پیار کسے کہتے ہیں

پیار کسے کہتے ہیں۔۔۔۔پیار ایک ایسا لفظ ہے جو اپنے مطلب و مفہوم کی طرح خود بھی بہت خوبصورت ہے۔ یہ ایک مقدس ترین احساس کا نام ہے۔ میں اپنے سن شعور سے لے کر آج تک اس کے بارے میں بہت کچھ سوچتا اور سمجھتا رہا۔ہمیں ایک اسوہ کما ل عطاء کیا گیا اور ہمارے لئے لازم ٹھہرا کہ ہم اپنے تمام افکار و نظریات ان کی ذات پاک سے حاصل کریں ۔مگر ہم نے اس مرکز سے انحراف کیا اور اپنی زندگی کی اقدار غیروں سے سیکھنا شروع کر دیں۔دنیا کی اس گلوبل ولیج ٹیکنالوجی نے ہمارا تشخص تباہ کردیا مگر قصور ٹیکنالوجی کا نہیں ہماری اپنی غربت فکر کاہے۔ہمارے معاشرے میں پیار جیسے مقدس جذبے کی بڑی ناقدری اور توہین کی جا چکی ہے۔ اس کا مطلب و مفہوم یکسر بدل گیاہے ۔ کیونکہ ہم نے پیار یا محبت جیسے جذبات کامفہوم ٹی وی اور میڈیا سے سیکھا ہے جو تمام تر فساد کی جڑ ہے ۔ کیونکہ ان لوگوں کی سوچ مادیت سے شروع ہو کر مادیت پر ختم ہوجاتی ہے۔ پیار مکمل طور پر ایک الہامی جذبہ ہے۔

میں پیار کی تعریف اس اسوہ کمال سے لیتا ہوں جو میری زندگی کا مرکز و محور ہے۔ سب سے پہلے یہ دیکھیں کہ اس دنیا میں سب سے زیادہ اور سب سے خالص پیار کس ذات نے کیا ؟ اور کس سے کیا ؟ اس بات کا جواب ہے کہ اس دنیا میں سب سے زیادہ اور بے لوث پیار ہمارے پیارے آقا ﷺ نے کیا اور اپنی امت سے کیا ۔ جو اپنی پیدائش سے لے کر پردہ فرمانے تک امت کے غم میں روتے رہے ۔ اے اللہ میری امت کو بخش دے یہ وہ دعا ہے جو پیدائش کے وقت سے ورد لب تھی ۔ یہا ں سے پیار کے مطلب کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں کہ ان کی ذات پاک کے نزدیک پیار کا مفہوم کیا تھا ۔انہوں نے اس امت کے لئے کیا مانگا ۔کون سی ایسی تڑپ تھی جو ان کو ساری ساری رات امت کی محبت میں رلاتی تھی۔کیا وہ اس دنیا کی دولت و بادشاہت کی تمنا تھی ؟ کیا وہ اس مت کے لئے ہر بیماری ہر دکھ سے امان مانگتے تھے ؟ کیاوہ دنیا کی خوشیا ں اور آسائش مانگتے تھے ؟ نہیں بلکہ وہ صرف اورصرف اس امت کی بخشش کے طلب گار تھے ۔ ا س کی اخروی کامیابی کے خواہاں تھے ۔ یہا ں دو اہم باتوں کا پتہ چلتا ہے ۔ ایک تو یہ کہ حقیقی طور پر پیار کرنے کا مطلب ہے کسی کو تکلیف سے بچانا اسے اللہ کے فضل کاسزاوار بناناجو ہمارے آقا ﷺ نے کیا ہمیں اللہ کے فضل کا طالب بنایا اور آخرت کی تکلیف سے نجات دلوائی۔

دوسری اہم بات یہ ہے کہ ان کے نزدیک تکلیف یا دکھ کا تصور کیا تھا ؟ وہ صرف آخرت کی تکلیف کو ہی تکلیف سمجھتے تھے اور آخرت کی رسوائی کو رسوائی جانتے تھے ۔ جو آخرت میں کامیاب ہو گیا گویا اس نے فوز عظیم حاصل کر لی یہ بات قرآن پاک میں خود اللہ پاک نے فرمائی ہے۔ دنیا کی تکلیف تو در حقیقت تکلیف ہوتی ہی نہیں ہے یہ تو اللہ پاک کی رحمت ہوتی ہے کیونکہ ہر چھوٹی سے چھوٹی تکلیف کے بدلے ہمارے گناہ معاف ہوتے ہیں یا درجات بلند ہوتے ہیں ایک لحاظ سے دنیا کی تکالیف تو فائدہ مند ہیں کیونکہ یہ تکلیف عارضی ہوتی ہے مگر اس کا اجر لافانی ہے بس یہ ہماری بے صبری اور کم فہمی ہوتی ہے کہ ہم صبر نہیں کرتے۔ دنیا سے تو ہم نے بہرحال جانا ہی ہے۔

آسان لفظوں میں پیار کا مطلب یہ ہے کہ کسی کو آخرت کی تکلیف سے بچانے کی کوشش کرنا اوراسے اللہ کے فضل کا طالب بنانا ۔ یہ پیار کی حقیقی تعریف ہے جو میں نے اپنے آقا ئے نامدار ﷺ سے سیکھی۔ یہ پیار کسی سے بھی ہو چاہے ماں باپ سے یابہن بھائیوں سے یا چاہے کسی لڑکی سے ہو پیار کی تعریف یہی رہے گی ،میں خاص طور پر لڑکے اور لڑکی کے پیار کی بات کرتا ہوں کیوں کہ اسی حوالے سے ہمارے معاشرے میں بہت غلط تشریحات و تصریحات پائی جاتی ہیں۔ عمومی طور پر ہمارے معاشرے میں پیار کا جو مفہوم رائج ہے و ہ ڈراموں اور فلموں سے لیا ہو ا ہے ۔ ایک عمومی رویہ جو پایا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ جو کسی سے پیار کرتا ہے اس کے ساتھ باتیں کرتا ہے ۔ گھومتا پھرتا ہے ۔ اسے تحفے دیتا ہے ۔ شاپنگ کرواتا ہے یا گاڑی میں اپنے ساتھ سیر پہ لے جاتا ہے۔ یہ ساری باتیں مادی سوچ کا شاخسانہ ہیں اس کا روحانی محبت سے کوئی تعلق نہیں۔ ا س میں سب سے بڑی قباحت یہ ہے کہ اس روش پہ چلنے والا صرف وقت گزاری کی نیت سے دوستیاں کرتاہے اس کو جب کوئی اور لڑکی نظر آ جاتی ہے تو وہ اس کو چھوڑ کر دوسری کے ساتھ گل چھڑے اڑانے لگتا ہے۔ جدید اصطلاح میں اس کو ڈیٹ یا فلرٹ کرنا کہتے ہیں۔ اس کا محرک صرف انسانی خواہش ہوتی ہے۔آپ مجھ سے زیادہ ان معاملات سے واقف ہیں ۔

دوسری طرف کچھ بھیڑئے اس محبت کا لبادہ اوڑھ کر عفت ماب کی عصمت سے کھیلتے ہیں ۔ پہلے جان لٹانے تک کی باتیں ہوتی ہیں وعدے ہوتے ہیں قسمیں بھی کھائی جاتی ہیں مگر پھر طبیعت بھر جانے پر اس کو چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ انسانیت کی بہت بڑی تذلیل اور توہین ہے۔ ایسے کچھ واقعات تو میں اپنی آنکھوں سے دیکھ چکا ہوں آپ نے بھی یقیناً دیکھے ہوں گے۔کسی کے باتیں کرنے یا گھومنے پھرنے پہ اعتراض نہیں ۔ میں صرف سوچ اور نظرئیے کی بات کر رہا ہوں کہ اگر کوئی حقیقی معنوں میں پیار کرنے والا ہو تو وہ خود بخود ان رذائل اخلاق سے پاک ہو جاتا ہے۔ بس انسان کی نیت صاف اور طبیعت کے اندر خلوص ہونا چاہیے۔ اگر کوئی کسی سے پیار کرتا ہویعنی اس کی نیک آخرت اور اللہ کے فضل کا طالب ہو تو آپ خود سوچیں کیا وہ کوئی ایسا کام کر سکتا ہے جس سے اس کی یا دوسرے انسان کی عاقبت خراب ہو؟ اللہ پاک کی ناراضی کا سبب ہو ؟ ہرگز نہیں بلکہ وہ تو جو بھی کام کرے گا اسلام کے پاکیزہ دائرہ کار میں رہ کر کرے گا، وہ سنت مصطفی ﷺ پہ عمل کرے گا ۔ نکاح جیسا خوبصورت اور پاکیزہ رشتہ قائم کرے گا جس سے وہ دونوں اللہ پاک کی رحمت و فضل کے حقدار بنیں گے۔
جو کسی سے سچا پیار کرتا ہے وہ کسی اور کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھتا ۔

تصوف کی کتابوں میں ایک حکایت ملتی ہے کہ ایک شخص نے ایک خوبصورت عورت کو دیکھا تو اس کے پیچھے چل پڑا اس عورت نے پوچھا میرا پیچھا کیوں کر رہے ہو تو اس شخص نے کہا مجھے تم سے پیار ہوگیا ہے اس عورت نے اسے بتایا کہ پیچھے میری بہن آرہی ہے وہ مجھ سے بھی زیادہ خوبصورت ہے اس شخص نے پیچھے مڑ کے دیکھا، پیچھے تو کوئی نہیں تھا۔ اس عورت نے اس شخص پرلعنت بھیجی اور کہا تم پیار کرنے والے نہیں بلکہ اپنی خواہش کے پچاری ہو ۔ اولیاء کے مطابق اگر وہ سچا پیار کرنے والا ہوتا تو کہتا تم سے ہزار درجے خوبصورت و خوب سیرت کوئی عورت آجائے میں اس کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھوں گا۔
پسند کی شادی یا لو میرج کو لوگ عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں حالانکہ اسلام کی تاریخ کی پہلی لو میرج تو سیدہ طیبہ طاہرہ خدیجہ سلام اللہ علہیا نے کی تھی۔ انہو ں نے ہمارے آقاﷺ کو ان کے اعلیٰ کردار و اخلاق کی بنیاد پر پسند فرمایا اور نکاح کا پیغا م بھجوایا۔

لوگ کہتے ہیں لو میرج میں طلاقیں بہت ہوتی ہیں یہ پوری کائنات گوا ہ ہے کہ سیدہ پاک کی لو میرج کتنی زیادہ کامیاب تھی۔ آپ جس لو میرج کی بات کرتے ہیں کہ اس میں طلاقیں زیادہ ہوتی ہیں آپ ٹھیک کہتے ہیں مگر میں ان کو لو میرج سمجھتا ہی نہیں ہوں۔ وہ جذباتی شادیا ں ہوتی ہیں۔ ا کثر تو لڑکی دولت دیکھ کر پگھل جاتی ہے یا لڑکا صرف اچھا وقت گزارنے کے چکر میں ہوتا ہے، یا پھر کسی کی خوبصورتی پہلے پہل بہت زیادہ متاثر کر تی ہے۔ اگر ایسا نہ بھی ہو تو مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ پہلے تو صرف خوبیا ں ہی خوبیا ں نظر آتی ہیں انسان جذبات کی رو میں بہتا چلا جاتا ہے مگر شادی کے بعد شخصیت کے سارے ڈھکے چھپے پہلوسامنے آتے ہیں اور پھر اس جوڑے کا گزارہ مشکل ہوجاتا ہے ۔ بنیادی مسئلہ وہی ہے کہ حقیقی معنوں میں کسی کی ذات سے پیار نہیں ہوتا۔ اگر سچا پیار ہو تو پھر انسان دوسرے انسان کو تما م تر خامیو ں اور کوتاہیوں سمیت قبول کرتا ہے کیونکہ سچا پیار ذات سے ہوتا ہے ۔انسان اگر کوتاہیوں سے پاک ہوجائے تو فرشتہ نہ بن جائے ؟

اب ایک آخری اور اہم بات وہ یہ کہ ایک مصنفہ لکھتی ہیں مرد عورت کو پیار تو دیتا ہے عزت نہیں دیتا ۔ میں اس سے اتفاق نہیں کرتا۔ پیار اسی وقت ہو سکتا ہے جب آپ کے دل میں کسی کیلئے بے پناہ عزت و احترام ہوتا ہے۔ پیار اور عزت دونو ں لازم و ملزوم ہیں۔ پیار اور عزت کا رشتہ روح اور جسم جیسا ہے۔ پیار ایک خوبصورت جسم ہے اور عزت اس کی روح ہے۔ عزت دئیے بغیرتو پیار ایک مردہ جسم ہی ہوتا ہے جس کو جلد از جلد دفن کر دینا ہی بہتر ہے۔ پیار تو نام ہی بے انتہا ادب اور بے انتہا عزت کا ہے۔ جہا ں پیار ہوتا ہے وہاں لامحدود عزت و تکریم ہوتی ہے ۔ کسی ذات سے پیار کا دعوی ٰ اس وقت تک بے بنیاد ہے جب تک اس ذات کی بے پناہ عزت واحترام اور حد سے زیا دہ ادب نہ کیا جائے ۔ دل کی عمیق گہرائیوں سے کسی ذات کی عزت و تکریم کئے بغیر پیار کا نام لینا پیار کی توہین ہے آپ اس جذبے کو جو چاہیں نام دے لیں مگر اس کو پیار جیسا مقدس عنوان نہیں دیا جا سکتا ۔

ایک مرد جب کسی عورت سے پیار کا دعویٰ کرتا ہے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ وہ اس کی بے پناہ عزت وتعظیم کرتا ہے۔ اسے اہمیت دیتا ہے ۔ وہ اس کی عزت و وقار کا محافظ ہوتا ہے ۔ اس کے تحشُّم و تجمل اور تعفُّف وتقدس میں اضافہ چاہتا ہے۔ وہ کبھی کوئی ایسا عمل نہیں کر سکتا جس سے اس کی عزت نفس متاثر ہو۔ وہ اس کو تحزُّن و تحسُّر سے مامون کر دیتا ہے۔ پیار کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ کسی کو مہنگے تحائف دئیے جائیں یا خریداری کروا دی جائے یا دولت کی ریل پیل کردی جائے بلکہ اس کامطلب ہے اپنی زندگی میں اس کی اہمیت کا اعتراف کیا جائے اسے وقعت دی جائے ۔ اس کی ذات کا ادب واحترام کیا جائے۔ تمام معاملات زندگی خواہ وہ معمولی ہوں یا اہم معاملات ہوں ان سب میں اس کی رائے اور فیصلے کا احترا م کرنا اور اس کی عزت نفس کا خیال رکھنا ہی دراصل پیارکرنا کہلاتا ہے ۔
ان خوبصور ت شرائط کے متعین ہوجانے کے بعد اب کسی بھی پیار کے دعویٰ کو جانچنا بہت آسان ہے۔ جو انسان جتنا کسی کے عزت ووقار کا خیال رکھتا ہے اس کو جتنی زیادہ اہمیت دیتا ہے وہ اتنا ہی زیادہ اس ذات سے پیار کرتا ہے۔ عزت ،ادب ،احترام اور اہمیت یہ تمام جزو مل کر جس جذبے کو تشکیل دیتے ہیں اسے پیار کہتے ہیں۔یہاں پر ایک اور با ت کی بھی وضاحت کر دوں کہ مختلف شعبہ ہائے زندگی میں چونکہ دیگر انسانوں سے واسطہ پڑتا ہے تو بعض اوقات کوئی انسان اپنی ذہانت و قابلیت یا کسی خاص صفت کی بنیاد پر اچھا لگنے لگتا ہے ا س کے دل میں اس انسان کے لئے ادب و احترام بڑھ جاتا ہے ۔ جیسے کوئی اپنے استاد سے پیار کرتا ہو بھلے وہ عورت ہی ہو۔ اسی طرح استا د کو شاگرد سے پیار ہو سکتا ہے بھلے وہ لڑکی ہو۔ یہ پیار صرف ذات سے ہوتا ہے یہ انسان کے تعفُّف و تورُّع میں اضافہ کرتا ہے ۔ کیونکہ جو پیار حضور پاک ﷺکی سنت سے لیا جائے وہ انسان کو تمام تر رذائل اخلاق سے منزہ و مصفا کر دیتا ہے۔ انسان پھر اس کے لئے سوائے بزرگی و برتری کے اور کچھ نہیں مانگتا۔ انسان چپکے چپکے اس کے لئے دعائیں مانگتا ہے ۔ یہ پیار کی وہ خوبصورت تعریف ہے جو میں نے سوچی، سمجھی اور اپنا لی ۔ یہ پیار اللہ پا ک کی سنت ہے یہ میرے مصطفیﷺکی سنت ہے۔ یہ صرف مصفا و متو رِع قلب میں سما سکتا ہے۔ یہ اتنا پاکیزہ اور مقدس جذبہ ہے کہ جس دل میں رذالت کا شائبہ بھی ہو یہ اس میں نہیں ٹھہر سکتا ۔

Avatar
حامدرضا
پیار اورادب میری پہلی ترجیح ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *