سایہ دار درخت کیوں گِر جاتے ہیں؟۔۔محمد شفیق

سایہ دار درحت کيوں گر جاتے ہيں

باپ ایسے کیوں مر جاتے ہیں

محبتوں کے ،پیار کے قافلے کیوں بچھڑ جاتے ہیں

جب باپ مرجاتے ہیں

آسماں کیوں گر جاتے ہیں

زندگی میں ایسے موڑ کیوں آتے ہیں

جب کوئی دعا پوری نہیں ہوتی

جب کوئی ندا آسماں سے نہیں آتی

تب باپ مر جاتے ہیں

پھر ایسا کیوں لگتا ہے کہ ہم پر

یہ آسماں کیوں گر جاتے ہیں

اک بار پھر سے قیامت کیوں نہیں آجاتی

کہ بچھڑوں سے جاملیں  پھر سے

میرے بابا کہاں سے ڈھونڈوں گا میں آپ کو

اب تو کچھ بھی نظر نہیں آتا

اب تو آنکھوں میں پانی بھی نہیں آتا

بابا کے جانے کے بعد

ایسا لگتا ہے دل تو ہے ،دھڑکن نہیں

سانس تو باقی ہے مگرزندگی نہیں

میری خاموش زبان بتا نہ سکی

میری محبت میرے بابا کو کبھی،

میں نہیں چاہتا تھا کبھی میرے بابا

خود کو کمزور سمجھیں ،اسی لیے انہیں میں

دور سے دیکھتا تھا ،

بس اتنا چاہتا تھا میں

کہ میرے بابا ہمیشہ ایسے لگیں

جیسے میرے بچپن میں دِکھتے تھے

مضبوط سایہ دار شجر کی طرح

مگر مجھ کو معلوم نہیں تھااندر سے

شجر کھوکھلا ہوچکا تھا

جب سے اس شجر کا ایک مضبوط تنا ٹوٹ کر گِرا تھا

نجانے کیوں مجھے اک ڈر سا لگتا تھا

کہ شجر صرف ایک طوفان کے انتظار میں کھڑا تھا

پھر آخر وہ طوفان چپے سے آگیا

اس شجرِ سایہ دار کو لے گیا

جس کے سائے میں ،مَیں کھڑا تھا

اس خاموش طوفان کے جانے کے بعد میری آنکھ کھلی

میں دھوپ میں کھڑا تھا

میرے سر کا سایہ دار درخت  جاچکا تھا

دور آسمانوں پر

اک ستارے کی طرح چمک رہا تھا

اور مسکرا رہا تھا اور کہہ رہا تھا

نہ رو میرے لال اک دن

جب پھر قیامت ہوگی

میں تجھ سے پھر آملوں گا

ادھر میں سوچتا ہوں

وہ قیامت کیوں نہیں آجاتی

جب میں پھر ان سے ملوں گا

گلے لگا کر ان سے کہوں گا

کہ میں ان سے کتنی محبت کرتا ہوں

نجانے کیوں ،مگر جاتے ہوئے انہوں نے

میرے ہاتھ کو پیار سے پکڑا اور کہا

تیری خاموش زبان بتادیتی ہے مجھے تیری محبت

میرے پیارے بیٹے تیری آنکھیں

بتادیتی ہیں مجھے تیری  محبت

تیرے دل کی دھڑکن

میرے پیارے بیٹے اپنے بابا سے اک وعدہ کرو

ابھی بس اتنا کام باقی ہے مجھے تم سے

تم دھیان رکھنا میرے اس جامن کا

اپنی ماں بہنوں کا،بھائیوں کا

بہت محنت سے سینچا ہے میں نے اس جامن کو

میرے بعد تم نہ رونا میرے لاڈلے

ورنہ تمہیں دیکھ نہ پاؤں گا

میں اوپر نیلے آسمانوں سے

باپ کیوں مر جاتے ہیں

سایہ دار درخت کیوں گر جاتے ہیں

آسماں کیوں گرجاتے ہیں

شفیق باپ کیوں مرجاتے ہیں !

مکالمہ
مکالمہ
مباحثوں، الزامات و دشنام، نفرت اور دوری کے اس ماحول میں ضرورت ہے کہ ہم ایک دوسرے سے بات کریں، ایک دوسرے کی سنیں، سمجھنے کی کوشش کریں، اختلاف کریں مگر احترام سے۔ بس اسی خواہش کا نام ”مکالمہ“ ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *