عملی بانجھ پن۔۔۔۔علی خان

ہمارے اردگرد رونما ہونے والے واقعات ہمیں مختلف طرح سے متاثر کرتے ہیں۔ آج کل ملک میں الیکشن کا سیزن ہے اور ہر طرف آپ کو گہما گہمی دکھائی دیتی ہے۔ ایک طرف امیدواروں کے وعدوں کا شور ہے اور دوسری طرف عام عوام کا ان پر الزامات کا۔ امیدواروں کے وعدے ہمیشہ سنہرے مستقبل کا بتاتے ہیں اور اپنے سابقہ نامکمل وعدوں کا بھار مخالف امیدوار کی ہڈدھرمی پر ڈالتے ہیں ۔ جبکہ حقیقت سے سب آگاہ ہیں۔۔

مسائل ساری دنیا کے انسانوں کو درپیش ہیں۔ کوئی بھی ایسا انسان نہیں جس کی زندگی بغیر تگ و دو کے گزرتی ہو ہاں سب کی مشقت کا پیمانہ ایک سا نہیں ہوتا۔ ہمارے معاشرے میں مسائل کا انبار لگا ہے اور معلوم ایسے ہوتا ہے جیسے  یہ حل ہونے کے ہی نہیں ۔ ہم یعنی عام عوام ان کا حل صرف حکومت سے چاہتی ہے اور خود ہاتھ پر ہاتھ دھرے مسیحا کے انتظار میں ہے۔ اسی مسیحا کے جس کی آس میں فلسطینیوں نے یہودیوں کو اپنی زمینیں بیچی اور آج تک اس مسیحا کی کوئی خبر نہیں ۔

اگر آپ دنیا کے ترقی یافتہ مملک کو دیکھیں تو آج سے چند سو سال پہلے وہ جہالت و غربت کی اتھاہ  گہرائیوں میں تھے لیکن ایسا کیا ہوا جس سے وہ آج وہاں پہنچ گئے کہ آج ہم سارے ان کی مثالیں دیتے ہیں اور اپنے بچوں کو ان کے پاس تعلیم کے لئے بھیجتے ہیں ۔ ہم بھی ان کی طرح  انسان ہیں اور ہمارے پاس بھی خدا کی زمین کے وہ سارے عناصر موجود ہیں جو کہ ان کے پاس ہیں۔ تو پھر یہ تضاد کیوں؟ اس سب کی بڑی بنیادی وجہ “عملی بانجھ پن” ہے۔ ہم عوامی نمائندوں اور حکومتی اراکین سے مطالبات تو کرتے ہیں لیکن اپنا عملی حصہ سرے سے ہی حذف کر دیتے ہیں۔

اگر آپ کے محلے میں کچرا جمع ہوتا ہے تو یہ آپ اور آپ کے محلے داروں کی نااہلی اور کاہلی ہے جو آپ کو اسے بروقت ٹھکانے لگانے کے بجائے گلی میں پھینکنے پر مجبور کرتی ہے۔ اگر آپ کو سرکاری دفاتر میں کام کے لئے رشوت دینی پڑتی ہے تو اس کا ذمہ دار جہاں حکومت ہے وہیں بطور عوام ہم بھی ہیں کیوں کہ  یہ عوام ہی ہے جو سرکاری عہدوں پر فائز ہے۔ سڑک پر ٹریفک کے قوانین کی  پابندی انفرادی ذمہ داری ہے۔ دوسروں سے خوش اخلاقی سے پیش آنا انفرادی ذمہ داری ہے۔ انفرادی سطح پر ہم اپنے بہت سے مسائل کا حل خود بغیر کسی ریاستی مدد کے   کر سکتے ہیں۔

ہمارے تعلیمی نظام سے پیدا ہونے والی نسل موجودہ فرسودہ نظام میں کھپنے کے لئے کلرک تو پیدا کر دیتی ہے لیکن ایک مکمل انسان جو کہ اپنی معاشرتی ذمہ داریوں سے آگاہ ہو یہ اس نظام کے بس میں نہیں۔ ایسی تعلیم صرف تربیت سے ہی ممکن ہے اور وہ صرف گھر سے شروع ہوتی ہے۔ آج کے اس مہنگائی کے دور میں جب سب کی توجہ اپنی معاشی ضروریات کو پورا کرنے میں ہی صرف ہوتی ہے وہاں بچوں کی تربیت پر مکمل توجہ دینا مشکل تو ہے لیکن ناممکن نہیں

ہمارے آس پاس چھوٹے مسائل ہم اپنی مدد آپ کے تحت بخوبی حل کر سکتے ہیں۔ قومیں اپنے ماضی سے سیکھ کر مستقبل کو سنوارتی ہیں۔ گو کہ ہم ان ممالک سے بہت پیچھے ہیں جو ہمارے بعد آزاد ہوئے ۔ لیکن انگریزی کا ایک محاورہ ہے Its never too late to do right thing ۔

ہم اپنے شان دار ماضی کو حسرت سے یاد کر  پابندی انفرادی ذمہ داری ہے۔ دوسروں سے خوش اخلاقی سے پیش آنا انفرادی ذمہ داری ہے۔ انفرادی سطح پر ہم اپنے بہت سے مسائل کا حل خود بغیر کسی ریاستی مدد کے بغیر کر سکتے ہیں۔

ہمارے تعلیمی نظام سے پیدا ہونے والی نسل موجودہ فرسودہ نظام میں کھپنے کے لئے کلرک تو پیدا کر دیتی ہے لیکن ایک مکمل انسان جو کہ اپنی معاشرتی ذمہ داریوں سے آگاہ ہو یہ اس نظام کے بس میں نہیں۔ ایسی تعلیم صرف تربیت سے ہی ممکن ہے اور وہ صرف گھر سے شروع ہوتی ہے۔ آج کے اس مہنگائی کے دور میں جب سب کی توجہ اپنی معاشی ضروریات کو پورا کرنے میں ہی صرف ہوتی ہے وہاں بچوں کی تربیت پر مکمل توجہ دینا مشکل تو ہے لیکن ناممکن نہیں

ہمارے آس پاس چھوٹے مسائل ہم اپنی مدد آپ کے تحت بخوبی حل کر سکتے ہیں۔ قومیں اپنے ماضی سے سیکھ کر مستقبل کو سنوارتی ہیں۔ گو کہ ہم ان ممالک سے بہت پیچھے ہیں جو ہمارے بعد آزاد ہوئے ۔ لیکن انگریزی کا ایک محاورہ ہے Its never too late to do right thing ۔ ہم اپنے شان دار ماضی کو حسرت سے یاد کر کے وقتی خوشی تو حاصل کر سکتے ہیں لیکن حقیقی ترقی صرف عمل میں پنہاں ہے

Ali Khan
Ali Khan
ہے جذبہ جنون تو ہمت نہ ہار ۔۔ حستجو جو کرے وہ چھوئے آسمان

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *