اور کس فیصلے کی توقع تھی ؟ محمد عامر خاکوانی

میاں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کیس میں فیصلہ آنے سے اس عمل کا ایک منطقی، فطری دائرہ مکمل ہوگیا، جس کا آغاز سپریم کورٹ میں پانامہ کیس کی سماعت سے شروع ہوا تھا۔ان لوگوں کو ”داد “ دینی چاہیے، جنہیں نواز شریف صاحب کے خلاف فیصلے پر حیرت ہوئی۔بھلے لوگو، یہ تو ہونا ہی تھا، دیوار پر لکھا تھا۔ قانون سے معمولی سا تعلق رکھنے والا بھی سمجھ چکا تھا کہ اگر کوئی ڈیل نہ ہوئی اور آزادانہ فیصلہ کرنے دیا گیا تو ایسا ہی کچھ سامنے آئے گا۔ میاں صاحب کے چاہنے والوں یا ن لیگ کے حمایتی اخبارنویسوں کو اپنے لیڈر کے خلاف قید بامشقت کی سخت سزا اور بھاری جرمانے پر پریشانی یا تکلیف تو ہوسکتی ہے۔انسانی جذبات شخصیت کا لازمی جز ہیں۔ اپنے پسندیدہ لیڈر کو جیل کی سلاخوں کے پیچھے دیکھنا یا اس کی جائیداد قرق ہوتے دیکھنا ظاہر ہے فرحت بخش نظارہ نہیں۔ ن لیگ کے ترجمانوں، کارکنوں یا حامیوں کو مگر حیران ہونے کا کوئی” حق “نہیں۔ اتنے سنجیدہ معاملات میں اس قدر سادگی اور بھولپن جچتا نہیں۔
میاں نواز شریف کی بدقسمتی کا آغاز پانامہ سکینڈل سے ہوا۔ ن لیگی احباب اگر مناسب سمجھیں تو اپنے روزانہ کے معمولات کا ایک حصہ ان کم بختوں کو بددعا دینے میں صرف کر سکتے ہیں ،جنہوں نے یہ پورا سکینڈل بے نقاب کیا اور ان آف شور کمپنیوں کی دستاویزات عام کر دیں جن کی بدولت لندن اور بعض دوسرے شہروں میں قیمتی جائیدادیں خریدی گئی تھیں۔ پانامہ سکینڈل منظرعام پرنہ آتا تو شریف خاندان جن الزامات کو پچھلے بیس بائیس برسوں سے جھٹلا رہا تھا، یکا یک اس پورے معاملے میں یو ٹرن نہ لینا پڑتا۔ حسین نواز کو الحمد اللہ الحمداللہ کہتے ہوئے جائیدادوں کی ملکیت تسلیم نہ کرنی پڑتی ۔یہ سب کیا دھرا
پانامہ کا ہے ۔اس لئے قصور وار نمبر ون تو پانامہ کی ہنڈیا بھرے بازار میں پھوڑنے والے جرنلسٹ ہیں۔
دوسری اور تیسری غلطی میاں نواز شریف سے خود سرزد ہوئی ، اس لئے اس بارے میں سخت الفاظ استعمال نہیں کر سکتے۔ ہاں اس ناہنجار کوضرور تلاش کرنا چاہیے جس نے میاں صاحب کو پانامہ سکینڈل کے منظر عام پر آنے کے فوری بعد قوم سے خطاب کرنے اور اس معاملے کی جوڈیشل تحقیقات کرانے کا وعدہ کرنے کا مشورہ دیا۔ میاں نواز شریف نے پانامہ سکینڈل کی جوڈیشل تحقیقات کرانے کا شائد یہ سوچ کر کہا ہوگا کہ اس پہل کاری (Initiative)سے وہ اپوزیشن پر برتری لے لیں گے۔ اس کا الٹا اثر ہوا اور معاملات ان کے ہاتھ سے یوں پھسلتے گئے، عمران خان بپھرے سانڈ کی طرح پیچھے پڑا رہا اور آخر سپریم کورٹ کو کیس سننا پڑااور پھر جو کچھ ہوا وہ تاریخ کا حصہ ہے۔ میاں صاحب نے اس دوران کئی غلطیاں کیں۔ ہمارے خیال میں اصل اور سب سے بڑی بنیادی غلطی لندن میں ایون فیلڈ فلیٹس کی خریداری ہے۔نواز شریف کو سمجھنا چاہیے تھا کہ جرم کبھی نہیں چھپتا اور کبھی تو پچیس تیس سال بعد بھی تعاقب کر کے آن دبوچتا ہے۔ کرپشن کر کے منی لانڈرنگ کے ذریعے جائیدادیں بنائی جائیں تو پھرانجام برا ہی ہوگا۔
سپریم کورٹ میں یہ بات مکمل طور پر واضح ہوگئی تھی کہ نواز شریف صاحب اور ان کی اولاد کے پاس لندن جائیداد کی منی ٹریل موجود نہیں۔ دراصل ان کی بچت تب تک ہی تھی جب تک وہ جائیداد ان کی ملکیتی تسلیم نہیں ہوئی تھی۔ پانامہ کیس کے بعد یہ ثابت ہوگیا تو پھر اب اس کی منی ٹریل کہاں سے لائی جاتی؟ثبوت نہ ہونے کی وجہ ہی سے اتنے سارے جھوٹ بولے گئے، متضاد بیانات ، تقریریں، انٹرویوز وغیرہ وغیرہ۔ جس دن قطری خط سامنے آیا، اس روز کئی ن لیگی دوستوں سے بات ہوئی، شرمندگی سے سب کے رنگ اڑے اور نظریں جھکی ہوئی تھیں۔
بعض چیزیں ایسی ہوتی ہیں، کامن سینس اور عوامی حوالے سے اس کا ذرا برابر بھی وزن نہیں ہوتا۔ قطری خط ان میں سے ایک تھا۔ اب جیسے احتساب عدالت میں نواز شریف صاحب نے نیب کے کئی سوالات کے جواب میں کہا ،” جو بات حسین نواز نے کہی، وہ اس کے خود ذمہ دار ہیں، یہ بات حسن نواز نے کہی تو اس کا جواب بھی اس سے لیں، فلاں بات حسین، حسن نے کی یا کہی تو اس کی ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے، میں کیوں وضاحت دوں وغیرہ وغیرہ۔ “ اب اس طرح کی باتیں عدالت میں تو چل سکتی ہیں کہ قانونی طور پر بیٹے کے عمل کی ذمہ داری باپ پر عائد نہیں ہوتی، مگر عام دنیا میں کون اس کو مان سکتا ہے؟ بیٹوں کی کیا مجال کہ میاں نواز شریف جیسے باپ سے ہٹ سکیں، ان کا کہنا نہ مانیںاورباپ کیسے اپنے بچوں کے معاملات سے بے دخل رہ سکتا ہے ؟
اس لئے میاں نواز شریف پر جرم ثابت شدہ ہی تھا۔ لندن میں جائیداد ان کے بچوں کی ثابت ہوگئی تھی۔ جب فلیٹ خریدے گئے تو مریم نواز اور ان کے چھوٹے دونوں بھائی اس وقت سترہ سے بیس برس کے تھے، ان کا کوئی کاروبار تھا نہ آمدنی کے ذرائع۔ اس لئے یہ صاف ظاہر تھا کہ وہ نہیں بلکہ ان کے والد ہی اس جائیداد کے مالک تھے۔ میاں نواز شریف نے سپریم کورٹ میں یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ فلاں فلاں ذرائع سے فلیٹس کی خریداری ممکن ہوئی۔ ان ثبوت بشمول قطری خط کے عدالت میں پرخچے اڑ گئے۔ احتساب عدالت میں تو شریف خاندان کا دفاع مزید کمزور رہا۔ انہوں نے اپنی صفائی میں کوئی گواہ پیش نہ کیا۔ قطری شہزادے سمیت کوئی گواہ احتساب عدالت میں حاضر نہیں ہوا۔حد تو یہ ہے کہ میاں نواز شریف اور مریم نواز دونوں نے بیان حلفی کے تحت گواہی نہیں دی تاکہ عدالت ان پر جرح نہ کر سکے۔ انہیں شائد خدشہ تھا کہ جرح میں کہیں کچھ اور پول نہ کھل جائے۔ اس لئے انہوں نے وکیل کا ڈرافٹ کردہ بیان کامے، فل سٹاپ سمیت عدالت کے سامنے پڑھ دیا۔ جب نواز شریف خاندان اپنا دفاع ہی نہ کر پایا تو سزا ملنا یقینی ہوگئی۔
پچھلے دو دنوں میں ایک بات ن لیگ کا حامی کیمپ میڈیا اور سوشل میڈیا پر چلا رہا ہے کہ ان کے خلاف کرپشن ثابت نہیں ہوئی۔ بھائی جی اگر کرپشن ثابت نہیں ہوئی تو یہ دس سال قید بامشقت اور ایک ارب سے زائد کا جرمانہ کس خوشی میں ہوا؟سادہ بات ہے کہ ان پر الزام تھا کہ اپنے وسائل سے زیادہ یعنی غیر قانونی طریقوں سے پیسہ کما کر جائیداد بنائی ہے۔ استغاثہ نے ثابت کرنا تھا کہ لندن میں ایون فیلڈ فلیٹس نواز شریف کے ہیں۔ یہ ثابت ہوگیا۔ نواز شریف صاحب نے یہ ثابت کرنا تھا کہ انہوںنے یہ فلیٹ اپنی جائز آمدنی سے بنائے ہیں۔ وہ یہ نہیں کر پائے اور نیب قوانین کے تحت آمدن سے زائد اثاثے بنانے کے جرم میں ان کی وہ جائیداد (لندن کے چاروں فلیٹس) ضبط کرنے کے ساتھ انہیں قید بامشقت اور جرمانہ کیا گیا۔ مریم نواز کو جعلی ٹرسٹ ڈیڈ دینے اور اپنے والد کا جعلسازی، عدالت کو دھوکہ دینے میں بھرپور ساتھ دینے پر سزا سنائی گئی، کیپٹن صفدر اس جعلی ٹرسٹ ڈیڈ کے گواہ تھے، انہیںجعلی گواہی پر سزا ملی۔کرپشن اور کس طرح ثابت ہوتی ہے؟ ہاں استغاثہ یہ نہیں بتا سکا کہ میاں نواز شریف نے پیسے کہاں سے لوٹے تھے؟ مثال کے طور پر موٹر وے سے کمیشن کھایا یا کسی اور پل ، میگا پراجیکٹ سے مال بنایا۔ یہ بے شک نہیں پتہ چل سکا اور اس کاریگری اور مہارت کا کریڈٹ ضرور نواز شریف صاحب کوملنا چاہیے، مگر نیب نے ملزم کو سزا کے لئے جو کچھ ثابت کرنا تھا ، وہ کر ڈالا۔ ملزم کو اپنی صفائی کے لئے جو کچھ
ثابت کرنا تھا، وہ اسے قطعی طور پر نہیں کر سکا، اس لئے سزا کا موجب ٹھیرا۔
ایک اہم سوال یہ پیدا ہوا ہے کہ پانامہ میں تو چار سو لوگ تھے، صرف ایک کو سزا کیوں؟ جواب سادہ ہے۔یہ واضح کر لیں کہ میاں نواز شریف کو پانامہ سکینڈل میں نام آنے پر سزا نہیں ملی۔ ان پر لندن میں جائیداد بنانے کے الزامات بیس پچیس برسوں سے چل رہے تھے، پانامہ سکینڈل سے صرف یہ ہوا کہ لندن کے وہ فلیٹ میاں نواز شریف کے بچوں کی ملکیت ثابت ہوگئے۔ اب بدقسمتی سے جس زمانے میں فلیٹ خریدے گئے، اس زمانے میں ان کے بچے کمانے جوگے نہیں تھے، اس لئے یہ جائیدادان کے باپ نواز شریف کی سمجھی گئی اور اس کی خریداری کے لئے جس قانونی منی ٹریل کی ضرورت تھی، نواز شریف وہ نہ دکھا پائے ، یوں سزا ملی۔ پانامہ کیس میں دوسرے کسی کے ساتھ ایسا معاملہ نہیں تھا۔پھر نواز شریف اس وقت ملک کے وزیراعظم تھے، ظاہر ہے الزام لگنے پر سب سے پہلے ان کا احتساب ہونا چاہیے تھا۔ پانامہ سکینڈل میں زیادہ تر کاروباری لوگ ہیں، دوچار سیاستدان ہیں، مگر ان کا بھی نواز شریف والا معاملہ نہیں کہ سکینڈل سے ان کی پرانی چھپائی جائیدادیں ثابت ہوگئی ہیں۔نواز شریف کیس نمٹ چکا، اب اس سکینڈل میں ملوث باقی ماندہ لوگوں کی تحقیقات کی جائیں، جو مجرم ثابت ہو، اسے سزا دیں۔ اس عمل کو آگے بڑھائیں۔ صرف ن لیگ تک یہ محدود نہ رہے۔ میاں نواز شریف کے خلاف فیصلے کو احتساب برسات کی پہلی بوند بننا چاہیے، یہیں پر یہ عمل ہرگز ہرگز نہیں رکنا چاہیے۔

مہمان تحریر
مہمان تحریر
وہ تحاریر جو ہمیں نا بھیجی جائیں مگر اچھی ہوں، مہمان تحریر کے طور پہ لگائی جاتی ہیں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *