• صفحہ اول
  • /
  • نگارشات
  • /
  • سرور جہاں آبادی : اردو ہندی کی تہذیبی روایت کا منفرد شاعر۔۔۔احمد سہیل

سرور جہاں آبادی : اردو ہندی کی تہذیبی روایت کا منفرد شاعر۔۔۔احمد سہیل

پورا نام اور ولدیت: منشی درگا سہائے سرور جہاں آبادی ولد حکیم پیارے لعل سکسینہ
مقام اور تاریخ پیدائش: 1873۔ جہاں آباد، پیلی بھیت، یوپی، بھارت
مقام اور تاریخ وفات : 20 دسمبر 1910، دہلی، بھارت (عمر 37 سال)
شعری تصانیف :” خمخانہ سرور”۔۔۔۔۔۔ ” جام سرور”
ان کی شاعری میں اردو ہندی کا قدیم اسلوب اور رویوں کے ساتھ عصری حسیّت اور جمالیات کو بڑی مہارت سے اپنی شاعری میں سمودیا۔ان کے شعری جذبات اور اظہار میں پاکیزگی اور شستگی اور تازہ کاری بہت  ہے۔ انھوں نے سنجیدہ معاشرتی ، اساطیری، وجودی، لایعنی تناقص اور جنیاتی ( تاریخی) فکریات کو اپنے منفرد اور خلاقانہ اسلوب اور شعرانہ اظہاری تموج اور ایک جدید شعری لہجے کو دریافت کیا۔ اس جدید رنگ میں قدما کے کلام کی فکر، اسلوب ، اثر پذیری، بلند خیالی، اور الفاظ کے ایجاز اور اختصار نظر آتا ہے ۔ ان کی شاعری میں موضوعی سطح پر میر تقی میر، فانی بدایونی حزن ویاس ، قنوطیت، کرب حیات،دنیا کی بے ثباتی کے عمودی اور افقی آثار اور شدید حسی المناکی کی کیفیت ملتی ہے۔ اور یہی جوہر ان کی شاعری کی جمالیاتی سچائی اور حقیقت ہے۔ سرور کو انگریزی واجبی سی آتی تھی۔ انھوں نے اپنے تخلیقی اہلیت کے سبب اردو میں مضامین کو پوری قلب ماہیت کے ساتھ نفوذ  کیا۔ جس کو آج ہم ” آزاد ترجم” کہتے ہیں۔اس کی مثال ان کی نظمین، مرغابی، ترانہ خواب، بچہ اور ہلال کارزار، ہستی امید طفلی، موسم سرما کا آخری گلاب، بہر بہوٹی ہیں۔ انھیں ترجموں میں ایک “رتوسنگھا” کار اردو ترجمہ”اکسیر سخن ”  ہے  یہ ترجمہ سرور جہا ں آبادی نے بڑی فطانت سے کیا۔
برس گئے ہیں جع صحرا میں میٹھ کے جھالے
نکل گئے ہیں کناروں سے دہشت کے نالے
عجیب بوقلموں ہے فضائے بندھیاچل
ہرا بھرا نظر آتا ہے، دور تک جنگل
“اکسیر سخن”کو ایک شاعر پیارے لال شاکر میرٹھی کے نام سے 1913 میں نولکشور پریس لکھنئو چھاپا گیا۔ جو ایک بڑا ادبی سرقہ تھا۔ سرور ایک غریب اور ان کی زندگی مصیبت اور عسرت میں گذری۔اور معاشی بدحالی کا شکار رہے  اور وہ معاوضہ لے کر شاعری ناشاعر اور نااہل لوگوں کو فروخت کردیا کرتے تھے۔ سرور جہاں آبادی کثرت شراب نوشی کے سبب 37 سال کی عمر میں جہاں فانی سے رخصت ہوگئے

سرور جہاں آبادی شعری محاسن کو مواعظمی یا اصلاحی نظموں میں مقدم تصور کرتے ہیں۔ اور اپنے شعری اسلوب کو ابلاغ و ترسیل مقصد کے تابع نہیں ہونے دیتے۔ دیورا کہن، حسرت شباب، اندوہ غربت، مرغان قفس، یاد طفلی، بلبل کا فسانہ، حسرت دیدار، ناتم آرزو ، خاک وطن ، عروس حب وطن، حسرت وطن، یاد وطن، اور مادر ہند جیسی نظمیں حب الوطنی کی غمازی کرتی ہیں۔ سرور جیاں آبادی کی بہت سی نظموں میں مذہبی، اساطیری رنگ حاوی ہے۔ مثلا ً سیتا جی کی گریہ و زاری، مہاراجہ دسرتھ کی بے قراری ، بدمنی، نورجہاں کا مزار ، حسرت دیدار اور نلد منتی، گنگا جمنی پریاگ کا سنگم ۔۔۔۔ یہ تمام  نظمیں موضوعاتی ہیں مگر ان میں جذبات کی سچائی پوشیدہ ہے۔

سرور جہاں  آبادی نے شاعرانہ ہندی زبان ، لفظیات اور لہجہ اردو میں بڑے طریقے اور قرینے سے اپنی اردو نظموں میں سموئے۔ یوں لگتا  ہے  کی سرور جہاں آبادی نے شعوری اور ارادی طور پر یہ کوشش کی کہ اردو کو ہندی زبان کے قریب لایا جائے۔ لہذا یہ کہا جاسکتا ہے کی جب ہندو مذہب، اساطیر، تاریخ کو اپنا موضوع بنتے تھے ہندی کے الفاظ استعمال کرنا گریز تھا مگر ان کی صفت یہ تھی کی انھوں نے ہندی الفاظ بڑی فنکاری سے اردو شاعری میں شامل کردیا۔ بابو رام سکسینہ نے انھیں”فنانی الشعر” کہا تھا۔ منشی درگا سہائے سرور جہاں آبادی نے بھی سرور کائناتﷺ کی تعریف و توصیف میں سخن آرائی کی اور نعت کے موضوع پر ایک کتاب پرچہ درشانِ محمد مصطفیﷺ لکھی۔جو 1905ء میں منصہ مشہود پر جلوہ گر ہوئی اس کتاب سے ایک اقتباس پیشِ خدمت ہے ۔

دلِ بے تاب کو سینے سے لگالے آ جا
کہ سنبھلتا نہیں کم بخت سنبھالے آ جا
پاؤں ہیں طولِ شب غم نے نکالے آ جا
خواب میں زلف کو مکھڑے سے لگا لے آ جا
بے نقاب آج تو اے گیسوؤں والے آ جا
نہیں خورشید کو ملتا ترے سایے کا پتہ
کہ بنا نورِ ازل سے ہے سراپا تیرا
اﷲ اﷲ ترے چاند سے مکھڑے کی ضیا
کون ہے ماہِ عرب کون ہے محبوبِ خدا
اے دو عالم کے حسینوں سے نرالے آ جاببؤ!

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *