گیارہ جون ۔ وہی جنون ۔۔۔ نمرہ شیخ

دستور ہے کہ منظم سیاسی جماعتوں کی گود سے ان کے اسٹوڈنٹ ونگ یعنی طلباء تنظیمیں وجود میں آتی ہیں۔ روایات کو ڈھاتے ہوئے پہلی بار ایک طلباء تنظیم نے ایک منظم سیاسی جماعت کو تخلیق کیا۔

کامیابی کے 41 سال آپ سب کو مبارک ہو۔

۱۱ جون انیس ۱۹۷۸ کو بھی ایسا ہی ہوا۔ زبان کی بنیاد پر تعصب کرنے والوں کے خلاف چند طلباء کے گروپ نے آواز بلند کی جو کہ حق پر تھے۔ حق پرست تھے اس لیے چند دوستوں کے اس گروپ نے ایک طلبہ تنظیم کی شکل اختیار کر لی اور یوں اے پی ایم ایس او وجود میں آئی، ان تمام مظالم کے خلاف جو طلباء پر زبان کی بنیاد پر، مہاجر ہونے کی بنیاد پر کیے جاتے تھے جس کے بانی اور قائد جناب الطاف حسین بھائی ہیں۔ یہ طلباء تنظیم اسی شخص کا لگایا ہوا پودا ہے۔

وہ اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل
لوگ ساتھ آتے گئے کارواں بنتا گیا

اتنے سالوں تک جس شخص نے اس پودے کی دیکھ بھال کر کے تناور درخت بنایا اب کچھ لوگ اسی شخص سے قطع تعلق کر رہے ہیں۔ کیا یہ مناسب ہے کہ آپ گھر کے سربراہ کو بدل دیں جبکہ گھر بھی اسی کا بنایا ہوا ہو؟

۱۱ جون آل پاکستان متحدہ اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن کے ارتقاء کا دن ہے۔ ایم کیو ایم اپنے بانی کی کاوش کا نتیجہ ہے، پھر بغیر بانی و قائد کے آپ کیسے اور کیوں اسے اپنا کہہ رہے ہیں؟ جب آپ قائد سے قطع تعلق کر چکے ہیں تو ان کی تحریک آپ کی کیسے ہوئی؟

والدین حیات ہوتے ہیں تو کیا آپ ان کی زندگی میں ان سے قطع تعلق کر کے ان کی جائیداد پر اپنی مہر لگا سکتے ہیں؟

تو پھر کیسے آپ الطاف حسین کی بنائی ہوئی تحریک کو اپنا نام دینے پر تلے ہوئے ہیں؟

کرکے دیکھ لیں کوشش، الطاف حسین نام ہے سوچ کا نظریے کا جو نہ مٹ سکتا ہے نہ رک سکتا ہے پھر چاہے اس میں نیا خون آجائے یا پرانا خون ہی سر توڑ کوشش کرتا رہے۔ الطاف حسین کا نام اس تنظیم سے جڑا رہے گا اور اسی جنون کے ساتھ ۱۱ جون کی تاریخ الطاف حسین سے جڑی رہے گی۔

زندہ رہے نظریہ

بذریعہ فیس بک تبصرہ تحریر کریں

براہ راست ایک تبصرہ برائے تحریر ”گیارہ جون ۔ وہی جنون ۔۔۔ نمرہ شیخ

براہ راست تبصرہ تحریر کریں۔

Your email address will not be published. Required fields are marked *