اقتدار جیل اور خون کے رشتے۔۔۔عامر عثمان عادل

 ابھی کچھ دیر قبل ٹی وی چینلز پر خواجہ آصف کی گفتگو کا ویڈیو کلپ دیکھا, ٹی وی اینکر کے جواب میں انہوں نے بتایا  کہ 13 جولائی  کو میاں نواز شریف کی لاہور آمد کے موقع پر نکالی گئی ریلی نے تو ائیر پورٹ تک جانا ہی نہیں تھا اس ریلی کا روٹ طے شدہ تھا اور اس نے صرف جوڑے پل تک جانا تھا اور اس بات کا فیصلہ دو دن قبل پارٹی اجلاس میں ہو چکا تھا، جس کی قیادت میاں شہباز شریف نے کی ۔آج صبح پاکستان کے موقر اخبار کے صفحہ اول پر ن لیگ کی قیادت کے ایک اجلاس کا اندرونی احوال چھپ چکا ہے جس کے مطابق میاں نواز شریف کے معتبر اور قریبی ساتھی پرویز رشید اینڈ کمپنی نے شدید احتجاج کیا کہ اگر ائیر پورٹ نہیں جانا تھا تو ہمیں کیوں  بے  خبر رکھا گیا ؟حکمت عملی سے ہمیں آگاہ کیوں نہیں کیا گیا ،شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا، میاں شہباز شریف کے ہم خیال ایک رہنما نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ریلی میں شریک لوگوں کی تعداد مایوس کن تھی ،اگر ائیر پورٹ جاتے تو زیادہ سبکی ہوتی ۔

باخبر ذرائع یہ بھی بتاتے ہیں کہ بڑے میاں صاحب اس بات پر خاصے دلبرداشتہ بھی ہیں اور خفا بھی کہ کال دینے کے باوجود ائیر پورٹ نہ پہنچ کر زیادتی کی گئی ہے اور اب میاں صاحب نے اپنی بیٹی مریم نواز کے داماد کو جیل بلوا کر الگ ملاقات کی ہے اور مشاہد اللہ جیسے بااعتماد لوگوں کی ڈیوٹی لگائی ہے کہ مجھے اصل صورتحال کی پل پل کی خبر دی جائے۔ کچھ سوال ہیں جن کے جواب تلاش کرنا ہوں گے ،گرفتاری کیلئے وطن واپسی کا فیصلہ ہونے کے بعد خود میاں محمد نواز شریف نے لاہور کو منزل قرار دیا اور ائرپورٹ پر اپنے متوالوں سے خطاب کی خواہش کا اظہار کیا ۔میاں محمد شہباز شریف نے بھی کارکنوں کو ائیر پورٹ پہنچنے کی کال دے دی ۔13 جولائی  کو پنجاب بھر میں پولیس اور ن لیگیوں کے مابین آنکھ مچولی جاری رہی ،میاں شہباز شریف مال روڈ پر گامزن رہے ۔کہا گیا کہ بڑے میاں صاحب لندن سے ابو ظہبی اور پھر کئی گھنٹوں کی تاخیر کے بعد لاہور  پہنچ  گئے ،لیکن شہباز شریف لوہاری سے ائر پورٹ تک نہ پہنچ پائے۔

ن لیگی قیادت اور خود چھوٹے میاں نے پریس کانفرنس میں نگران حکومت کے خوب لتے لئے کہ ہمارے کارکنوں کے راستے روکے گئے ،ہمیں ائیر پورٹ تک جانے نہیں دیا گیا، کچھ رہنماؤں نے توجیہہ پیش کی کہ کارکنوں کا جم غفیر اتنا تھا کہ ائیر پورٹ تک جانا ممکن ہی نہ تھا نگران حکومت پر تنقید کی گئی کہ کیا برا تھا اگر میاں نواز شریف ائیر پورٹ پر اپنے استقبال کیلئے آنے والے ہجوم سے خطاب کر لیتے لیکن اب خواجہ آصف کا بیان سن کر سوال یہ پیدا ہوتا ہے  کہ جب قیادت نے فیصلہ کر رکھا تھا کہ ائیر پورٹ تک جانا ہی نہیں تو میاں نواز شریف نے خطاب کس سے کرنا تھا اور یہاں یہ سوال بھی تو بنتا ہے کہ جب ائیر پورٹ جانا ہی نہیں تھا تو کارکنوں کو کال کیوں دی گئی؟ کیوں سارا دن انکو سڑکوں پہ خوار کیا گیا۔

تجزیہ نگار کہتے ہیں اب میاں برادران کے بیانیوں کا فرق کھل کر سامنے آنے لگا ہے، میاں نواز شریف کے عقابی صفت ساتھی انہیں اداروں سے ٹکرا جانے پر اکساتے رہے ہیں، جس کا نتیجہ سامنے ہے جبکہ میاں شہباز شریف اور انکے ہمنوا دھیمی رفتار سے چلنے اور ٹکراؤ  سے گریز کے حامی ہیں۔ ایک خیال یہ بھی ہے کہ اگر چھوٹے میاں صاحب چاہتے تو کیا یہ ممکن نہ تھا کہ ن لیگ اپنے گڑھ میں اپنے قائد کے استقبال کی خاطر لاکھوں نہ سہی ہزاروں افراد بھی نہ نکال سکتی لیکن ایسا دانستہ کیا گیا کیونکہ ایسا کرنے سے میاں نواز شریف اور مریم نواز کو سیاسی زندگی مل جاتی جو کسی طور گوارا نہ تھا کیوں نہ ہو حمزہ کا مستقبل بھی تو عزیز ہے، سنا کرتے تھے اقتدار کی ہوس اندھا کر دیتی  ہے، خون کے رشتے خون کے پیاسے بن جاتے ہیں تو کیا گمان ہے، یہ کھیل شروع ہو چکا ؟

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *