ شِکستہ ہو تو عزیز تر ہے، نِگاہِ آئینہ ساز میں۔
عرصہ دراز سے آئینہ دِکھانے والوں کے ساتھ یہی کچھ ہوتا آ رہا ہے، کبھی گستاخ، بے ادب، بد تمیز جیسے القابات سے نوازا گیا اور کبھی کفر کے فتوے لگائےگئے۔اور آئینہ دِکھانے والوں پر عرصہ حیات تنگ کِیا جاتا رہا ،مگر باوجود اِن تمام مظالِم کے مْعاشرے کے اصلاح کاروں نے اپنا کام جاری رکھا۔ اِن اصلاح کاروں کے ہونٹ سِیے جا سکتے ہیں، زبانیں کاٹی جا سکتی ہیں، ا ِن کو پابندِ سلاسل کِیا جاسکتا ہے، تختہِ دار پہ چڑھایا جا سکتا ہے مگر اِن کے احساس پہ قابو نہیں پایا جا سکتا۔ اِن کے پائوں کی زنجیریں اِن کی سوچ کو نہیں کچل سکتی۔ تریاق کا پیالہ پِیا جا سکتا ہے مگر حق کے ساتھ کوئی ”ڈیل“ نہیں کی جا سکتی اور حق کے عَلمبرداروں کا یہی طْرہء اِمتیاز رہا ہے۔
جب چہروں سے اپنی ہی بدکاریوں اور حرام کاریوں کی نحوست ٹپک رہی ہو تو پھر آئینے کو توڑ دینے سے کیا حاصِل!خلیفۃالرسولؐ امیر المومنین حضرت عمر فاروقؓ کو جمعہ کے خطبے میں روک دِیا گیا اور اِحتساب کیا گیا کہ جناب ہم آپؓ کی بات بعد میں سنیں گے پہلے یہ بتائیے کہ آپؓ کے جسم پہ لِباس کہاں سے آیا؟اِس سوال پہ کسی کا سر نہیں پھوڑا گیا، کسی کو کوڑے نہیں مارے گئے، تفرقہ نہیں پھیلایا گیا، نہ کسی کو گستاخ گردانہ گیا اور نہ ہی سوال اْٹھانے والے پر کفر کے فتوے دِیے گئے!
حضرت عمر فاروقؓ کا قولِ مبارک ہے کہ ”اللہ اْس شخص پر رحمت نازل فرمائے جو مجھے میرے عیوب سے مطلع کرتا ہے“۔

طلال انور
طلال انور
میں طائرِ لاہوتی، میں جوہرِ ملکوتی

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست 0 تبصرے برائے تحریر ”گستاخ

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *