رولا نہ ڈالیں، پلیز!

انعام رانا سے مجھے دوستی کا دعوی ہے۔ بقول خود انعام رانا کے، وہ راجپوت اور برج اسدکا مشکل سا امتزاج ہے۔ہر وقت آن لائن لیکن خندہ پیشانی سے ہر ایرے غیرے کو اس کی بات کا جواب دیتا ہے۔سچ تو یہ ہے کہ میری بھی دعا سلام ایسے ہی ہوئی تھی۔ انعام رانا سے اکثر ان باکس میں شکایت کی کہ مکالمہ کے کالمز میں ایک سے زیادہ تصاویر کی گنجائش ہونی چاہئے۔ جواب میں بس ایک ’ہوں‘ pop-up ہوتی ہے ۔ آج پھر یہی مشکل ہے۔ آپ کو کچھ تصاویر دکھانی ہیں۔ لیکن مکالمہ پر آپشن نہیں۔ لہذا ان کی تفصیل لکھ دیتا ہوں۔
لیکن ان تصاویر پر بات سے پہلے ایک لطیفہ یاد آتا ہے۔ ایک ’خاں صاحب‘ ہوائی جہاز کی پہلی بار سفر کر رہے تھے۔ ٹیک آف کے بعد پائلٹ کی آواز گونجی’ یہ آپ کا پائلٹ کیپٹن واصف آپ سے مخاطب ہے۔ ہم اس وقت دس ہزار فٹ کی بلندی پر ہیں۔ ‘ خان صاحب نے ایئر ہوسٹس کے آگے ہاتھ جوڑ کر کہا ’کپتان سے کہیں چاہے بیس ہزار فٹ کی بلندی پر لے جائے، لیکن ’رولا‘ نہ ڈالے‘
پہلی تصویر: بجلی کے بل کی آخری تاریخ۔ جون ، جولائی کی دھوپ میں کچھ مسکین بینک کے باہر قطار بنائے کھڑے ہیں۔ سٹیٹ بنک کی حکم کے مطابق ان کی لیے چھاؤں کا انتظام ہونا چائیے اور پینے کے پانی کا بھی۔ لیکن ایسا کچھ نہیں۔ اور تو اور، رخِ انور سے پسینہ پونچنے کے لیے ٹشو بھی نہیں۔یہ مسکین بالکل تضحیک محسوس نہیں کر رہے بلکہ بل جمع ہونے پر شکر کرتے واپس چلے جاتے ہیں۔
دوسری تصویر: مہینے کی اکتیس تاریخ ۔پنشن لینے کچھ بزرگ ریلوے ہیڈکواٹر کے باہر جمع ہیں۔ چند ایسے ہی ریٹائرڈ ملازمین صبح ساڑھے سات بجے نیشنل بنک کے باہر جمع ہو جاتے ہیں۔ مبالغہ نہیں، حلفاً گزارش کر رہا ہوں۔ الکاسب حبیب اللہ کی یہ تصویریں آپ کے میرے نہ سہی، کسی کے تو والد ہیں۔ اس دکھتی کمر کی ساتھ کھڑے انتظار کرتے ہیں۔ کوئی بیٹھنے کو کرسی نہیں دیتا۔ سو یہ سب بھی اگر اسی دن اپنے چند ہزار روپے حاصل کر لیں تو اللہ کا شکر کرتے ہیں اور تذلیل محسوس نہیں کرتے۔
تیسری تصویر: آپ اپنے بچوں اور اہلیہ سمیت ٹریفک سگنل پر کھڑے ہیں۔ گرمی کا موسم اپنی جگہ، سگنل پر کھڑی سب گاڑیوں کے انجن کی حرارت کا اپنا حصہ۔ لیکن سگنل کام نہیں کر رہا۔ اس کو بند کر کے چند مستعد اہلکار دوسری سڑک کا رستہ کھولے ہیں۔ عذاب کے چند منٹوں بعد ایک ہیوی بایئک، پھر ایک پولیس موبائل، اور پھر ایک کالی گاڑی فراٹے سے گزرے گی۔ لیکن آپ تضحیک محسوس نہیں کرتے۔ صرف پھول بچوں کا پسینہ نظر آتا ہے۔اشاروں پر اے۔ سی تو لگنے سے رہے۔
چوتھی تصویر: کچہری کے باہر برآمدے۔ سائل انتظار کر رہے ہیں۔ کوئی کسی ستون کی چھاؤں میں کھڑا ہے۔ کسی کو بنچ پہ جگہ مل جاتی ہے۔ کچھ مسکین درخت کے تنے سے ٹیک لگائے ہیں۔ باری آنے پر بھاگتے ہیں۔ بزتی محسوس کرنا دور، شاید اس لفظ، بلکہ اس concept سے بھی واقف نہیں۔
بس بس! اور کوئی تصویر نہیں۔ بس ایک گزارش ہے۔ ہمیں چاہے بیس ہزار فٹ کی بلندی پر لے جائیں، لیکن۔۔

کاشف محمود
کاشف محمود
طالب علم ہونا باعث افتخار ہے۔

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *