پانامہ انکوائری اور وزیر داخلہ کی پریس کانفرنس کا انتظار

پانامہ جے آئی ٹی دراصل بے عزتی کا قسط وار سوپ ڈرامہ ہے جس کا احساس حکمران طبقے کو اب جا کر ہو رہا ہے۔ میں یہاں ہرگز سو پیاز اور سو جوتے والی مثال نہیں دینا چاہتا، ہو سکتا ہے کہ اگلے بندے کو یہ دونوں ہی پسند ہوں۔ مقافا ت عمل ہے ،کل جب پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے ارکان جے آئی ٹی میں پیش ہوتے تھے تو اگلے دن تمام میڈیا کو معلوم ہوتا تھا کہ اندر کیا ہوا۔ اگر یاد ہو تو اس بات کا بھی اعلان کر دیا گیا تھا کہ ڈاکٹر صاحب زرداری صاحب کے خلاف وعدہ معاف گواہ بن گئے ہیں۔ پھر نا جانے کیا ہوا اور آہستہ آہستہ وزیر داخلہ کی اس موضوع پر پریس کانفرسسز بھی ختم ہو گئیں۔ اب کی بار معاملہ تھوڑا مختلف ہے کیونکہ انوکھے لاڈلے پیش ہو رہے ہیں۔ اس لیئے تو فسٹ کلاس انتظامات بھی کئے گئے ہیں۔ یہ تو اب سب ہی کا خیال ہے کہ کالے میں کچھ کچھ دال ضرور ہے، سب کالا نہیں۔ ن لیگ اس پر خوش ہے اور اب دن رات اس کا پرچار کر رہی ہے کہ وہ بھی کالا ہے اور فلاں بھی تو کالا ہے۔تقریباً سب ہی کو اندازہ ہے کہ جے آئی ٹی سے اگر ’’سب اچھا ہے‘‘ کی رپورٹ نا آئی تو اس کے خلاف سول نافرمانی شروع کر دی جائے گی۔ دراصل ن لیگ کو اپنے خلاف کوئی بھی فیصلہ قبول نہیں۔ اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اپنے علاوہ انہوں نے ہر کسی کو اچھوت ڈکلئیر کر رکھا ہے۔ پی پی والے آسانی سے پی ٹی آئی میں جا سکتے ہیں، اور ایسے ہی پی ٹی آئی والے اب سب سے زیادہ آسانی سے پی پی میں جاسکتے ہیں۔زرداری صاحب کی سیاست کی خیر ہو۔ اب اللہ بھلا کرے ن لیگ والوں کے پاس یہ سہولت موجودہی نہیں۔ وہ صرف اور صرف ’’ق لیگ‘‘ میں ہی جا سکتے ہیں اور اسی انتظار میں چوھدری برادران نا جانے کب سے بیٹھے ہیں۔

کہا جاتا ہے کہ پاگل پن کی ایک نشانی یہ ہوتی ہے کہ ایک کام بار بار کیا جائے اور ہر بار اس سے مختلف نتائج کی توقع رکھی جائے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہوا کی جنہوں نے ماڈل ٹاؤ ن کی جوڈیشل انکوائری کو نہ مانا وہ سپریم کورٹ یا جے آئی ٹی کے فیصلے اور رپورٹ کو بھی نہیں مانیں گے۔ ویسے حکمرانوں کے حوصلے کو داد دینی پڑے گی۔ اتنی تذلیل پروف حکومت چشم فلک نے آج تک نہیں دیکھی۔ ابھی آگے اور بہت کچھ ہونے والا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس تذلیل سے خاندان کے باقی افراد اور سربراہ بھی فیض یاب ہوں، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ یہ سب غلط ہو جائے ( ہو بھی سکتا ہے پاکستانیوں کا کچھ پتا ہے، کب کیا کرشمہ کر دکھائیں) اور خان صاحب پھر دھرنوں پر نکل کھڑے ہوں۔ میرے پیٹ میں یہ سوچ کر ہی تتلیاں اڑنے لگتی ہیں کہ اس سب پر اور جے آئی ٹی کے خلاف ممکنہ تحریک کےموضوع پر چوھدری نثار اپنی شہرہ آفاق اور تاریخ ساز پریس کانفرنس کب کرتے ہیں۔

عبیداللہ چودھری
عبیداللہ چودھری
ابلاغیات میں ماسٹر کرنے کے بعد کئی اردو اخباروں میں بطور سب اڈیٹر اور روپوٹر کے طور پر کام کیا۔ گزشتہ18سال سے سوشل سیکٹر سے وابستگی ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *