میں اور وہ۔۔۔داؤد ظفر ندیم

کراچی میں گزارا وقت زندگی کا اہم سرمایہ ہے میں جام شورو میں پڑھتا تھا اور وہ کراچی میں کسی کالج کی طالبہ تھی۔ ہوا یوں کہ جام شورو میں میری ایک کلاس فیلو نے ہم سب کلاس فیلوز کی دعوت کی اس دعوت میں اس نے کچھ سہلیوں کو بلایا تھا، انہی   سہیلیوں میں وہ بھی تھی ، اردو ادب کا خصوصا ً ناصر کاظمی کا بہت ذکر کرتی تھی میں اس زمانے میں ن م راشد کو پڑھتا تھا ،ناصر کاظمی کو میں کوئی شروعات کی چیز سمجھتا تھا اور اس کو زیادہ پڑھا بھی نہیں تھا صرف تھوڑا بہت غلام علی کی گائی ناصر کی غزلیں سنی تھیں احمد فراز اور پروین شاکر کو پہلے عشق میں پڑھا تھا پنجاب یونیورسٹی میں منیر نیازی پڑھا تھا اور اب ن م راشد کو پڑھ رہا تھا
اس نے مجھے بتلایا کہ ناصر کہتا ہے
خواب میں رات ہم نے کیا دیکھا
آنکھ کھلتے ہی چاند سا دیکھا
کیاریاں دھول سے اٹی پائیں
آشیانہ جلا ہوا دیکھا
فاختہ سرنگوں ببولوں میں
پھول کو پھول سے جدا دیکھا
اس نے منزل پہ لا کے چھوڑ دیا
عمر بھر جس کا راستا دیکھا
ہم نے موتی سمجھ کے چوم لیا
سنگ ریزہ جہاں پڑا دیکھا
کم نما ہم بھی ہیں مگر پیارے
کوئی تجھ سا نہ خود نما دیکھا

میں نے اس کی زبانی غزل سنی اور سوچا کہ یہ غزل اس موقع پر سنانا کوئی خاص وجہ ہوگی
میں نے بھی اسے ن م راشد کی ایک غزل سناڈالی
ترے کرم سے خدائی میں یوں تو کیا نہ ملا
مگر جو تو نہ ملا زیست کا مزا نہ ملا
حیات شوق کی یہ گرمیاں کہاں ہوتیں
خدا کا شکر ہمیں نالۂ رسا نہ ملا
ازل سے فطرت آزاد ہی تھی آوارہ
یہ کیوں کہیں کہ ہمیں کوئی رہنما نہ ملا
یہ کائنات کسی کا غبار راہ سہی
دلیل راہ جو بنتا وہ نقش پا نہ ملا
یہ دل شہید فریب نگاہ ہو نہ سکا
وہ لاکھ ہم سے بہ انداز محرمانہ ملا
کنار موج میں مرنا تو ہم کو آتا ہے
نشان ساحل الفت ملا ملا نہ ملا
تری تلاش ہی تھی مایۂ بقائے وجود
بلا سے ہم کو سر منزل بقا نہ ملا

اس کی باقی سہیلیاں اپنی اپنی مستی میں گم تھیں اور کہہ رہی تھیں چلو دو ادب پیاروں کو اپنے احوال پر چھوڑ دو۔۔۔۔
یہ ایک ابتدا تھی بات ناصر کاظمی اور ن م راشد سے شروع ہوئی اور مکیش اور رفیع تک جا پہنچی وہ مکیش کی عاشق تھی اس کے گانوں اور اس کی آواز کی دیوانی تھی جبکہ میرا خیال تھا کہ مکیش ایک ہی طرز کا محدود سا  فنکار ہے میں رفیع کی برتری کا قائل تھا مگر مجھے کشور کمار زیادہ پسند تھا۔
اس کے بعد ڈھیروں ملاقاتیں، مجھے معلوم ہوتا آج اس نے گھر والوں کو نارتھ ناظم آباد کی سہیلی کا بتایا ہے آج عائشہ منزل کی دوست کا، آج اس نے صفورا جانا ہے آج ملیر، مگر یہ سب بہانے ہوتے وہاں تو محض حاضری لگائی جاتی باقی وقت ہم سمندر کنارے گزارتے کہ سمندر ہم دونوں کو پسند تھا ایک شور اور خاموشی اور گہرائی اور سنجیدگی کے ساتھ شرارت کرتی پانی کی تیز لہریں  پھر وہ سکول میں پڑھانے لگ گئی اور میں سکول لگنے سے پہلے اور چھٹی ہونے کے بعد لازما ً وہاں موجود ہوتا اس نے سب کو بتایا کہ میں اس کا کزن ہوں۔
ایک دن اس نے مجھے بتایا کہ اس کا رشتہ آیا ہے اور گھر والے اس کی شادی کرنا چاہتے ہیں۔
میں نے کہا کہ میں جاؤں  اس نے کہا اس کے گھر والے کبھی نہیں مانیں گے کم از کم پنجاب سے گھر والوں کے ذریعے رشتہ مانگ لو۔۔۔
مگر میرے گھر والے بھی کہاں مان سکتے تھے
چلو یوں کرتے ہیں گھر سے بھاگ جاتے ہیں

میں نے کہا کیسے۔۔۔۔؟
اس نے کہا لاہور جا کر شادی کر لیتے ہیں ہم دونوں چھوٹی موٹی ملازمت کر لیں گے کچھ تمہارے دوست ساتھ دیں گے اور رفتہ رفتہ دونوں کے گھر والے مان جائیں گے
میں نے کہا مشکل ہے
اس نے کہا اس موقع پر بزدلی دونوں کی زندگی برباد کردے گی تم بھی بچوں کو پالنے لگ جاؤ  گے اور میں بھی بچے بنانے اور پانے کی مشین بن جائوں گی دیکھو ہم دونوں کی اپنی زندگی ہے اپنے خواب ہیں ہم اپنی زندگی نہیں گزار پائیں گے اور اپنے خوابوں کو اپنے ساتھ قبر میں لے جائیں گے دو انتہائی اعلی سطح کے اذہاں صرف تمہاری وجہ سے ایک اوسط زندگی گزارنے پر مجبور ہوجائیں گے
میں مسکرایا اور دکھ سے بولا سب کچھ ہماری مرضی سے نہیں ہوتا یہ تو تقدیر ہے
اس نے کہا اپنی بزدلی کو مقدر کے پردے میں مت چھپاؤ یہ زندگی کا فیصلہ کرنے کا وقت ہے تمہاری ذرا سی بہادری دو زندگیوں کو ضائع ہونے اور کولہو کا بیل بننے سے بچا سکتی ہے
مگر میرے پاس وہ حوصلہ نہیں تھا۔۔۔۔

وقت گزر گیا میں پنجاب کے کسی شہر میں ایک عام سی زندگی گزار رہا ہوں اور وہ کراچی میں اپنے بچے پال رہی ہے اپنے میاں کی سیوا کر رہی ہے اور کسی سکول میں اب بھی پڑھاتی ہے۔۔
ابھی گذشتہ سال ہم ایک مشترکہ دوست کی طرف ڈنر پر اکھٹے ہوئے کئی سال بعد ہم دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اسے اب بھی مکیش اور ناصر کاظمی پسند ہیں میں نے کہا کیسی گزر رہی ہے اس نے کہا کہ کسی کی بزدلی نے دو زندگیوں کو برباد کردیا!

دائود ظفر ندیم
دائود ظفر ندیم
غیر سنجیدہ تحریر کو سنجیدہ انداز میں لکھنے کی کوشش کرتا ہوں

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *