باغی روحوں کی بازگشت۔۔۔۔ مشتاق علی شان

 حضورِ والا برا نہ مانیں! کہ گُنگ صدیوں کا گُنگ ورثہ

زبان ملتے ہی گستاخ ٹھہرا

بجا جسارت بری ہے لیکن

یہ باغی روحوں کی بھٹکی سوچوں

کی پرکاہ برابر بھی وقعت نہیں ہے

ہماری چپ کی زباں درازی

شمارکیوں ہو، حساب کیوں ہو؟

کہ اس کی ڈوری بھی درحقیقت

حضورِ والا کے ہاتھ میں ہے

حضورِ والا!

بہ فیضِ ثروت،بزورِ قوت

بطرزِ سطوت،بصد رعونت

یہی حقیقت، یہی صداقت

کہ ذی شرف ہیں حضورِ والا حضورِ والا

ہی ذی حشم ہیں

جو آپ کہتے ہیں معتبر ہے

وہ حرفِ آخر ہے مستند ہے

جو آپ سوچیں، ہمالہ چوٹی

جو آپ کرتے ہیں وہ ہنر ہے

حضورِ والا یہ جادونگری

یہ جادونگری ہے، جادونگری

فریب نظری ہے دستور اس کا

اورآپ ہی بس یہاں سامری ہیں

یعنی خدائے ساحری ہیں

یہ باقی سارے خدام ارذل

غلام پیکر، غلام روحیں

جو آپ بخشیں زباں کو ان کی

وہ حرف ہی بس ادا ہیں کرتے

جو آپ سوچیں، وہ فکر ان کی

جو آپ ان کو دکھانا چاہیں

یہ ویسا دیکھیں، یہ ویسا سوچیں

ہو آپ کا گر ذرا اشارہ

تو ان میں جنبش، ہے ان میں حرکت

وگرنہ ساکت یہ جم کے پتھر

حضورِ والا!

یہاں پہ چہرہ بس اک آپ کاہے

وگرنہ باقی تو تن ہی تن ہیں ہیں

تن بھی ایسے کہ سر بریدہ

جو آپ چاہیں تو سر وسہرا

جو آپ چاہیں تو کوئی چہرہ

اُگا دیں ان پر،

سجا دیں ان پر کہ ان کی اپنی شناخت کیسی؟

غلام زادوں کی اوقات ہی کیا؟

حضورِوالا برا نہ مانیں کِیا

مجسم ہے آج جس کو

یہ کچھ صداؤں کی بازگشت ہے

یہ باغی روحوں کی بازگشت ہے

یہ خاص لمحوں کا اترا سچ ہے

جو تلخاب صورت چکھا بہت ہے

جو زہراب صورت پیا بہت ہے

حضورِوالا ذرا سی تلخی

قبول کرلیں،

قبول کر لیں

مشتاق علی شان
مشتاق علی شان
کامریڈ مشتاق علی شان مارکس کی ان تعلیمات کو بھولے نہیں جو آج بھی پسماندہ طبقات کیلیے باعث نجات ہیں۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *