پانچ سالہ قومی عرس مبارک۔۔۔عبید اللہ چوہدری

 تمام تر آئینی اور انتظامی انتخابی اصلاحات کے باوجود 2018 کے انتخابات 2013 سے مختلف نظر نہیں آرہے۔ اس نتیجے پر پہنچنے  کی کئی ٹھوس وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ یہ کہ انتخابات سے کچھ عرصہ قبل یہ بات سامنے آئی کہ مردوں کے مقابلے میں12 ملین کم ہیں۔ صرف ایک عالمی ڈونر نے این جی اوزECP اور NADRA کے ذریعے 50 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے  کہ یہ فرق کم ہو سکے۔ مگر نئے ووٹرز کی رجسٹریشن کے بعد یہ فرق 12 ملین سے  کم ہے۔ تو یہ طے ہو گیا کہ قومی فیصلہ سازی میں عورتوں کی تعداد پہلے بھی کم تھی اب اور کم ہو گئی ہے تو 2018 کے انتخابات کیسے مختلف ہوئے!

دوسری وجہ یہ ہے کہ 2013 کے انتخابات میں طالبان کو یہ فرض سونپا گیا تھا کہ کس پارٹی کو الیکشن مہم چلانے دینی ہے اور کس کس کو روکنا ہے۔ اب 2018 میں محکمہ “زراعت” یہ طے کر رہا ہے کہ ملکی مفادات مخالف کس کس کھیت پر سنڈی مار سپرے کرنا ہے۔ اور کس کس زمیندار کو مثالی فصل پیدا کرنے پر انعام دینا ہے۔ 2013 کے مقابلے میں اب کی بار تحریک طالبان کی جگہ تحریک لبیک کو ٹھیکہ دے دیا گیا ہے۔ تو پھر 2018 کے انتخابات 2013 سے کیسے مختلف ہوئے۔

تیسری بات! آپ کو یاد ہو گا کہ 2013 میں ایک صاحب تھے جن کے جان نثار بے حد اور بے شمار تھے۔ کالے کوٹ والے سپاہیوں کی سربراہی میں جناب جسٹس افتخار محمد چوہدری نے اپنے رفیق خاص جسٹس رمدے کے ساتھ مل کر اس ملک سے کرپشن کا مکمل خاتمہ کر ہی دیا تھا کہ قوم کی آنکھ کھل گئی اب 2018 میں جناب جسٹس ثاقب نثار صاحب ہمرا جسٹس کھوسہ ایک بار پھر ملک کو کرپشن سے پاک کرنے کا عظیم کارنامہ سر انجام دینے میں مصروف ہیں۔ اس بار تو وہ کرپشن کا پیسہ کرپٹ لوگوں کے حلق سے نکلوا کر کالا باغ ڈیم بھی بنا کر دم لیں گے۔

مختصر یہ کہ 2013 میں بھی انصاف کا بول بالا تھا اور اب 2018 میں بھی انصاف کا ترازو بلند ہے۔ اس وقت بھی عدلیہ نے صاف اور شفاف انتخابات کروائے تھے  اور  اب بھی یہ نیک کام عدلیہ اور نیب کے ہاتھوں یا یوں کہہ  لیں کندھوں کے سہارے ہی پورا ہو گا۔ تو پھر فرق کیسا؟

اب چوتھی وجہ! 2013 کے انتخابی امیدواروں اور 2018 کے انتخابی امیدواروں کا مختصر موازنہ کر لیتے ہیں۔ مجھے تو انتخابی نشان بدلنے کے علاوہ کوئی فرق نظر نہیں آ رہا۔ اگر آپ کو نظر آئے تو عوام الناس کو ضرور اطلاع دے کر ثواب حاصل کریں۔ نگران حکومت، میڈیا اور الیکشن کمشن بھی ویسے  کے  ویسے ہی ہیں۔

اصل میں عام انتخابات اس ملک کا الیکشن کمیشن بابا کی سرپرستی میں سب سے بڑا 5 سالہ قومی میلہ ہوتا ہے۔ جس میں ریکارڈ دیگیں پکائی جاتی ہیں۔ جلسوں کے نام پر لکی ایرانی اور جوبلی سرکس لگتی ہے۔ موت کے کنویں میں کرتب دکھائے جاتے ہیں۔ دنگل سجتا ہے اور کشتیاں ہوتی ہیں۔ کئی پرانی دشمنیوں کا حساب برابر کیا جاتا ہے اور کئی اپنے اپنے لیے نئے رشتے بھی تلاش کر لیتے ہیں۔ اس سب میں الیکشن کمیشن کا وہی حال اور کردار ہوتا ہے جو زندہ بابا سائیں کا ہوتا ہے۔ یعنی اسے نوٹوں اور گلابوں کے ہاروں سے لاد کر کرسی صدارت پر بیٹھا دیا جاتا ہے۔ اس بیچارے سے یہ بھی کہہ نہیں ہوتا کہ اس کا دم نکل رہا ہے۔ بس وہ مسکرائے جاتا ہے اور اس کے چیلے اپنے اپنے کرداروں کو بخوبی نبھا کر عرس کے کامیاب انعقاد کا اعلان کر دیتے ہیں۔ اور ہر عرس کی طرح عوام کے حصے میں بریانی اور قیمے والے نان ہی آتے ہیں۔ اور یہ بات وہ اچھی طرح جانتے ہیں۔

عبیداللہ چودھری
عبیداللہ چودھری
ابلاغیات میں ماسٹر کرنے کے بعد کئی اردو اخباروں میں بطور سب اڈیٹر اور روپوٹر کے طور پر کام کیا۔ گزشتہ18سال سے سوشل سیکٹر سے وابستگی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *