ادھوری دعا ۔۔۔ثوبیہ چوہدری

گاڑی بل کھاتی ہوئی سڑکوں پر رواں تھی ۔ ہلکی بوندا باندی نے ماحول کو اور بھی حسین بنا دیا تھا ۔وہ اپنے آپ کو یہ یقین دلا رہی کہ سچ میں وہ اس کے ساتھ  ہے ۔
وہ سفید شلوار سوٹ میں بہت شاندار  لگ رہا تھا کیا سچ میں یہ میرا ہے وہ اسے انجانے میں دل دے بیٹھی تھی ۔ پسند تو وہ اسے پہلے بھی کرتی تھی پر اب اس کے اتنے قریب آنے کے بعد سب کچھ ہار بیٹھی تھی ۔ وہ تھا ہی اتنا اچھا ۔ دھیمے لہجے میں اس طرح بات کرتا تھا کہ دل کرتا  سنتے جاؤ   اور اس کی نظریں ۔۔۔۔ زمل کو اندر تک ہلا کر رکھ دیتی تھیں  ۔ ایک کانچ کی گڑیا کی طرح اس کا خیال رکھتا تھا ۔ ۔۔۔

ارحم اس کا کولیگ تھا وہ ایک دوسرے کو دو سال سے جانتے تھے ۔ جب زمل نے جوائن کیا تو ارحم سے اس کی اتنی بنتی نہیں تھی وہ بس ہر وقت فی میل کولیگز کے ساتھ ہنسی مذاق میں لگا رہتا ۔ آفس کی لڑکیاں اس کے بارے میں اچھی رائے نہیں رکھتی تھیں لیکن اس کے باوجود اس سے ہنس ہنس کر باتیں بھی کرتی تھیں ۔

زمل کو ان کا دہرا معیار کبھی سجھ نہیں آیا۔ ہر کوئی روز ایسے تیار ہو کر آتی کہ وہ ایک بار بس  وہ اس کی تعریف کر دے اور وہ بھی سب کی باری باری علیحدہ سے تعریفیں کرتا ۔ اور وہ سب کھل جاتی تھیں ۔جب عورت خود اپنی عزت نہ کرانا چاہے تو پھر مرد کو الزام کیوں دیتی ہے ۔۔۔۔
عورت کیوں بھوکی ہوتی ہے  ان سب لوازمات کی ۔ وہ صرف کچھ جملوں ، چند تحائف اور تھوڑی سی جھوٹی توجہ کو اپنی قیمت کیوں سمجھ لیتی ہے ۔

شروع میں اس نے زمل سے بھی فری ہونے کی کوشش کی لیکن زمل کا سرد رویہ دیکھ کر وہ زیادہ فری نہیں ہوا اس کا مطلب مرد کو بھی اپنی عزت اتنی ہی پیاری ہوتی ہے جتنی عورت کو ۔۔۔ عورت اگر چاہے تو مرد کی جرات نہیں ہو سکتی کہ وہ اسے تنگ کرے ۔
مرد اپنی فطرت سے مجبور ہوتا ہے تو عورت کو چاہیے  کہ وہ خود سے اس کی فطرت کو بڑھاوا نہ دے ۔تو وہ کبھی بھی حد سے نہیں گزرے گا ۔۔۔

ارحم بھی اپنی فطرت سے مجبور گاہے بگاہے کوشش کرتا رہتا ۔ کبھی اس کی تعریف کر دیتا ۔ کبھی کسی موضوع پر آفس میں بحث ہوتی تو زمل کی سائیڈ لیتا ۔ اس کی نظروں میں بہت سے سراہنے کے پیغام بھی ہوتے تھے جو زمل بغیر پڑھے اسے واپس بھیج دیتی کہ وہ شادی شدہ تھا اور وہ اس سے دور رہنا چاہتی تھی ۔

ایک دفعہ آفس میں ایک تقریب پر کافی دیر ہو گئی تو ارحم اسے اور مناہل کو چھوڑنے آیا ۔ راستے میں وہ مناہل سے کافی موضوعات پر باتیں کرتا رہا اسے شاعری سے لگاؤ تھا اور کافی لٹریچر بھی پڑھ چکا تھا ۔ زمل ان کی باتیں سنتی رہی وہ اسے اچھا خاصا معقول لگا وہ جو اسے لاابالی سا سمجھتی تھی لیکن وہ تو کافی سنجیدہ تھا مناہل کو چھوڑنے کے بعد وہ اکیلی گاڑی میں تھی ۔ اس نے زمل سے بھی اس کی ہوبیز کا پوچھا چونکہ زمل کو بھی کتابیں پڑھنے کا شوق تھا تو یہ واحد مشترک شے تھی دونوں میں ۔ پہلے تو زمل خاموش رہی پھر اس نے بھی کچھ کتابوں کا حوالہ دیا جو اس نے پڑھی ہوئی تھی ۔

یہ وہ پہلی باقاعدہ گفتگو تھی جو ان کے درمیان ہوئی ۔ اگلے دن ارحم اس کے لئے ایک کتاب لے کر آیا ۔ زمل کے پسند کے رائٹر  کی تھی وہ بہت خوش ہو گئی ۔ تو کتابیں ان کے درمیان باتوں کی وجہ بنتی چلی گئیں ۔ وہ اسے اچھا لگنے لگا تھا ۔ جیسا وہ نظر آتا تھا ویسا بالکل نہیں تھا یہ اس کے ساتھ وقت گزارنے کے بعد پتا چلا ۔ وہ اکثر کھانے پر چلے جاتے تھے ۔ ارحم سے اس کی قربت بڑھتی چلی گئی۔

ابھی ان کی شادی کو کچھ ہی دن ہوئے تھے لیکن ایسا لگتا تھا کہ وہ برسوں سے جانتی ہے  ۔ ایک پل کی بھی دوری اس سے اب برداشت نہیں ہوتی تھی ۔ وہ ہر پل اس کے ساتھ رہنا چاہتی تھی ۔ اسے اپنے آپ پر حیرت تھی کہ وہ جو کبھی بھی مردوں کو خاطر میں نہیں لاتی تھی اور شادی سے پہلے ہی اس نے ارحم کو کہہ  دیا تھا کہ وہ کسی قسم کی روک ٹوک کی عادی نہیں لیکن یہ کیا ہو گیا اب شادی کے بعد کیسا جادو کر دیا تھا اس پر وہ جو کہتا زمل ویسے ہی کرتی ۔ جو کہتا وہی کھاتی، اسے سبز رنگ پسند تھا زمل یہ رنگ بہت کم پہنتی تھی لیکن اب اس کا ہر دوسرا سوٹ سبز رنگ کا ہوتا ۔ اسے یہ سب بہت اچھا لگ رہا تھا اور اس کی ذات میں یہ تبدیلی ارحم کی وجہ سے آئی تھی ۔

راستے میں ارحم نے اس کے لیے گانا بھی گایا ۔ وہ اپنے آپ کو دنیا کی خوش قسمت ترین عورت تصور کر رہی تھی یہ غرور اسے ارحم کی محبت نے دیا تھا۔ وہ بھی دیوانہ وار اسے چاہتا تھا ۔ اس کی باتیں اتنی گہری ہوتی تھیں ۔۔۔۔تم کیسے میری زندگی میں آئی میں نہیں جانتا لیکن اب تم میری زندگی بن گئی ہو ۔ میں کبھی  بھی کسی عورت کے اتنا قریب نہیں آیا لیکن تم اک ایسی جھیل ہو جس کی گہرائی میں مکمل اترنے کو دل کرتا ہے  ۔ جس میں پھوٹتے چشمے مجھے سیراب کر دیتے ہیں ۔ تمہاری خوشبو     ہر  وقت  میرا احاطہ کیے رکھتی ہے ۔ میں ان بولتی آنکھوں سے ہر وقت باتیں کرنا چاہتا ہوں ۔

ان کی منزل بھی آگئی  ۔ مظفرآباد میں کافی ٹھنڈک تھی ۔ ان کا کمرہ بک تھا ۔ کمرے میں آنے کے بعد ارحم نے اسے اپنے سینے سے لگا لیا ۔ زمل شرماتے ہوئے اس کے ساتھ لگ گئی ۔ وہ ابھی اس کے ہونٹوں کو چھونے لگا تھا کہ روم سروس کی بیل بجی ۔ زمل ہنستے ہوئے پیچھے ہو گئی ۔  ارحم نے سامان رکھوایا  تب تک زمل فریش ہونے واش روم جا چکی تھی جب وہ واپس آئی تو  وہ  اسی کے انتظار میں تھااسےپاس کرکے دیوانہ وار چومنے لگا ، اس کی محبت کی گرمائش زمل کو پگھلا رہی تھی۔ اس کے لمس میں آب حیات تھا جو اسے زندہ کر دیتا ہے ۔ ارحم نے اسے بانہوں میں اٹھایا اور بیڈ پر لٹا دیا ۔ زمل نے اسے تنگ کرنے کے لئے بیڈ سے اترنا چاہا کہ میں تیار ہو جاتی ہوں باہر چلتے ہیں تو ارحم نے اسے اس طرح قابو کیا اور اس کے چہرے پر اپنا چہرہ جھکا کر بولا بہت شوق ہو رہا باہر جانے کا تمہیں ۔۔۔ اور میرا کوئی خیال نہیں کہ میں کتنا تڑپ رہا ہوں ۔ اور زمل اس کی بانہوں کی گرفت اور سانسوں کی حدت سے قطرہ قطرہ پگھلنے لگی ، کچھ فرار کا راستہ نہ ملا تو زمل نے بھوک کا بہانہ بنایا کہ موسم سچ میں آفت ہو رہا تھا ۔۔۔۔۔ارحم نے اس کی شرارت کو سمجھ کر اسے جانے دیا ۔۔اور وہ مسکراتی ہوئی شیشے میں اپنا آپ سنوارنے لگی ۔

محبت زورآور ہوتی ہے ۔ انسان پر پوری طرح مسلط ہونے کی طاقت رکھتی ہے اور اسے چاروں خانے چت کر دیتی ہے ۔ بس پھر اسی کا راج ہوتا ہے ۔ کل اختیار بن جاتی ہے ۔ جو چاہے کرواتی ہے  اور اگر یہ سب نہ ہو تو محبت میں جھول ہوتا ہے ۔۔۔۔
کیا اسے سچ میں محبت ہو گئی تھی ۔

اب اٹھ جائیں ،کیا سار ادن کمرے میں ہی رہیں گے ۔۔۔۔ میرا بس چلے تو تمہیں ساری زندگی بس اپنے پاس بیٹھا کر رکھوں ، ارحم نے اسے اپنے ساتھ لگا کر کہا ۔
چلیں نا نیچے کچھ کھانے چلتے ہیں مجھے بھوک لگی ہے  ۔۔
مجھے تو تمہیں دیکھ کر وہ بھی نہیں لگتی ارحم نے زمل کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا۔۔اچھا اب باتیں بس کریں زمل نے اس کے ہونٹوں پر انگلی رکھ  دی ۔چلیں اٹھ جائیں میں نے کپڑے نکال دئیے ہیں ۔ فریش ہو جائیں ۔۔۔جی حضور ،،جو حکم جناب کا ، ارحم اس کے گالوں کو چھوتا ہوا واش روم چلا گیا ۔۔۔
چائنیز , دیسی ، کانٹینٹل ہر انواع واقسام کا کھانا بوفے میں تھا ۔وہ سائیڈ پر لگے ایک ٹیبل پر بیٹھ گئے ۔ زمل نے پوچھا کہ کیا کھائیں گے ۔۔

مرد اپنی مردانہ وجاہت اور رعب و دبدبہ کے ساتھ ہی اچھا لگتا ہے ۔زمل کو کبھی سمجھ نہیں آئی ایک عورت بیوی بن کر کیوں اس پر قابض ہونا چاہتی ہے ۔ کیوں اسے اپنا غلام بنانا چاہتی ہے جب کہ اللہ نے اس کو عورت سے برتر اور طاقتور پیدا کیا ہے ۔ وہ تو ایک پناہ گاہ ہے ایک مضبوط سہارا جو عورت کو زمانے کے طوفانوں سے بچاتا ہے تو وہ اس کی طاقت چھین کر اپنا رعب کیوں اس پر مسلط کرتی ہے ۔ عورت کو تو چاہیے کہ وہ اس کے ساتھ مل کر اس کی طاقت میں مزید اضافہ کرے نہ کہ اپنے آپ کو اس کے آگے طاقتور سمجھے اور اسے کمزور گردانے صرف اس لئے کہ وہ اس سے جسمانی آسودگی حاصل کرتا ہے ، یا پھر وہ اسے اولاد دیتی ہے ۔ لیکن یہ دونوں چیزیں بہرحال مرد کے بغیر عورت کے لئے بھی ناممکن ہیں ۔۔

زمل کو اس کا ہر کام کرنا اچھا لگتا تھا اور وہ بھی ایک لاڈلے بچے کی طرح اس سے لاڈ اٹھواتا تھا ۔ ہال میں بیٹھے ارحم کی فرمائش تھی کہ وہ اسے کھانا اپنے ہاتھوں سے کھلائے ، زمل نے پہلے تو سوچا کہ اتنے لوگوں میں کچھ عجیب سا لگے گا ۔۔۔لوگوں کی پروا کیوں کرے ۔ ارحم نے اتنی محبت سے کہا تو وہ لوگوں کی پروا کی خاطر اس کی محبت بھری خواہش کو کیسے رد کر دے ۔ وہ چھوٹے نوالے بنا کر اسے کھلانے لگی اور وہ مزے سے کھاتا رہا ۔ اور اس احساس کو انجوائے کرتا رہا کہ کوئی ہے جس کو صرف اس کی پروا ہے ۔
بعض اوقات ہم غیروں کی پروا کرتے ہوئے اپنے دل کے قریب لوگو کی پرواہ   چھوڑ دیتے ہیں ۔۔
ارحم سے اسں کا نکاح بھی عجیب حالات میں ہوا تھا ۔
بھائی نے پہلے تو بہت اعتزاض کیا ۔ اپنے خدشات ظاہر کیے کہ ایسی دوسری شادیوں کا انجام اچھا نہیں ہوتا ۔ اور یہ محبتیں صرف وقتی ہوتی ہیں جیسے ہی خاندان میں پتا چلتا ھے تو مرد مجبوریوں کا سہارا لے کر چھوڑ دیتا ہے ۔ یہ ہی بات مناہل جو اس کی کولیگ تھی   نے بھی سمجھائی تھی کہ ارحم کی شخصیت بھی لاپروا سی ہے وہ شاید یہ رشتہ نبھا نہ سکے ۔ لیکن زمل کا دل کچھ اور گواہی دے رہا تھا اسے ارحم میں سچائی نظر آتی تھی اور ویسے بھی جہاں بھی شادی کرتی ساری زندگی ساتھ نبھانے کی گارنٹی تو کسی کے پاس نہیں تھی ۔ یہ ہی بات اس نے اپنے بھائیوں سے کی ۔ تو بھائیوں نے بھی وقت اور حالات کی نزاکت سمجھتے ہوئے اپنا بوجھ اس شرط پر اتارنے کی بات کی کہ ارحم جلد ہی موقع دیکھ کر خاندان کو آگاہ کر دے گا اور زمل کو بھی اپنے والدین کے ساتھ رکھے گا اور اپنی پہلی بیوی کی طرح سارے حقوق پورے کرے گا ۔۔۔۔۔جو ارحم نے تابعداری سے مان لی کہ وہ بھی یہ ہی چاہتا تھا ۔ویسے بھی وہ اب عمر کے اس حصے میں تھی کہ یہ رسمی شرائط نہ بھی کی جاتی تو بھی ٹھیک تھا ۔ پہلے ہی بہت دیر ہو چکی تھی ۔ ماں باپ کی وفات کے بعد پہلے بھائیوں نے اس کی شادی کے بارے میں سوچا نہیں اور اپنی دنیا میں مست جیتے رہے وہ صرف گھر میں ایک آیا کی طرح ان کے بچے سنبھالتی اور گھر کے کام کرتی جس کے  بدلے  اسے اچھا کھانا مل جاتا تھا باقی زندگی کی ضروریات پر نہ تو اس کا حق تھا اور بقول بھابھیوں کے نہ اسے اور کسی شے کی ضرورت ۔

اور سچ ہی تھا کہ خواہشات اور ضدیں تو والدین پوری کرتے ہیں۔۔پھر اس نے جاب کر لی تو بھائی جو پہلے بے فکر تھے تو بلکل ہی انجان ہو گئے ۔۔کھانا کھانے کے بعد وہ لان میں بیٹھ گئے ۔ اسے گھاس پر بیٹھنا اچھا لگتا تھا تو زمل کرسی کی بجائے مزے سے نیچے بیٹھ گئی ۔ ارحم بھی آرام سے اس کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا ۔ ارد گرد رنگ برنگے پھولوں کی کیاریاں تھیں ۔ دور پہاڑوں کی چوٹیاں نظر آرہی تھی ۔ بادل آسمان پر برسنے کو تیار بیٹھے تھے شاید وہ بھی اس حدت کو محسوس کر رہے تھے جو زمین کو گرما رہی تھی ۔۔۔۔۔
کافی دیر وہ اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتی رہی ۔ ارحم کو بہت سکون مل رہا تھا اسے لگ رہا تھا کہ میلوں کی مسافت کے بعد اسے آرام ملا ہو ۔ وہ کب سے بھٹک رہا تھا اس لمس کے لئے ۔ ناجانے کیا تھا اس کے لمس میں کہ وہ پاگل ہو جاتا ہے ۔ اس کی شادی کو 7 سال ہوگئے تھے اس کی ایک بیٹی بھی تھی ۔ زمل پہلی عورت نہیں تھی جو اس کی زندگی میں آئی تھی ۔ شادی سے پہلے بھی اس کی بہت سی دوست تھیں ۔ وہ اپنے آپ کو نہ  تو شریف کہتا تھا اور نہ سمجھتا تھا اپنی مرضی سے جینے کا عادی تھا  ۔

لیکن زمل کی محبت نے اسے یکسر بدل دیا تھا اسے ایسا لگتا تھا یہ دنیا کی پہلی عورت ہے جسے اس نے چھوا ہو ۔ اتنا تو وہ اپنے پہلے ہنی مون پر اپنی بیوی کے قریب نہیں آیا جتنا وہ زمل کے ساتھ تہ در تہ بھیدوں میں کھلا ہے ۔ اپنی ان خوشیوں کو حا صل کیا جن کی وہ تلاش میں تھا اسے لگتا تھا کہ اب شاید وہ اسے کبھی ملے گی بھی نہیں اور ایسے ہی زندگی ناآسودہ گزر جائے گی ۔
لیکن یہ کیسا لمس تھا کہ جو اسے بے قابو کر دیتا تھا ۔ اس کی ایک ایک رگ تن جاتی تھی ۔ اس لمس کی مدھم حدت اس کے بدن کو آہستہ آہستہ سلگاتی  تھی ۔اور وہ اس آگ میں مکمل جلنا چاہتا تھا ۔ بھسم ہونا چاہتا تھا
اپنا آپ اس کے سپرد کرنا چاہتا تھا ۔ وہ بھی اسے سمیٹ لیتی تھی ۔ اس کے بکھرے وجود کو خود میں سمو  کر اسے پرسکون کر دیتی تھی ۔

صبح انہیں وادی نیلم جانا تھا ۔ زمل بہت سال پہلے یونیورسٹی کے ٹرپ کے ساتھ آئی تھی اس وقت اس کے دل میں یہ حسرت جاگی کہ کبھی وہ کسی شہزادے کے ساتھ ان وادیوں میں آئے تو آج اس کے دل کا شہزادہ اس کے ساتھ تھا ۔
یہ وادیاں کیا اتنی ہی حسین تھیں جتنی آج لگ رہی تھیں ۔ یہ جھرنے کیا ایسے ہی شدت سے بہتے ہیں کہ ان کے پانی کی روانی آج تیز ہوئی تھی ۔ سڑک کے ساتھ ساتھ چلتا نیلم کا دریا اتنا ہی شانت تھا یا آج انہیں دیکھ کر پرسکون ہو گیا ۔ یہ جو بادل امڈ امڈ کر آرہے تھے کیا ان کے سواگت کے لئے تھے ۔یہ پہاڑ ، سبزہ، کنواری دوشیزہ کی کمر کی طرح بل کھاتی سڑک ، کہیں کہیں چمنیوں سے اٹھتا دھواں اور مٹی کی خوشبو ۔۔

ہاں۔۔۔ یہ کائنات ان کی محبت کی گواہ بن رہی تھی ۔
باتیں کرتے سفر کا پتا ہی نہیں چلا اور وہ جاگران پہنچ گئے ۔ ایک لائیں میں بنے واپڈا کے چھوٹے اپارٹمنٹ اور ان کے آگے لمبی سڑک ، دور سے آتی پانی کی آواز اور برف پوش پہاڑیاں یہ سب مل کر منظر کو انتہائی خوبصورت بنا رہے تھے ۔ چاند اپنے جوبن پر تھا اور ان دونوں کی محبت تو چودہویں کے چاند سے بھی زیادہ چمک رہی تھی ۔۔۔دس دنوں کا پتا بھی نہیں چلا کیسے گزر گیا وہ جاگران سے کٹن پھر اپر نیلم ،کیل اور تاؤبٹ گئے ۔ دن رات کا لمحہ لمحہ اک دوسرے کی بانہوں میں گزارا ۔جس دن ان کی واپسی تھی تو زمل بہت اداس تھی کہ آج وہ جدا ہو جائیں  گے بہرحال ارحم کو گھر واپس جانا تھا ۔ جیسے ہی صبح اس کی آنکھ کھلی تو اس نے ساتھ سوئے ارحم کے کان میں سرگوشی کی ” میں نے آپ کے ساتھ ہر لمحہ میں ایک ایک زندگی جی لی ہے ۔ مجھے اب اور کچھ نہیں چاہیے ۔ جب آپ نہیں ہوگے تو ان گزرے پلوں میں سے زندہ رہنے کے لئے حصہ نکالوں  گی . اس کے علاوہ کیسے جی سکو گی “
زمل کی آنکھیں بھیگ گئیں ۔ ارحم نے  اسے پیار کیا اور کہنے لگا جو وقت تمہارے ساتھ گزرا وہ سب سے انمول تھا اب تم سے کیا مجھ سے ہی نہیں رہا جانا   اور اسے  اپنے ساتھ لگا لیا ۔۔
واپسی کا سارا راستہ عجیب سی اداسی رہی ۔ ایک دوسرے سے جدا ہونے کا دکھ تھا ۔ ارحم نے وعدہ کیا تھا کہ وہ گھر جا کر بتا دے گا اور چند دنوں بعد اسے ساتھ لے جائے گا ۔ اسی آسرے پر تھی لیکن ایک انجانا سا ڈر بھی تھا کہ اگر وہ نہ مانے اور وہ اپنی پہلی بیوی کو نہ  منا  سکا تو کیا ہوگا ۔۔۔۔
جب اس کی آنکھ کھلی تو درد کا شدید احساس جاگا۔ابھی غنودگی تھی وہ دوبارہ بے ہوش ہو گئی ۔ بعض اوقات لاعلمی بہت بڑی نعمت ہوتی ہے ۔ دو دن بعد اسے ہوش آیا تو وہ ہاسپٹل میں تھی ۔ نیچے مظفرآباد آتے ہوئے ایک موڑ مڑتے ہوئے آنے والی گاڑی کے ساتھ ان کی گاڑی ٹکرا کر نیچے کھائی میں گرنے لگی ۔ ارحم نے اس کا ہاتھا ہوا تھا ۔ درد سے کراہتے ہوئے اس کے منہ سے صرف ارحم نکلا ، ارحم ،ارحم
وہ ڈاکٹر  سے بار بار ارحم کا پوچھ رہی تھی اور ڈاکٹر  کچھ بتا نہیں رہی تھی ۔ کچھ دیر کراہنے کے بعد وہ پھر بے ہوش سے ہوگئی۔۔۔

زمل ،ارحم نے اسے پکارا
اس نے مڑ کر دیکھا تو وہاں کوئی نہیں تھا ۔
تین ماہ ہوگئے تھے اسے گئے ہوئے ۔ لیکن اس کی ہنسی ، شرارتیں ، والہانہ پن ، پیار بھری سرگوشیاں ، دیوانہ وار اسے چومنا ، ہر بات میں اپنی منوانا سب کچھ تو یہیں تھا ۔زمل آسمان کی طرف دیکھتے اس سے باتیں کرتی رہتی ۔ رات کے پچھلے پہروں میں سسکیاں لیتے جب زمل کی آنکھ کھلتی تو وہ اسے چومنے لگتا ، بالوں میں ، کبھی ہونٹوں پر اور کبھی  ماتھے پر اور   اس کی سسکیاں آہوں میں بدل جاتیں  تکیے کو بھگوتی چلی جاتی اور زمل یہ ہی پکارتی جب چلے جانا تھا تو میری زندگی میں کیوں آئے۔ مجھے ان پناہوں کا احساس کیوں دیا ۔اپنے لمس کی مہر میرے جسم کے ہر حصے پر کیوں ثبت کی ۔ کیوں مکمل کر کے بھی ادھوری چھوڑ گئے ۔
ارحم ، تم نے تو کہا تھا مجھے جلدی ساتھ لے جاؤ گے ۔ تم بے وفا ہو اپنا وعدہ پورا نہیں کیا ۔۔۔۔
جواب کہا سے آتا۔۔۔۔اس کا عشق ، اس کی زندگی کی ہر خوشی ، اسے محبت سکھانے والا اس کا ارحم اسے چھوڑ کر دور آسمانوں میں جا بسا تھا ۔۔

زمل کے وجود میں ایک نئی زندگی کی کا جیتا جاگتا احساس چھوڑ کر خود جا چکا تھا ۔۔وہ زمل کو چھیڑے جا رہا تھا اور وہ مسلسل شرما رہی تھی جب زمل نے اسے روہانسی ہو کر کہا کہ جب وہ واپس گھر چلا جائے گا تو وہ اداس ہو جائے گی اور اسے کیسے اپنے پاس بلائے گی اس کے پاس تو صرف یادیں ہی ہونگی ۔ تو ارحم نے اسے تنگ کرتے ہوئے کہا کہ ایسا کرتے ہیں تم میری کوئی نشانی پاس رکھ لو جب دل کرے اسے دیکھ لیا کرنا ۔ تو زمل حیرت سے بولی ”اچھا وہ کیا ہے جو مجھے آپ کا احساس دلائے کے ہر پل میرے ساتھ ہو “
ارحم نے بڑے لاڈ سے کہا ” میرے جیسا ایک میرے وجود کا حصہ جو تمہارے وجود میں پلے میں رہوں یا نہ رہوں وہ میرا احساس بن کر تمہارے ساتھ ہو “
اور اس قدر بلش ہو گئی  کہ ارحم کتنی دیر اسے تکتا رہا ۔۔لیکن ساتھ ہی لڑنے لگی کہ ایسی باتیں کیوں کرتے ہیں ۔
اور آج حقیقت میں اس کی نشانی زمل کی کوکھ میں پل رہی تھی ۔ اسے جینا تھا اپنے آپ کو زندہ رکھنا تھا ۔ وہ اسے محسوس کر سکتی تھی اس سے باتیں کرتی تھی وہ سچ میں اس کے ساتھ ہی تھا ہمیشہ رہنے کے لئے ۔
آج بھی وہ الفاظ سرگوشیوں کی صورت میں اس کے کانوں میں گوبجتے ہیں ۔۔۔

” میں نے آپ کے ساتھ ہر لمحہ میں ایک ایک زندگی جی لی ہے  ۔ مجھے اب اور کچھ نہیں چاہیے ۔ جب آپ نہیں ہوں گے تو ان گزرے پلوں میں سے زندہ رہنے کے لئے حصہ نکالو گی۔اس کے علاوہ کیسے جی سکو گی “

وہ اک ادھوری دعا کی مانند ایسے زندگی میں معلق ہو گیا جو پوری ہو کر بھی ادھوری رہی ۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *