چینی ادب کا شاہکار افسانہ “بندھن”۔ترجمہ/محمد ذیشان خان

وائیکو Wei Guکافی عرصے سے کسی ایسی مناسب لڑکی کی تلاش میں تھا جس سے وہ شادی کر سکے، لیکن اس کی کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی تھیں کیونکہ اس بارے میں وہ اپنے مقرر کردہ معیار سے نیچے اترنے پر تیار نہ تھا۔
یہ Tang Dynastyمیں 807 ءکی بات ہے۔ وہ رشتے کی تلاش میں سنگھو پہنچا اور وہاں جنوبی دروازے کے باہرواقع ایک چھوٹی سی سرائے میں ٹہرگیا۔ یہاں اسے ایک شخص نے رشتے کی امید دلائی تھی۔ اس شخص نے وائیکو سے کہا تھا کہ سنگھو کے کنگ شنگ Songchengمندر میں صبح کے وقت اس سے مل لے۔ وہاں وہ ایک حسین، دولت مند اور ہم مرتبہ لڑکی سے اس کےرشتے کی بات طے کرادے گا۔ وائیکو کے لیے یہ بہت بڑی خوشخبری تھی۔ اس خوشی میں وائیکو ساری رات سو نہ سکا اورعلی الصباح سرائے سے نکل کر مندر کی طرف چل دیا۔
جس وقت وہ سرائے سے نکلا تھا، اس وقت سورج اُفقِ مشرق سے نمودار نہ ہوا تھا اور وسیع و عریض زردیمائل آسمان پر ایک کٹا ہوا چاند دمک رہا تھا۔ جب وہ مندر کے قریب پہنچا تو اس نے مندر کی سیڑھیوں پر ایک بوڑھے شخص کو بیٹھے دیکھا جو چاند کی دھندلی روشنی میں کوئی کتاب پڑھنےمیں مشغول تھا۔ (چینی دیومالا میں اس بوڑھے کا نام یو لاؤ Yue Lao ہے ، یو لاؤ کے معنی ہیں چاند کے نیچے بیٹھا بوڑھا old man under the moon، اسے شادیوں کا دیوتا بھی کہتے ہیں۔) بوڑھے کے قریب ہی سیڑھیوں پر ایک چھوٹا سا تھیلا بھی رکھا تھا۔ اس نے بوڑھے کے پیچھے کھڑے ہو کر شانے پر سے جھانکتے ہوئے اس کتاب کو پڑھنے کی کوشش کی ۔ بوڑھے کی کتاب کسی عجیب سے رسم الخط میں لکھی ہوئی تھی، کسی ایسی زبان میں جو کم از کم وائیکو کی نظر سے کبھی بھی نہیں گزری تھی۔
‘‘بابا! کیا آپ بتائیں گے کہ یہ کتاب کس زبان میں لکھی ہوئی ہے؟’’وائیکو نے پوچھا‘‘مجھے بہت سی زبانیں آتی ہیں لیکن میں حیران ہوں، اس کی تحریر ان سب سے مختلف ہے۔’’
‘‘بے شک اس کتاب کی زبان تمہارے لیے اجنبی ہوگی’’بوڑھے نے مسکرا کر جواب دیا۔‘‘کیونکہ یہ کتاب کسی دنیاوی زبان میں نہیں لکھی گئی۔’’
‘‘پھر یہ زبان کون سی ہے؟’’
‘‘تم ایک فانی انسان ہو’’بوڑھے نے کہا‘‘اور یہ کتاب لا فانی روحوں کی زبان میں لکھی گئی ہے۔’’
‘‘خوب ۔’’ وائیکو نے کہا ۔‘‘گویا آپ خود بھی کوئی روح ہیں لیکن آپ یہاں بیٹھے کیا کر رہے ہیں….؟’’
‘‘اس وقت یہاں میری موجودگی نہایت ضروری تھی۔’’ بوڑھے نے جواب دیا۔‘‘دیکھو نا، تم وقت سےبہت پہلے یہاں آپہنچے ہو، رہا میں، تو میرا کام ہی یہ ہےکہ میں اپنے دائرہ کار اور اپنے فرائض سے متعلق انسانی معاملات کی جانچ پڑتال کرتا رہوں۔ چنانچہ میں ان کے نام اور پتوں کی پڑتال دن کے اسی حصے میں کرتا ہوں۔’’
وائیکو نے دلچسپی لیتے ہوئے کہا‘‘کون کون سے انسانی مسائل آپ کے دائرہ کار سے تعلق رکھتے ہیں….؟’’
بوڑھے نے جواب دیا‘‘شادی بیاہ کے مسئلے۔’’
‘‘خوب !’’وائیکو کی دلچسپی کچھ اور بڑھ گئی‘‘گویا میں بالکل صحیح ہوں جو آپ کے پاس پہنچا ہوں۔ مجھے آپ ہی کی ضرورت تھی ۔میں کافی عرصے سے شادی کے لئے ایک موزوں لڑکی کی تلاش میں ہوں لیکن ابھی تک ناکام ہوں۔ اس وقت یہاں میری موجودگی بھی اسی لئے ہے۔ ایک شخص نے مجھ سے وعدہ کیا ہےکہ وہ ایک انتہائی حسین لڑکی سے میری شادی کرادے گا۔
بابا!اب ذرا بتائیے تو کیا اس مرتبہ میں کامیاب ہوجاؤں گا….؟’’
‘‘تمہارا نام اور پتہ کیا ہے…؟’’
بوڑھے نے کتاب کے اوراق الٹتے پلٹتے ہوئے دریافت کیا۔
وائیکو نے اسے اپنا نام اور پتہ بتایا۔ بوڑھا چند لمحوں تک اپنی کتاب کے اوراق الٹتا پلٹتا رہا۔ پھر ایک صفحے پر رُک کر کچھ دیکھنے لگا۔ پھر بولا….
‘‘نوجوان! تم یہاں جس لڑکی کے ساتھ شادی کی امید میں آئے ہو یہ ممکن نہیں ۔ شاید تم یہ بات نہیں جانتے کہ انسانوں کی شادیاں تو پہلے ہی سے مقدر میں لکھ دی جاتی ہیں، میری اس کتاب میں ان کے سارے اندراجات موجود ہیں، میں اس کتاب میں دیکھ رہا ہوں کہ ابھی تمہاری شادی میں بہت دیر ہے کیونکہ تمہاری ہونے والی بیوی ابھی بہت کم عمر ہے اور اس کی شادی عمر کے اٹھارویں برس میں تمہارے ساتھ انجام پائے گی۔ تم بےفکر رہو۔’’
‘‘بے فکر رہوں….؟؟’’وائیکو نے اُلجھتے ہوئے کہا۔‘‘گویا آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ مجھے ا بھی کئی سالوں تک کنوارا ہی رہنا پڑے گا۔’’
‘‘بالکل…!’’بوڑھے نے غیر مبہم لہجے میں کہا۔ ‘‘کیونکہ تمہاری تقدیر کا لکھا ہمیں یہی بتا رہا ہے۔’’
‘‘گویا میں جس لڑکی کے سلسلے میں یہاں آیا ہوں، وہاں رشتہ نہ ہوسکے گا….!’’وائیکو، کو وحشت ہو رہی تھی۔
وائیکو عجیب الجھن میں مبتلا ہوگیا۔ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ بوڑھے کی بات پر یقین کرے یا نہ کرے۔ اچانک اس کی نظر بوڑھے کے تھیلے پر پڑی….
‘‘اور یہ آپ کے تھیلے میں کیا ہے؟’’اس نے بےچینی سے پوچھا۔
‘‘ریشم کی لال ڈوریاں۔’’بوڑھے کے چہرے پر معصوم مسکراہٹ بکھر گئی۔‘‘یہ ڈوریاں بھی میرے فرائض کے ایک حصے سے تعلق رکھتی ہیں۔ میں اس کتاب سے ہر جوڑے کے بارے میں معلومات حاصل کرتا رہتا ہوں، جونہی دنیا میں کوئی بچہ یا بچی پیدا ہوتی ہے اور کتاب مجھے ان کی بابت یہ بتاتی ہے کہ آئندہ چل کر یہ دونوں میاں بیوی بنیں گے تو میں رات میں وہاں پہنچ جاتا ہوں اور ریشم کی ان ڈوریوں سے ان دونوں کے پیروں کو ایک ساتھ باندھ دیتا ہوں ۔ جب میں ایک بار گرہ لگا دیتا ہوں تو پھر اسے کوئی بھی نہیں کھول سکتا۔ یہاں تک کہ دونوں کے مرتبے کا فرق بھی نہیں کھول سکتا یعنی چاہے ان دونوں میں سے کوئی ایک بڑے گھرانے میں پیدا ہو، ۔ دونوں کے درمیان ہزاروں میل کی دوری ہو ، حالات کی پیچیدگیاں بھی ان کے درمیان حائل نہیں ہو سکتیں اور آخر دونوں کی شادی ہو کر ہی رہتی ہے۔ ریشم کی ڈوریوں کی گِرہ کو کوئی نہیں کھول سکتا۔’’
‘‘خوب’’وائیکو نے حیرت سے کہا‘‘تو آپ نے یقیناً میرے پیر بھی باندھ دیے ہوں گے….؟’’
‘‘بالکل…!’’
‘‘وہ بچی۔ وہ جو آپ کے بقول میری بیوی بنے گی، آج کل کہاں ہے….؟’’
‘‘وہ بچی ایک ایسی عورت کے گھر پل رہی ہے جو سبزیاں بیچتی ہے۔ وہ عورت روزانہ صبح بازار میں دکان لگاتی ہے۔ اگر تم اس سے ملنا چاہتے ہو تو میرے ساتھ چلو، اس کی رہائش یہاں سے کچھ زیادہ دور نہیں ہے۔ چلو وہ جگہ میں تمہیں دکھائے دیتا ہوں۔’’
اب صبح نمودار ہورہی تھی اور وہ وائیکو کا ملاقاتی ابھی تک ٖغائب تھا۔
‘‘تم اس کا انتظار نہ کرو۔ وہ نہیں آئے گا۔’’بوڑھے نے اسے دوست کے نہ آنےکا یقین دلایا۔ وائیکو کو بوڑھے کی باتوں میں بڑا لطف آرہا تھا، وہ اٹھا اور بوڑھے کے ساتھ چل دیا۔ راستے میں بوڑھے نے کہا۔‘‘مجھے اپنا کام بے حد پسند ہے۔ ریشم کی یہ لال ڈوریاں بھی عجیب ہوتی ہیں۔ بچے اور بچیاں دونوں اپنے اپنے گھروں میں ایک دوسرے کے وجود سے بے نیاز پروان چڑھتے رہتے ہیں اور پھر جب وقت آتا ہے تو وہ نظامِ قدرت کے تحت ایک دوسرے کی محبت کے اسیر ہوجاتے ہیں۔ وہ خود سے کچھ نہیں کرسکتے۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ ان دونوں کے درمیان کسی اور لڑکی یا لڑکے کا وجود حائل ہوجاتا ہے۔ اور اس صورت میں ریشم کی ان ڈوریوں کی بندش کے باعث باغی دو قدم بھی بڑھانے سے قاصر رہتا ہے اور اوندھے منہ گر پڑتا ہے۔ میں نے ایسے واقعات بار بار دیکھے ہیں۔’’
اب بازار بہت نزدیک آچکا تھا اور وہاں آہستہ آہستہ راہگیروں کی بھیڑ بھاڑ بڑھتی جارہی تھی۔ بوڑھے نے اپنے پیچھے پلٹ کر وائیکو کو دیکھا اور کہنے لگا ….
‘‘میرے پیچھے پیچھے چلتے رہو۔وہ ادھر دیکھو….’’
بوڑھا ایک چھوٹی سی سبزی کی دکان کی طرف اشارہ کر رہا تھا۔ دکان پر ایک ادھیڑ عمر عورت بوسیدہ اور گندے کپڑوں میں ملبوس بیٹھی ہوئی تھی۔ عورت کے قریب ہی ایک بچی سوئی تھی ،جسے اُس نے اپنا آنچل اوڑھا رکھا تھا۔ عورت کی بینائی کمزور تھی اور وہ مشکل ہی سے کچھ دیکھ سکتی تھی۔
بوڑھے نے کہا۔‘‘ یہ بچی تمہاری بیوی بنے گی۔’’
وائیکو کو غصہ آگیا، یہ کیا مذاق ہے…..؟اُس نے سوچا اور بیزاری سے بولا‘‘بڑے میاں! آپ ضرور مذاق کر رہے ہیں….؟’’
‘‘یہ مذاق نہیں، مقدر کی بات ہے۔’’بوڑھے نے کہا ‘‘اسے اس حال میں دیکھ کر بد قسمت مت سمجھو۔ اس بچی کے ستارے بہت اچھے ہیں۔ یہ طے ہے کہ اس کی شادی تمہارے ساتھ ہوگی۔ یہ بڑی آرام دہ اور عیش و عشرت کی زندگی گزارے گی اور آخر عمر میں اپنے بیٹے کی بدولت کافی عزت و شہرت بھی حاصل کرے گی۔’’
وائیکو نے ایک بار پھر اس بچی کی طرف دیکھا جو ایک استخوانی ڈھانچے کی مانند دکھائی دے رہی تھی۔ اسے اندر سے سخت کراہیت سی محسوس ہوئی۔ وہ یقیناً اس مسئلے پر بوڑھے سے اُلجھ پڑتا مگر جب اس نے مڑ کر دیکھا تو پتہ چلا کہ بوڑھا وہاں موجود نہیں ہے۔ خدا معلوم وہ اچانک کس طرف غائب ہوگیا تھا۔
وائیکو اس بازار سے اپنے سرائے کی طرف تنہا رخصت ہوا کیونکہ وہ آدمی بھی جس سے ملنے وہ یہاں آیا تھا اسے نہیں ملا۔ وائیکو کا دماغ مسلسل سوچ رہا تھا کہ آیا وہ بوڑھے کی باتوں پر اعتبار کرے یا نہ کرے۔
‘‘میں ایک عالم ہوں…’’اس نے سوچا۔‘‘بالفرض محال مجھے اپنے مرتبے کے مطابق کوئی عورت نہیں مل سکتی تو بھی میں کسی اداکار وغیرہ سے تو بآسانی شادی کرسکتا ہوں….’’ اور اس نے اس مسئلے پر جتنا زیادہ سوچا۔ننھی بچی سے اس کی نفرت میں اور اضافہ ہوتا گیا۔ وہ ذہنی طور پر اس بات کو قبول کرنے کے لیے بالکل تیار نہ تھا۔ اس نے دل میں کہا۔‘‘ہونہہ، کہاں میں اور کہاں ایک سبزی فروش کی گندی لڑکی۔’’وہ ساری رات اسی ادھیڑ بن میں رہا اور ٹھیک سے سو بھی نہ سکا۔
دوسری صبح وہ اپنے نوکر کو لے کر اس بازار میں گیا اور اسے کچھ رقم دے کر ہدایت دی کہ وہ سبزی فروش کی بچی کو قتل کردے۔
نوکر تعمیلِ حکم میں گھات میں لگ گیا اور موقع پاتے ہی لڑکی پر وار کیا اور بھاگ کھڑا ہوا۔ چاقو لگتے ہی لڑکی نے چیخنا شروع کردیااور عورت نے‘‘قتل کردیا….قتل کردیا۔’’کی آوازوں سے بازار سر پر اٹھا لیا۔ اس ہنگامے میں موقع پا کر وائیکو بھی اپنے نوکر سمیت اس بھیڑ سے صاف نکل گیا۔
‘‘کیا رہا؟’’وائیکو نے آگے جاکر اس سے پوچھا۔‘‘کیا تم کامیاب رہے؟’’
‘‘میں یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتا جناب۔’’نوکر نے تذبذب کے لہجے میں کہا ‘‘چاقو تو یقیناً اسے لگا ہے لیکن کہاں؟ یہ میں نہیں کہہ سکتا۔ ہو سکتا ہے کہ وہ مر ہی جائے۔’’
وائیکو نے وہ شہر اسی دن چھوڑ دیا اور دارالحکومت چلا گیا۔ وہاں اس نے ایک اور رشتے کی بات کی لیکن ناکامی اٹھا کر بے حد دل برداشتہ ہوگیا اور طے کرلیا کہ وہ شادی کا خیال دل میں نہ لائے گا۔ کوئی تین سال بعد اس کی خواہش پھر جاگی اور ایک اچھے اور با رسوخ خاندان میں ایک قبول صورت لڑکی سے اس کی منگنی طے پا گئی۔ اس کے دوستوں نے اسے مبارک باد کے خطوط بھیجے لیکن شادی کے دن ایک عجیب بات ہوگئی۔ اچانک معلوم ہوا کہ لڑکی نے خودکشی کرلی ہے، یہ لڑکی دراصل کسی دوسرے مرد سے محبت کرتی تھی۔
اس واقعہ کے کوئی دو سال بعد….کسی کام سے اس کا نواحی بستی میں سے گزر ہوا، وہاں اسے ایک کسان کی نوجوان لڑکی دکھائی دی۔ لڑکی بڑی معصوم اور خوش شکل تھی اور وائیکو نے اسے پہلی ہی نظر میں پسند کر لیا۔ یہ رشتہ حاصل کرنا بے حد آسان تھا۔ چنانچہ بات چیت طے کر کے وہ شہر واپس چلا گیا اور جب شادی کی نیت سے وہ گاؤں واپس آیا تو پتہ چلا کہ کسان کی لڑکی اچانک فالج کا شکار ہوگئی ہے۔ اور اس طرح ایک بار پھر اس کی شادی ٹل گئی۔
اب وائیکو اپنی عمر کے 28سال پورے کر چکا تھا اس واقعے کے کئی سال بعد واقعی اسے ایک ایسی لڑکی مل گئی جسے ہر اعتبار سے اس کے جوڑ کا کہا جا سکتا تھا۔ یہ لڑکی بھی وائیکو کی طرح پڑھی لکھی اور ادبی مزاج کی مالک تھی۔ اس کا خاندان بھی اونچا اور وہ صورت شکل کی بھی اچھی تھی۔ ان کے درمیان کوئی رقیب بھی حائل نہ تھا۔ شادی میں ابھی صرف دو ہی دن باقی رہ گئے تھے کہ اچانک لڑکی کا پیر پھسلااور وہ دومنزلہ عمارت کی سیڑھیوں سے کچھ اس طرح گری کہ جانبر نہ ہوسکی….
یوں لگتا تھا کہ قدرت ہر قدم پر اس کی مخالفت کر رہی ہے، اس کی مایوسیوں کا کوئی ٹھکانا نہ رہ گیا تھا۔ شادی کی کوششوں کے سلسلے میں یہ آخری واقعہ تھا، اس کے بعد وائیکو اتنا دل برداشتہ اور مایوس ہوا کہ اس نے شادی کے سلسلے میں ہر کوشش سے ہاتھ اٹھا لیا۔ان دنوں وہ شانگھو کے علاقے کی عدالت میں بطور افسر تعینات تھا۔ اب وہ اپنا بیشتر وقت کام میں صرف کرتا تھا اور شاید یہی وجہ تھی کہ مجسٹریٹ اس پر ضرورت سے زیادہ مہربان رہنے لگا تھا۔ وائیکو کی مستعدی اور دیانتداری نے مجسٹریٹ کو کچھ اتنا متاثر کیا کہ ایک دن اس نے وائیکو کو بلا کر ایک پیش کش کردی۔ اس نے کہا۔‘‘وائیکو اگر تم پسند کرو تو میں تم سے اپنی بھتیجی کی شادی کرنے کو تیار ہوں۔’’
اس وقت وائیکو کی عمر چالیس سے بھی اوپر تھی اور اسے پے در پے ناکامیوں کی وجہ سے شادی کی کوئی تمنا بھی نہ تھی….مجسٹریٹ وانگ تائی Wang Tai (ژیانگ ژوXiangzhou کا گورنر ) کی کمسن بھتیجی کے ساتھ اس کا کوئی میل بھی نہ تھا۔ پھر بھی مجسٹریٹ کی وجہ سے اسے حامی بھرنا ہی پڑی لہٰذااس نے ہاں کردی۔
وائیکو کو اس شادی میں ذرا بھی دلچسپی نہیں تھی، اسی وجہ سے اس نے اپنی ہونے والی بیوی کی شکل اس وقت تک نہیں دیکھی، جب تک کہ وہ بیاہ کر گھر میں نہ آگئی۔ جب اس نے اپنی بیوی کی شکل دیکھی تو اسے خاصا اطمینان ہوگیا کیونکہ یہ لڑکی خاصی خوبصورت تھی اور حلیم الطبع بھی لگتی تھی اور اس میں ایک اچھی رفیقۂ حیات کی جملہ خصوصیات پائی جاتی تھیں۔صرف اتنا ہی نہیں، اس کا مزاج بھی ادبی تھا اور وہ پڑھی لکھی بھی تھی۔ اس کے بال سنوارنے کا ایک مخصوص انداز تھا اور وہ اپنے بالوں کو کچھ اس طرح سنوارتی کہ داہنی طرف کے بالوں کا ایک بڑا حصہ اس کی بھنووں کے ذرا اوپر ماتھے کو پوری طرح چھپا لیتا تھا۔ وائیکو اپنی بیوی کے اس خاص انداز کو کافی دنوں تک محسوس کرتا رہا اور اس میں کسی قسم کی تبدیلی نہ پا کر ایک دن اس نے اپنی بیوی سے دریافت کیا۔
‘‘میری سمجھ میں نہیں آتا کہ تم اپنے بال ہمیشہ اسی ایک انداز میں کیوں بناتی ہو۔ میرا خیال ہے کہ اگر تم اس طریقے میں کچھ تبدیلی کرلو، تب بھی تم خوبصورت نظر آؤ گی۔’’
جواب میں اس کی بیوی نے بالوں کو ایک طرف ہٹا کر وہ حصہ اس کے سامنے کردیا۔ بھنووں کے اوپر پیشانی پر ایک بدنما زخم کا نشان بنا ہوا تھا۔
‘‘اوہ….’’وائیکو نے کہا۔‘‘تمہیں یہ زخم کیسے لگا؟’’
‘‘میں اس وقت چھوٹی تھی۔’’ لڑکی نے کہا۔‘‘میرے والد کا انتقال ہوچکا تھا اور پھر انہی دنوں میری ماں اور بھائی بھی چل بسے۔ مجھے میری آیا نے اپنے پاس رکھ لیا۔ میرا کوئی قریبی عزیز بھی شہر میں موجود نہ تھا۔ میری آیا سبزیاں بیچ کر گزر بسر کرتی تھیں اور ہر وقت مجھے اپنے پاس رکھتی تھیں۔ وہ ایک بے حد نیک عورت تھیں۔ ایک روز وہ مجھے لٹا کر کسی اور کام میں لگی ہوئی تھیں کہ اچانک کوئی بدمعاش ادھر آیا اور بلاوجہ چاقو سے مجھ پر وار کر کے بھاگ گیا۔ اس کا چاقو میرے سر میں اچٹتا ہوا لگا تھا۔ میری قسمت اچھی تھی کہ میں بچ گئی۔ یہ اسی کا نشان ہے۔ جب سے میں نے ہوش سنبھالا تو زخم کے اس بد نما داغ کو چھپانے کے لیے ہمیشہ اسے بالوں کے اندر رکھتی ہوں۔’’
‘‘کیا اس آیا کی بینائی کمزور تھی….؟’’وائیکو نے حیرت سے پوچھا
‘‘ہاں اسے کم نظر آتا تھا۔’’لڑکی نے چونک کر کہا۔’’مگر تم کو یہ کیسے معلوم ہوا….؟’’
‘‘یہ بڑا لمبا قصہ ہے۔’’وائیکو نے افسردگی سے کہا….پھر اس نے پوری داستان دہرادی۔ اس کے بعد وائیکو نے پوچھا ‘‘لیکن جب تم اپنی آیا کے پاس پرورش پا رہی تھیں تو یہ تمہارے مجسٹریٹ چچا کہاں تھے….؟’’
لڑکی نے جواب دیا‘‘یہ ان دنوں کہیں اور تھے، پھر جب میں آٹھ سال کی ہوگئی تو میرے چچا کو کہیں سے میرا پتہ چلا اور انہوں نے میری آیا سے مجھے واپس لے لیا۔ آیا بھی مرتےدم تک میرے ساتھ ہی رہی۔’’
وائیکو نے بوڑھے کی بابت سوچتے ہوئے آپ ہی آپ کہا….‘‘تو بڑے میاں تم نے سچ ہی کہا تھا کہ انسانوں کی شادیاں آسمانوں ہی میں مقرر کر دی جاتی ہیں۔’’
چند سالوں کے بعد ان کے ہاں لڑکا پیدا ہوا جو بڑا ہوکر کسی اعلیٰ عہدے پر فائز ہوا اور اس کی وجہ سے وائیکو اور اس کی بیوی نے بڑی شہرت اور عزت حاصل کی۔
گویا بوڑھے فرشتے کی یہ دوسری پیشنگوئی بھی درست ہی ثابت ہوئی۔

[ چین کے تینگ دورTang Dynastyحکومت کے وائیکو Wei Gu اور یو لاؤ Yue Lao کی یہ داستان old man under the moon دراصل ایک چینی لوک کہانی ہے جسے کئی مصنفین نے اپنے اپنے انداز سے تحریر کیا ہے۔]

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *