درباری ۔ مرزا مدثر نواز

آفیسر نے میس میں داخل ہوتے ہی پوچھا کہ آج کیا پکایا ہے؟ شلغم پکے ہیں جناب! میس انچارج نے جواب دیا۔ واہ‘ واہ‘ شلغم کی کیا بات ہے‘ اس میں تو سنا ہے کہ بہت زیادہ وٹامن ہوتے ہیں‘ آفیسر نے خوش ہوتے ہوئے کہا۔ جی جناب‘ شلغم جیسی تو کوئی سبزی ہی نہیں ہے‘ مزیدار‘ وٹامن سے بھر پوراور انتہائی صحت بخش ہے‘ میس انچارج نے کہا۔ کچھ دن بعد میس میں دوبارہ شلغم پکے‘ جن کا سن کر آفیسر کی طبیعت ناگوار ہو گئی اور کہا کہ یہ بھی کوئی پکانے کی چیز ہے جسے روز پکا لیتے ہو۔ جی جناب بڑی فضول سبزی ہے‘ کوئی مزہ ہے نہ فائدہ‘ پتہ نہیں لوگ کیوں اسے پکاتے ہیں‘ میس انچارج نے بڑی سنجیدگی اور ماہرانہ انداز میں جواب دیا۔ پچھلے ہفتے تو تم اس کی بڑی تعریفیں کر رہے تھے کہ اس میں وٹامن اے‘ بی‘ سی‘ڈی۔۔۔ ہوتے ہیں اور آج کہہ رہے ہو کہ بڑی فضول سبزی ہے‘ آفیسر نے مسکراتے ہوئے اور شرارتی لہجے میں پوچھا۔ شلغم کو گولی ماریں جناب‘ اس سے ہمارا کیا لینا دینا‘ آپ تو خوش ہو گئے ناں‘ آج بھی اور اس دن بھی‘ ہم نے تو آپ کو خوش رکھنا ہے‘ میس انچارج نے جواب دیا۔

گمان کیا جا سکتا ہے کہ وہ ایک نظریاتی اور مخلص کارکن تھالیکن اسے گلہ ہے کہ اتنی وفاداری کے باوجود پارٹی قیادت نے اس کی قدر نہیں کی۔ بقول موصوف کے‘ اس نے ہمیشہ پارٹی قیادت کی ہاں میں ہاں ملانے کی بجائے حقائق کو مدنظر رکھتے ہوئے سود مند اور مخلصانہ نقطہ نظر کو ترجیح دی جس میں پارٹی کا وسیع تر مفاد ہو لیکن خوشامد ی اور مفاد پرست ٹولے نے ہمیشہ اس کی مخالفت کی اور پارٹی قیادت کا منظور نظر بننے کے لیے ان کی پسند کے مطابق مشورہ دیا۔ موصوف شاید بادشاہت کی تاریخ سے ناآشنا ہیں‘ انہیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ بادشاہ ہمیشہ خوشامدی لوگوں کو پسند کرتے ہیں اور ناقدین کو سولی چڑھاتے ہیں‘ اسی لیے خوشامدی کو آج بھی درباری سے تشبیہہ دی جاتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بادشاہوں نے خوشامدیوں ‘چاپلوسوں اور پالشیوں کی باتوں میں آ کر اپنے مخلص ترین ساتھیوں کو قتل کروایااور بعد میں حقیقت جان کر پچھتاوے کا سامنا کیا۔ جناب آپ کو پہلے ہی سمجھنا چاہیے تھا کہ آپ کی پارٹی میں جمہوریت نہیں بادشاہت ہے۔ پارٹی کو ادارہ بنانے کی بجائے اپنی جاگیر بنایا گیا‘ بادشاہ تخت پر اپنے خاندان کے علاوہ کسی کو نہیں دیکھ سکتا۔

باپ کے بعد بیٹا‘ بیٹی ہا خاندان کا کوئی دوسرا فرد جمہوری طریقہ کار کو نظر انداز کر کے پارٹی قیادت سنبھال لے تو اسے جمہوریت نہیں بلکہ بادشاہت کہتے ہیں اور حمایتیوں کو غلام یا ملوکیت پسند کہا جاتا ہے۔ آپ جیسے لوگ شایدملوکیت پسند جماعتوں کے لیے نہیں بنے جہاں صرف غلامانہ ذہنیت کے حامل لوگوں کا راج ہو سکتا ہے جنہیں صرف اپنے مفادات اور دنیاوی لذتوں سے غرض ہوتی ہے نہ کہ کسی نظریے و اصول کی اور ایسے لوگ ہمیشہ چڑھتے سورج کے پجاری ہوتے ہیں اور کسی کے ساتھ مخلص نہیں ہو سکتے۔ کبھی آمریت کے حامی اور کبھی معافی مانگ کے آپ کے ساتھ اور پھر کسی تانگہ پارٹی میں نظر آ رہے ہوتے ہیں۔ مداحی اور خوشامد‘ اخلاق کی پستی ‘ دنائت اور ذلت کی علامت ہے اور ساتھ ہی جھوٹ کی بھی ایک صورت ہے اور یہ اس کے لیے بھی تباہی کا سامان ہے جس کی مداحی اور خوشامد کی جاتی ہے۔ مداحی اور خوشامد کرنے والا تین گناہوں کا مرتکب ہوتا ہے ‘ ایک تو یہ کہ وہ ایسی تعریفیں کرتا ہے جو واقع کے مطابق نہیں ہوتیں‘ یہ جھوٹ ہے۔ دوسرایہ کہ وہ منہ سے جو تعریفیں کرتا ہے اس کو اپنے دل میں خود درست نہیں سمجھتا‘ یہ نفاق ہے۔ تیسرا یہ کہ دنیاوی فائدوں کے لیے ارباب قدر و جاہ کی خوشامدانہ تعریف کر کے ان کی اور لوگوں کی نظروں میں اپنے کو ذلیل و رسوا کرتا ہے‘ جس سے اس کی دنائت اور ذلت ظاہر ہوتی ہے۔
بے جا تعریفوں سے ممدوح میں بھی دو برائیاں پیدا ہو جاتی ہیں‘ ایک غرور اور دوسری اپنی نسبت غلط فہمی‘ تعریفیں سن کر وہ خوش ہوتا ہے اور پھر اپنے اس مفروضہ کمال یا مبالغہ آمیز بیان پر مغرور ہو کر دوسرے کو  خاطر میں نہیں لاتا اور پے در پے تعریفیں سن کر اس کو یقین آ جاتا ہے کہ وہ واقعی ایسا ہی ہے اور توقع رکھتا ہے کہ ہر شخص اس کو ایسا ہی سمجھے۔بادشاہوں‘ امیروں‘ دولت مندوں اور بڑے لوگوں میں اس کی بدولت جو مضحکہ انگیز برائیاں پیدا ہو جاتی ہیں اور جس طرح وہ برخود غلط ہو جاتے ہیں اس کی نظیر تاریخ کے ہر دور میں مل سکتی ہے۔
بہت سی احادیث میں بھی خوشامدو مداحی سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔ایک دفعہ آپﷺ نے ایک شخص کو دوسرے کی مبالغہ آمیز تعریف کرتے ہوئے سنا تو فرمایا تم نے اس کو برباد کر دیا۔ایک اور موقع پر ایک صاحب نے کسی کی حد سے زیادہ تعریف کی تو فرمایا’’ تم نے اپنے ساتھی کی گردن ماردی‘ اگر تم کو کسی کی تعریف ہی کرنی ہو تو یوں کہو کہ میں یہ گمان کرتا ہوں بشرطیکہ اس کے علم میں وہ واقعی ایسا ہواور قطعیت کے ساتھ غیب پر حکم نہ لگایا جائے‘‘۔ایک اور بات یہ ہے کہ ایسی تعریفیں جو لوگوں کے منہ پر کی جاتی ہیں ان کو سن کر ان کے نفس پھول جاتے ہیں اور ان کی اپنے عیب و ہنر پر نظر ڈالنے والی آنکھوں کی روشنی زائل ہو جاتی ہے۔ ایک دفعہ ایک شخص نے خلیفہ سوم حضرت عثمانؓ کے منہ پر ان کی تعریفیں کیں‘ تو حضرت مقدادؓ صحابی نے اس کے منہ میں خاک جھونک دی اور فرمایا ’’ رسول اللہﷺ نے فرمایاہے کہ مداحی کرنے والوں سے ملوتو ان کے منہ میں خاک جھونک دو‘‘۔ ایک دفعہ آپﷺ مسجد میں تشریف لے گئے تو دیکھا کہ ایک شخص نماز پڑھ رہا ہے ‘ آپ نے کسی سے پوچھا کہ یہ کون ہے تو اس نے اس کی بڑی تعریفیں شروع کیں‘ آپ نے فرمایا ’’ اس کو سنا کر مت کہو کہ اس کو برباد ہی کر دو‘‘۔

مرِزا مدثر نواز
مرِزا مدثر نواز
پی ٹی سی ایل میں اسسٹنٹ مینجر۔ ایم ایس سی ٹیلی کمیونیکیشن انجنیئرنگ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *